حماس کی ہوشیاری !اسرائیلی مغوی رکھے کہاں تھے؟
برطانوی جریدے Declassified نے دسمبر میں انکشاف کیا تھا کہ برٹش فضائیہ کے جاسوس طیارے بھی اسرائیلی مغویوں کی تلاش کے مشن میں دجالی ریاست کے پہلو بہ پہلو پروازیں کر رہے ہیں۔ Shadow R1 طیارے یومیہ غزہ کی فضا میں 50 بار اڑان بھرتے ہیں۔ مختلف برطانوی طیاروں نے
مجموعی طور پر دجالی قیدیوں کی تلاش میں 16000 پروازیں کیں۔ دجال اکبر امریکا کے طیاروں کی پروازوں کا اندازہ 40000سے زاید ہے۔ دونوں شیطانی ممالک کے طیارے جنوبی قبرض کے اکروتیری بیس سے اڑان بھرتے رہے۔ دجالی قوتوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ جاسوس کتوں کے ذریعے غزہ کا چپہ چپہ چھان مارا
ہر چند دن بعد پمفلٹ گرا کر اہل غزہ کو لالچ دلایا جاتا رہا کہ ہمیں ذرہ اشارہ کرو کہ قیدی کہاں ہیں، 10 ملین ڈالر ہاتھوں ہاتھ وصول کرو۔ تمہارا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ وہ کونسا حربہ تھا، جو آزمایا نہیں گیا؟ وہ کونسی ٹیکنالوجی تھی، جسے بروئے کار نہیں لایا گیا؟ وہ کونسا
مہلک ہتھیار ہے، جسے نہتے شہریوں پر برسایا نہیں گیا؟
غرض اسرائیل نے قیدی اسرائیلیوں کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں، جن میں فوجی اور انٹیلی جنس آپریشنز کے ساتھ ساتھ سفارتی اقدامات بھی شامل تھے۔ ذیل میں ان کوششوں کی مختصر جھلک:
فوجی آپریشنز:
اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی پرمتعدد فضائی اور زمینی حملے کیے تاکہ فلسطینی تنظیموں پر دباؤ ڈالا جا سکے یا قیدیوں کے مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ان کارروائیوں میں ایسی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا جو ممکنہ طور پر سرنگوں یا چھپے ہوئے ٹھکانوں پر مشتمل ہو سکتی تھیں۔
انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی:
اسرائیل نےجدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جن میں ڈرون، جاسوسی آلات، سننے کی ڈیوائسز اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت شامل ہیں، تاکہ قیدیوں اور ان کی قید کی جگہوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس حوالے سے گوگل اور آئی ٹی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں ان کے دست و بازو۔ اس کے علاوہ، زمینی نیٹ ورکساور مخبروں کے ذریعے بھی معلومات جمع کی گئیں۔
میڈیا اور سیاسی دباؤ:
اسرائیل نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی استعمال کیا تاکہ قیدیوں کے مسئلے کو اجاگر کیا جا سکے اور فلسطینی تنظیموں پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی حمایت حاصل کیجا سکے۔
خصوصی آپریشنز:
اسرائیلی ایلیٹ یونٹس جیسے “سیرت میٹکل” نے قیدیوں تک پہنچنے کی خفیہ کوششیں کیں، لیکن ان آپریشنز کی تفصیلات اکثر خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ ان میں ایک آپریشن میں انہیں “بھرپور کامیابی” ملی کہ ان کے ہاتھوں اپنے قیدی مارے گئے۔
ان تمام کوششوں کے باوجود، اسرائیل قیدیوں کی رہائی میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے اسرائیلی معاشرے میں ان اقدامات کی مؤثریت اور بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر شدید بحث و تنقید ہوئی۔
بالآخر وہ گھٹنے ٹیکنے اور جانبازوں کی شرائط مان کر مذاکرات پر مجبور ہوا۔ اساس پر دنیا حیران ہے کہ آخر 14 کلومیٹر کی ننھی سی پٹی میں ان قیدیوں کو رکھا کہاں گیا تھا؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو