اوستا محمد (جہان امروز)بلوچستان میں منتخب نمائندوں وزرا کی کوئی نہیں سنتا ایک کانسٹبل اور کلرک کو بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتے۔بے ساکھیوں کے سہارے حکومت چل رہی ہے۔ایسی خبر کچھ ماہ پہلے چھپی جس پر حکومت میں کھلبلی مچ گئی۔اب یہی بات میر صادق عمرانی صاف کر دیا ۔سیکریٹری ایس اینڈ جی آے ڈی کہنا نہیں مانتا۔
یہی حال رہی بلوچستان حکومت کی تو اس سے بہتر گھر جاکر بیٹھیں۔ 47فارم پر انے والی حکومت میں کوئی جان نہیں جب چاہیں جس وقت چاہیں بے ساکھیوں کو نکالا جا سکتا ہے۔ایسی خبر ایجنسی نیوز کے تحت اخبارات میں شائع ہوئی جس پر وزیر اعلی سمیت سب میں کھل بلی مچ گئی اور کہا گیا ایسی کوئی بات نہیں لیکن گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر صوبائی وزیر نے اسمبلی اجلاس میں واضح کہ دیا کہ سیکریٹری ایس اینڈ جی آے ڈی کسی کا کہنا نہیں مانتا وہ اپنی مرضی چلاتا ۔
گاڑیاں نہیں دیں گھر منسٹروں کو دیے میر صادق عمرانی نے اجلاس سے واک اوٹ کر گئے۔جس کے بعد دوسرے وزیر میر سلیم کھوسہ نے صادق خان عمرانی کی رنجش کو زاتی قراردیا اور ان کی ہر بات کو کنڈم کرار دیا ۔اب ایسے لگتا ہیطکہ بلوچستان اسمبلی میں دیمک لگ گیا اب جب اسے پول کر کے نکالیں ۔
لیکن رپورٹ کے تحت ان منسٹروں کے کہنے پر ایک کانسٹبل یا ایک کلرک کو بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتیبیروکریٹ منسٹروں سے زیادہ طاقت ور ہیں اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے منسٹریاں سیکریٹروں کے حوالے کریں ۔سلیم خان کھوسہ وہ ملازم لگتے ہیں کیونکہ ہر وقت پارٹیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں ان کو کوئی گلا نہیں وہ کہ سکتے ہیں کہ ان کو جو حکم ملے گا وہی کہے گا اور وہی اسمبلی میں پڑھے گا۔