ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
جمیل الدین عالی کا شمار اردو زبان و ادب کے ان گراں قدر شاعروں، نثر نگاروں، اور محققین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی علمی و ادبی خدمات سے اردو ادب کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی شاعری اور نثر دونوں ہی پاکستانی معاشرت، محبت، اور انسانیت کے جذبات سے لبریز ہیں۔ ان کی شخصیت کا مطالعہ ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر کیا جاتا ہے جو ادب کے ذریعے معاشرتی اور قومی شعور بیدار کرنے کے لیے کوشاں رہے۔
جمیل الدین عالی 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نواب امیر الدین احمد خان اور والدہ سیدہ جمیلہ بیگم خواجہ میر درد کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ خاندانی پس منظر عالی جی کی شخصیت اور شاعری میں تہذیبی رنگ نمایاں کرنے کا سبب بنا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم دہلی کے اینگلو عربی کالج سے حاصل کی اور معاشیات میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔
عالی جی 1947ء میں پاکستان ہجرت کے بعد وہ سول سروس سے منسلک ہوئے اور ریٹائرمنٹ تک مختلف اعلیٰ اہم عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ انجمن ترقی اردو کے ساتھ ان کی وابستگی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں ان کا کردار ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ہے۔
جمیل الدین عالی کی ادبی خدمات مختلف شعبوں تک پھیلی ہوئی ہیں جن میں ان کے ملی نغمے اور قومی شاعری سرفہرست ہے، ان کی شاعری میں گیت، دوہے، غزلیں، اور طویل نظمیں شامل ہیں۔ ان کا مشہور ملی گیت “جیوے جیوے پاکستان” آج بھی قومی جذبے کو جگاتا ہے جسے جنید جمشید اور دیگر ساتھیوں نے گاکر امر کر دیا تھا۔ ان کی غزلوں میں حسن و عشق، انسانی تجربات، اور زندگی کے فلسفے کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ان کی یہ غزل ملاحظہ کیجیئے:
“حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا”
اس غزل میں عشق کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جہاں شاعر کے جذبات کا اتار چڑھاؤ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
شاعری کے ساتھ ساتھ عالی جی نے نثر نگاری میں بھی کافی کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کالم “نقار خانے میں” ادبی و سماجی مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ 1963ء سے 2014ء تک ان کے کالمز مسلسل شائع ہوتے رہے، جو ان کی فکر کی وسعت اور عوام سے وابستگی کا ثبوت ہیں۔
انجمن ترقی اردو کے معتمد کے طور پر ان کی خدمات اردو زبان کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی کوششوں سے اردو یونیورسٹی کا قیام ممکن ہوا ہے۔
آپ نے سفرنامہ نگاری میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے ان کے سفرنامے “دنیا میرے آگے” اور “تماشا میرے آگے” ادبی دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاسکتے ہیں۔
جمیل الدین عالی کی شخصیت میں قومی محبت اور ادب سے عشق کا امتزاج تھا۔ ان کا انداز سادہ، مگر دلکش تھا۔ ان کی شاعری میں جذباتی گہرائی اور فکری بلندیاں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ صرف ایک شاعر یا نثر نگار ہی نہیں، بلکہ ایک معمار تھے جنہوں نے اردو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔
ان کی غزلوں میں عشق و محبت کے ساتھ انسانی رویوں اور فلسفہ زندگی کو موضوع بنایا گیا۔ مثال کے طور پر:
“گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا”
ان کے گیتوں میں ملی جذبے کی شدت نمایاں ہے۔ “ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں” خواتین کی اہمیت اور قومی شناخت کو اجاگر کرتا ہے۔
ان کی طویل نظم “انسان” میں انسانی جذبات اور حالات کی بھرپور انداز میں عکاسی کی گئی ہے، جو ان کے فلسفیانہ رجحانات کی غماز ہے۔
جمیل الدین عالی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز و اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں حکومت پاکستان سے ملنے والے دو شہری اعزازات “ہلال امتیاز” اور “تمغہ حسن کارکردگی” شامل ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جمیل الدین عالی ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اردو ادب کو گیت، غزل، نظم، اور نثر کے میدان میں بے پناہ ادبی سرمائے سے مالا مال کیا۔ ان کی تخلیقات آج بھی اردو زبان و ادب کے طلبہ اور قارئین کے لیے مشعل راہ کے طور پر ہمارے سامنے ہیں۔ ان کی شاعری اور نثر دونوں ہی ان کی شخصیت کی بھرپور انداز میں عکاسی کرتی ہیں، جو ہمیں عشق، وطن پرستی، اور انسانی احساسات کی قدر کرنا سکھاتی ہیں۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے عالی جی کی غزل پیش خدمت ہے۔
*
غزل
*
حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ
کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ اردو، انگریزی اور کھوار زبان میں لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔