ای میل:ashfaqahmedqazi@yahoo.com
تحریر: اشفاق احمد قاضی
اللہ پاک کا بے پنا ہ شکر ہے ، میں کٹر قسم کا مسلمان ہوں۔ہر سال کی طرح،اس سال بھی شب ِ قدرکی تیاری انتہائی عقیدت و احترام سے شروع کر نے کیلے آتش بازی کا سامان بازار سے خرید کر لایا۔گھر پر پہنچا تو بیگم جی سے کہا،جلدی سے بہترین سا حلوہ پکا نا۔آبائواجداداور والدین کی بخشیش کیلے فاتحہ پڑھنی ہے۔حلوہ مانڈہ اور ختم بر طعام کا انتظام اچھے اور احسن طریقے سے کرنا کہ یہ مقدس دن کا وقار ہے۔بیگم جی حلوہ پکانے لگیں۔میں نے اپنے شہزادے بچوں کے ساتھ گھر سے باہر گلی میں آتش بازی شروع کر دی۔آتش بازی کی روشنی اور آواز کے بلند ہونے اور دوسرے محلے تک جانے سے بڑے لطف و مزے اور فخر کے پروں پر تیرنے لگا۔یکدم غیبی طاقت نے ہیبت و جلال کے عالم میں میرے دونوں کندھوں کو پکڑ کر میرے بدن کو ساکن کرتے ہوئے اضطراب میں ڈبو دیا۔
میری انکھوں کے پٹ خوف سے مکمل بند ہو گئے تھے۔مجھے محسوس ہو ا ،غیبی طاقت غصہ ،پریشانی کے دبائو میں اپنا ماتھاٹھونکنے لگی اور بولی،خدا کے بندے ؟کیا واحیات ،جاہلوں والی بات کرتے ہوقرآنِ کریم کے ایک ایک لفظ کو غور سے پڑھو اور عمل کرنے کا عہد کرو۔شبِ برات کی رات مسلمان کا بدی،برائی ،گناہوں سے نکل کر متقی ،پرہیز گارسچا پکا مومن بننے کی رات ہے۔شب ِ برات والی رات عشاء کے بعد مصلے پر بیٹھ کر قرآن کریم فرقانِ حمید،حدیث شریف کو غور و فکر سے پڑھ کر عہد و تجدید کی رات ہے کہ کبھی غلطی کوتاہی،لاپرواہی،غفلت نہیں ہو گی۔میرے ساتھ مصلے پر عشاء سے صبح سادق تک بیٹھ جا،اس شب میں نوافل ،تلاوت قرآن ِحمید کا ذکر اور تسبیح اور دعا و استغفار کرنا اور عمل کا حاصل اور اس پر عمل کا عہد و ارادہ کرنا ہی اصل عبادت ہے۔
آج کے بعد نبی آخرالزمانۖکے فرمان کے مطابق عمل سے برائی کا انسداد اور نیکی کا نفاظ ہو گا۔شبِ برات میں نور کو اپنے دامن میں سمیٹ کر عمل کرتے ہوئے نورانی بنانا ہے۔دامن کو حکمت اور دانش کے موتیوں سے بھرنا ہے۔انسان رحمت ا ور کرمِ خداوندی کی طرف راغب ہوتا ہے۔قرآن کریم کے پہلے صفحہ پر لکھا ہے کہ،صراطِ مستقیم پر چلنا ہے۔صفحہ دوم پر لکھا ہے کہ جھو ٹ بولنے والے کیلے درد ناک عذاب ہے۔ہر لمحہ جھوٹ سے بچنا ہے۔پارہ نمبر تین میں لکھا ہے جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں،ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس کے ساتھ سات سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں۔یعنی کہ سات سو گنا اجر و ثواب پاتے ہیں۔پھر قرآنِ حمید کو غور سے پڑھتے جائو،پارہ نمبر چار میں لکھا ہے ،اے ایمان والو صبر کرو،ثابت قدمی میں ذیادہ محنت کرو۔خوب مستعد رہو ،اور تقویٰ قائم رکھو،تاکہ کامیاب ہو سکو۔غیبی طاقت کچھ دیر کیلے رکی اور پھر بولی،دماغ کی تہہ میں سکون و پیار محبت سے بچھا دو۔
ایک دوسرے کا مال آپس میںناحق طریقے سے نہ کھائواور پھر جب نشہ کی حالت میں،نماز کے قریب نہ جائو۔اور دنیا میں ذندگی بلند کرنے کیلے فرمایا گیا کہ،فیصلہ عدل سے کرو۔اپنے بچوں کو بھی بتانا کہ ، ہمیشہ خوشامد سے پرہیز کرو۔خوشامد ،جہالت سے شروع ہوتی ہے اور ندامت پر ختم ہوتی ہے۔جب عمرگزر رہی ہے تو ہر روز بھولنا نہیں کہ کذاب کی صحبت سے پرہیز کرو کہ وہ سراب کی طرح قریب کو بعید اور دور کو نزدیک کر دیکھتا ہے۔نبی اخرالزمان ۖ نے نور کی بارش کرتے ہوئے فرمایا،میانہ روی نصف ایمان ہے،خوش آخلاقی نصف دین ہے۔ایمان صبر اور سخاوت کا نام ہے۔آگے پڑھنا اور عہد عمل کر ناکہ لطف و مسرت کی لذت سے آشنا ہو سکو۔غیبی طاقت رکی اور پھر بولی!آج کی رات علم حاصل کرنے کی عبادت کرنی ہے اور علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد کرنا ہے۔جس نے بھی کو شیش کی وہ کامیاب ہوا۔جو حلال میں شرماتا ہے اللہ رب العزت اس کو حرام میں مبتلا کر دیتا ہے۔دماغ کی تہہ میں بچھا لو کہ،مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہو۔جس نے بھی عجز و انکساری کی،اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کو بلند کر دیا۔بھائی جان یاد رکھانا ،عدل کا ایک لمحہ ستر سال کی عبادت سے بہتر ہے۔جو قوم اپنے کمزوروں کو ان کا حق نہیں دیتی ،اللہ جل ِ شان ھو،ان کو مقدس نہیں بناتا۔آج شبِ برات پر یاد رکھنا،یہی عبادت ہے۔بہترین مومن وہ ہے جس کا آخلاق بلند ہو اور اہل و عیال کے ساتھ مہربان اور بہت پیار و محبت سے پیش آئے۔پھر عبادت کی پہلی منزل خاموشی ہے۔کیونکہ قیامت کے دن سب سے پہلیء اہل و عیال کے نان نقتہ کی بابت ہر حساب ہو گا۔بھائی جان جی، والد کی اطاعت،اللہ کی اطاعت ہے۔والد کی نافرمانی ،اللہ کی نافرمانی ہے۔بیٹیوں کو بتا دو،جس عو رت کا خرچہ کم ہو وہ سب سے مبارک عورت ہے۔بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہو تا ہے۔احساس ،عزت اور تہذیب و تمیز اپنی اولاد میں پیدا کرنی ہے۔خود پسند،خود پرست اور متکبر نہ ہوں۔قناعت لافانی سرمایا ہے۔جب کسی بچے کی شادی کرو ،یاد رکھنا شادی کا کھانا(ولیمہ) برا ہوتا ہے جس میں صرف دولت مند شرکت کریں۔غریب غربامحروم ہوں۔جہاں مہمان نہ آتے ہوں۔وہ گھرانہ منحوس ہوتا ہے۔بزرگوں کے ساتھ برکت ہے۔نسل کیلے اچھے خاندان کو منتخب کریں،کیونکہ عورت اپنے بھائی،بہنوں کی شباہت اپنی اولاد کو دیتی ہے۔اور پھر جس کسی کی شادی کرو اسے طلاق نہ دو کیونکہ طلاق سے پایہ عرش الہیٰ بھی ہل جاتا ہے۔جب آسانی ہو صدقہ دیا کرو۔صدقہ جہنم سے نجات دلاتا ہے۔ایک دوسرے کو معاف کرتے رہو۔غیبی طاقت نے رخصت ہوتے ہوئے کہا،جب تم پڑھو گے ،اس طرح تعلیمات پڑھنے اور ان پر عمل کرنے سے ذندگی روشن اور منور ہو جائے گئی۔میری بات غور سے سنو،چھ چیزوں کا تم عہد کرو،
-
١۔ بات ہمیشہ سچی کرو۔
٢۔عدہ کی خلاف ورزی نہ کرو۔
٣۔امانت میں خیانت نہ کرو۔
٤۔ اپنی انکھوں کو نظر بازی سے دور رکھو۔
٥۔اپنے ہاتھ سے دست درازی نہ کرو۔
٦۔ اپنی عصمت کی حفاظت کرو۔
صبح صادق تک مقدس ترین کتابوںکوپڑھ کر اپنے علم میں مزید اضافہ کرنا ہوگا تاکہ عمل کر سکیںجس سے اچھائی بھلائی میں مزید اضافہ ہو ۔یاد رکھنا! شبِ بارات کی رات اپنے گناہوں کی بخشیش کی دعا لازمی کرنا۔اللہ رب العزت اس کو لازمی قبو ل فرماتے ہیں۔
