تحریر: رشیداحمدنعیم
کالم: چشمِ نم
03014033622
rasheed03014033622@gmail.com
امریکی صدر کی وکٹری اسپیچ: حقیقت یا محض بیانیہ سازی؟
مشرقِ وسطیٰ کی خاک و خون میں لپٹی ہوئی حالیہ جنگ جو فروری 2026 کے آخری ہفتے میں اچانک بھڑکی اور دیکھتے ہی دیکھتے ہفتوں تک شعلہ فشاں میدانِ کارزار میں تبدیل ہو گئی۔یہ جنگ اب ایک عارضی جنگ بندی کے سائے میں ضرور آ گئی ہے۔میدانِ جنگ عارضی طور پرخاموش ہے۔اس کشیدہ اور تباہ کن تصادم کے بعد امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے پیش کی جانے والی ”وکٹری اسپیچ“عالمی سیاسی و سفارتی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن چکی ہے۔یہ خطاب عسکری برتری اور حکمتِ عملی کی کامیابی کا اعلان ہے۔امریکی صدر Donald Trump کی”وکٹری اسپیچ“سن کرر اقم الحروف سوچوں میں گم ہے کہ یہ فتح کس پیمانے پر ناپی جا رہی ہے؟یہ کیسی فتح ہے کہ جب فریق ِ ثانی ایران ڈٹ کے کھڑا ہے تو پھر امریکہ کس بنیاد پر جیت کا دعویٰ کررہا ہے؟
کیا امریکہ کووہ تمام اہداف واقعی حاصل ہو گئے جن کے نام پر اس جنگ کی بنیاد رکھی گئی تھی؟
کیا ایران میں سیاسی نقشہ بدلنے کا خواب جسے عالمی اصطلاح میں ”Regime Change“کہا جاتا ہے حقیقت میں ڈھل سکا؟یا پھر زمینی سچائی یہ ہے کہ ایرانی ریاست پہلے سے زیادہ سخت، زیادہ مربوط اور زیادہ مزاحم ہو کر ابھری ہے؟کیا وہ قیادت جسے کمزور کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا مزید ایک علامتِ مزاحمت بن کر سامنے نہیں آ گئی؟
کیا وہ”فیصلہ کن ضربیں“جن کا اعلان ابتدا میں گونج دار لہجے میں کیا گیا تھا واقعی اپنے ہدف تک پہنچ سکیں؟یا پھر وہ ضربیں صرف فضاؤں میں گم ہو کر رہ گئیں اور زمین پر صرف تباہ شدہ عمارتوں، بکھرے ہوئے ملبے اور زخمی چیخوں کی صورت باقی رہ گئیں؟
کیا ایران کی سرزمین پر کسی عملی زمینی قبضے کی بنیاد رکھی جا سکی؟یا یہ پوری جنگ فضائی حملوں، میزائلوں، ڈرونز اور بیانیہ جنگ کے ایک ایسے دائرے میں قید رہی جس کا اختتام اب ایک غیر واضح وقفے پر ہوا ہے؟
دنیا کی معیشت کی نازک ترین شہ رگ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا خواب کہاں گیا؟کیا وہ حقیقت بنا یا پھر آج بھی یہ خطہ ایک غیر یقینی خطرے کے سائے میں سانس لے رہا ہے؟
کیا امریکی اور اتحادی اڈے مکمل تحفظ کے دعوؤں پر قائم رہ سکے؟یا وہ خود جوابی حملوں،دباؤ اور مسلسل خطرات کی زد میں رہے جس نے”مکمل کنٹرول“کے تصور کو کمزور کر دیا؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عالمی اتحاد خصوصاً نیٹو جس کی غیر متزلزل حمایت کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے وہ حقیقت میں کہاں کھڑا تھا؟کیا وہ واقعی ایک متحد تھا؟یا اس صف میں دراڑیں، ہچکچاہٹیں اور سفارتی فاصلے پہلے سے زیادہ واضح ہو گئے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو جذباتی تقاریر کے شور میں دبائے نہیں جا سکتے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ملبے کے درمیان کھڑے ہو کرزخمی زمین کی خاموشی میں اپنے جواب خود مانگتے ہیں کیونکہ راقم الحروف کے نزدیک بنیادی نکتہ یہی ہے اگر اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے تو پھر فتح کا اعلان کس چیز کا ہے؟کیا یہ محض ایک سیاسی اسکرپٹ تھا جو پہلے سے لکھا جا چکا تھا؟یا اسے خفت کے لیے فیس سیونگ کہہ سکتے ہیں؟
کیا یہ داخلی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ایک بیانیہ ہے یا پھر یہ عالمی سطح پر ایک ایسی تصویر کشی ہے جو حقیقت سے زیادہ”تاثر“پر کھڑی ہے؟کیونکہ سچ یہ ہے کہ جنگیں نعروں سے نہیں جیتی جاتیں۔نہ پریس کانفرنسوں سے، نہ ہی میڈیا بیانات سے اور نہ ہی خود ساختہ فتوحات کے اعلان سے بلکہ فتح اس وقت ہوتی ہے جب مخالف مکمل طور پر بے اثر ہو جائے۔فتح اس وقت ہوتی ہے جب میدانِ عمل میں ایک طرف واضح برتری اور دوسری طرف مکمل پسپائی نظر آئے۔فتح اس وقت ہوتی ہے جب دنیا بغیر کسی ابہام کے یہ تسلیم کرے کہ فیصلہ ہو چکا ہے لیکن اگر میدان میں تباہی دونوں طرف موجود ہو، اگر ہر حملے کے جواب میں ردِعمل موجود ہو، اگر ہر دعوے کے ساتھ سوال بھی کھڑے ہوں تو پھر یہ فتح نہیں بلکہ ایک غیر مکمل جنگ کا وقفہ ہوتا ہے اور اس وقفے کی قیمت صرف میزوں پر نہیں لکھی جاتی بلکہ یہ قیمت زمین پر خون سے لکھی جاتی ہے۔ وہ خون جو شہروں کی گلیوں میں خاموشی سے بہا۔وہ چیخیں جو ملبے کے نیچے دب گئیں۔وہ خاندان جو ایک لمحے میں بکھر گئے۔وہ ہسپتال جو زخمیوں سے بھر گئے۔وہ بستیاں جو اجڑ کر نقشے سے غائب ہو گئیں۔
یہ سب محض اعداد و شمار نہیں یہ وہ انسانی حقیقت ہے جسے کوئی بھی”وکٹری اسپیچ“مٹا نہیں سکتی اور دوسری طرف یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ایران نے ایک غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔تمام نقصانات، تمام تباہیوں، تمام دباؤ اور تمام عسکری برتری کے باوجود ایک ایسی استقامت سامنے آئی جس نے طاقت کے روایتی تصور کو ہلا کر رکھ دیا۔کیا یہ سچ نہیں کہ ایک بڑی طاقت کے مقابلے میں کھڑے رہنا بھی ایک تاریخی حقیقت بن جاتا ہے؟کیا یہ سچ نہیں کہ ہر حملے کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا بھی ایک خاموش فتح ہوتی ہے؟کیا یہ سچ نہیں کہ بعض جنگیں جیتی نہیں جاتیں بلکہ صرف برداشت کی جاتی ہیں اور تاریخ انہی برداشتوں کو یاد رکھتی ہے؟اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پوری جنگ ایک نئے سوال میں بدل جاتی ہے کہ کیا یہ واقعی اختتام ہے یا ایک نئے دور کا آغاز؟کیا یہ واقعی فتح ہے یا صرف جنگ بندی کے پردے میں چھپا ہوا ایک غیر مکمل انجام؟اور کیا یہ اعلانِ فتح حقیقت ہے یا صرف ایک ایسی کوشش جس میں حقیقت کو الفاظ کے پیچھے چھپانے کی سعی کی گئی ہو؟یہ سوالات وقت کے ساتھ کم نہیں ہوں گے بلکہ مزید گہرے، مزید سخت اور مزید ناگزیر ہوتے جائیں گے کیونکہ تاریخ ہمیشہ بیانیوں کو نہیں نتائج کو یاد رکھتی ہے اور جب دھول بیٹھ جائے گی، جب شور کم ہو جائے گا اور جب نعروں کی گونج خاموش ہو جائے گی توصرف ایک سوال باقی رہے گاکہ اصل جیت کس کی ہوئی تھی؟اور کس نے صرف اعلان کیا تھا؟
یہ بات بھی تاریخی سچائی کی صورت سامنے آتی ہے کہ اگرچہ اس جنگ نے ایران کو شدید جانی، مالی اور اسٹریٹجک نقصانات دیے، اس کی قیادت بھی قربانیوں کی بھینٹ چڑھی اور اس کے شہر بھی خون اور ملبے
میں ڈوبے رہے لیکن اس کے باوجود جس جرات، جس استقامت اور جس اجتماعی مزاحمت کے ساتھ اس قوم نے ایک بڑی عالمی طاقت کا سامنا کیا وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔یہ وہ مثال بن جائے گی جس کا ذکر آنے والی نسلیں کریں گی کہ کس طرح ایک کمزور دکھائی دینے والا فریق بھی اپنے وجود، اپنی سرزمین اور اپنی خودمختاری کے لیے ایک سپر پاور کے سامنے ڈٹ گیااور دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ طاقت ہمیشہ فیصلہ کن نہیں ہوتی اور مزاحمت ہمیشہ خاموش نہیں رہتی ہے۔
کیا یہ سچ نہیں کہ بعض جنگیں فتح کے تاج نہیں پہنتیں بلکہ صبر کے زخموں سے اپنی پہچان بناتی ہیں؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تاریخ کے اوراق پر وہی معرکے زندہ رہتے ہیں جنہیں تلواروں نے نہیں بلکہ حوصلوں نے برداشت کیا ہوتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ سارا منظر ایک گہرے فکری سوال میں ڈھل جاتا ہے کہ کیا یہ واقعی اختتام ہے یا ایک نئے عہد کی تمہید؟ کیا یہ واقعی فتح ہے یا محض جنگ بندی کے دبیز پردے میں چھپا ہوا ایک نامکمل بیانیہ؟ کیا یہ اعلانِ فتح حقیقت کی روشن دلیل ہے یا الفاظ کے آئینے میں سچ کو دھندلا دینے کی ایک سفارتی کاوش؟
یہ سوالات وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑیں گے بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مزید گہرے، مزید کڑے اور مزید ناگزیر ہوتے جائیں گے۔ اس لیے کہ تاریخ کا حافظہ کمزور نہیں ہوتا وہ نعروں کی بازگشت کو نہیں بلکہ نتائج کی صداقت کو محفوظ رکھتا ہے۔ جب بارود کی بو تحلیل ہو جائے گی، جب گرد بیٹھ جائے گی، جب خطابت کی گونج خاموش ہو جائے گی تب صرف ایک سوال پوری شدت کے ساتھ ابھرے گا کہ اصل فتح کس کے حصے میں آئی؟ اور کس نے محض الفاظ کے سہارے فتح کا دعویٰ تراشا؟ اور پھر تاریخ کے سنجیدہ اور غیر جانب دار کاتب یہ بھی قلم بند کریں گے کہ اگرچہ اس جنگ نے ایران کو ناقابلِ تلافی جانی، مالی اور تزویراتی نقصانات سے دوچار کیا، اس کی قیادت نے قربانیوں کی ایسی قیمت ادا کی جو کسی بھی قوم کے لیے کرب ناک ہوتی ہے اور اس کے شہر ملبے، آنسوؤں اور خون کی سرخ لکیروں میں ڈوبے رہے مگر اس سب کے باوجود جس جرات، جس استقلال، جس عسکری حکمتِ عملی اور جس اجتماعی مزاحمت کے ساتھ اس قوم نے ایک عالمی سپر پاور کے سامنے اپنے وجود کا پرچم تھامے رکھا وہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک چمکتا سورج ہ بن کر ابھرا ہے۔
یہ علامت ہے استقامت کی جسے ایران نے قربانیاں دے کر رقم کیا۔یہ حکایت ہے خودداری کی جسے ایرانی قیادت نے اپنا خون پیش کیا۔یہ داستان اس یقین کی ہے کہ طاقت کا معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ ارادہ بھی ہوتا ہے۔ ایران کی یہ مزاحمت گویا افقِ تاریخ پر طلوع ہوتے اس سورج کی مانند ہے جسے عارضی بادل ڈھانپ تو سکتے ہیں مگر اس کی آب و تاب کو ماند نہیں کر سکتے۔ یہ وہ روشنی ہے جو نہ صرف اپنے دائرے میں بلکہ اقوامِ عالم کے فکری اُفق پر بھی سوالیہ نشان ثبت کرتی ہے کہ کیا عسکری برتری ہمیشہ فیصلہ کن ہوتی ہے؟ کیا عددی قوت ہمیشہ اخلاقی قوت پر غالب آ جاتی ہے؟ یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اوقات کمزور دکھائی دینے والے ہاتھ تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیتے ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کی جرات و استقامت ایک مثال، ایک حوالہ اور ایک علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ایک ایسی مثال جسے دنیا کی بڑی طاقتیں بھی نظرانداز نہیں کر سکتیں کیونکہ یہ جنگ اگرچہ مادی پیمانوں پر ادھوری سہی مگر معنوی سطح پر ایک گہرا نقش چھوڑ گئی ہے۔ یہ نقش بتاتا ہے کہ مزاحمت کبھی مکمل خاموش نہیں ہوتی اور حوصلہ کبھی مکمل شکست نہیں کھاتا۔راقم الحروف کے نزدیک یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ معرکہ کسی ایک فریق کی قطعی فتح کا نہیں بلکہ ایک ادھوری جنگ کا نقشہ ہے۔ایک ایسی جنگ جس میں ایک طرف طاقت کا غرور تھا اور دوسری طرف استقامت کا وقار اور تاریخ جیسا کہ اس کی عادت ہے صرف وقار کو یاد رکھتی ہے
