رفعت الاسد پر 1982 کی بغاوت کو بزورِ طاقت کچلنے کا الزام ہے،حکام
بیروت ..دو لبنانی سکیورٹی حکام نے بتایاہے کہ معزول شامی صدر بشار الاسد کے چچا رفعت الاسد حالیہ دنوں میں بیروت سے دبئی کے لیے پرواز کر چکے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں ان پر 1982 میں ہونے والی بغاوت کو بروزِ طاقت دبانے کے لیے جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حکام نے بتایا کہ آتھ دسمبر کو الاسد کی معزولی کے بعد سے ان کے خاندان کے کئی افراد بیروت سے دبئی چلے گئے تھے اور دیگر لبنان میں ہی قیام پذیر تھے۔ حکام نے کہا کہ لبنانی حکام کو رفعت سمیت ان لوگوں کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کی درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔لبنانی حکام نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا رفعت یا الاسد خاندان کے دیگر افراد دبئی میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا کہیں اور کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔اسی سال سے زائد عمر کے رفعت، بشار الاسد کے والد اور مرحوم صدر حافظ الاسد کے بھائی ہیں اور انہوں نے ان ایلیٹ فورسز کی قیادت کی تھی جنہوں نے حما شہر میں 1982 کی اخوان المسلمین کی بغاوت کو کچل دیا تھا اور اس میں 10,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2022 میں ایک آزاد نگران گروپ شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق(ایس این ایچ آر)نے الزام لگایا کہ حما میں 30,000 سے 40,000 کے درمیان شہری ہلاک ہوئے تھے۔سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے رفعت الاسد کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں حما میں قتل اور تشدد کے الزامات کے تحت مقدمے کے لیے تفویض کیا ہے۔ یہ اس اصول کے تحت کیا گیا ہے کہ تمام ممالک کو ایسے جرائم پر قانونی کارروائی کرنے کا دائرہ اختیار حاصل ہے۔ الاسد نے الزامات سے انکار کیا ہے۔اس ماہ سوئس عدالتی حکام نے کہا تھا کہ ان کی خرابی صحت کی وجہ سے مقدمے کی سماعت ملتوی ہو سکتی تھی۔1982 کے حما کے حملے کو اکثر نمونہ قرار دیا جاتا ہے جسے بعد میں 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت کے خلاف کریک ڈان کے لیے بشار الاسد نے استعمال کیا۔ جب حزبِ اختلاف کی افواج نے چھے دسمبر کو حما پر قبضہ کیا تو ان کے رہنما احمد الشرع نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس زخم کو صاف کریں گے جو شام میں 40 سال سے بدستور لگا ہوا ہے۔رفعت الاسد نے 1970 میں ایک بغاوت میں اقتدار پر قبضہ کرنے میں حافظ الاسد کی مدد کی اور ان کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں مگر پھر اپنے بھائی کو اقتدار کے لیے چیلنج کیا اور ناکام ہو گئے۔ اس کے بعد جلاوطنی اخیتار کر لی۔وہ سوئٹزرلینڈ، سپین اور فرانس میں رہ چکے ہیں جہاں ایک عدالت نے انہیں 2020 میں شامی ریاست سے منتقل کردہ فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے لاکھوں یورو مالیت کی جائیداد حاصل کرنے کا مجرم قرار دیا۔ 2021 میں وہ شام واپس آ گئے تھے۔لبنانی حکام نے بتایا کہ ان کے بیٹے دورید کی اہلیہ اور بیٹی کو بیروت ایئرپورٹ سے زائد المعیاد پاسپورٹ استعمال کرنے کی کوشش کرنے پر حراست میں لے لیا گیا۔ ان پاسپورٹس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔اس ماہ کے اوائل میں لبنان کے وزیرِ داخلہ بسام مولوی نے کہا تھا کہ الاسد کی ایک اعلی مشیر بوثین شعبان قانونی طور پر لبنان میں داخل ہونے کے بعد بیروت سے باہر پرواز کر گئیں۔ العربیہ کو ایک انٹرویو میں مولوی نے کہا کہ دیگر شامی اہلکار غیر قانونی طور پر لبنان میں داخل ہوئے تھے اور ان کا تعاقب کیا جا رہا تھا۔نگراں وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے پیر کو کہا کہ لبنان شام کے سابق انٹیلی جنس افسر جمیل حسن کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کی درخواست پر تعاون کرے گا جن پر امریکی حکام نے الاسد کے دور میں جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے۔