دنیا کوکلیئر پیغام ہے فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل غزہ میں دہشت گردی کررہا ہے، حافظ نعیم الرحمن

دنیا کوکلیئر پیغام ہے فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اسرائیل غزہ میں دہشت گردی کررہا ہے، حافظ نعیم الرحمن

اسلام آباد ۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ دنیا کو واضح پیغام دینا چا ہیے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے ۔ اسرائیل فلسطین میں دہشت گردی کررہا ہے ۔ جبکہ باضمیر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ا مریکہ کا ماضی خود داغدار ہے وہ ہمیں جمہوریت نہ سکھائے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا اہل غزہ وفلسطین سے یکجہتی کے لیے ہونے والی انٹر نیشنل فلسطین کانفرنس کانفرنس کے توسط سے دنیا کو غزہ کے مسئلہ کا حل بتائیں گے ۔

فلسطین کا معاملہ پاکستان کے لیے دیگر مسائل کی طرح نہیں ہے ۔ بلکہ فلسطینیوں کو گھروں سے بے گھر کیا جارہا ہے یہ بہت بڑا ظلم اور انسانی تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے ۔ انہوں نے کہا چودہ مئی 1948 کو اسرائیل کا یکطرفہ اعلان کر دیا گیا ۔ حماس کا کام ائسولیشن کا نہیں ہے ۔ اگر حماس سات اکتوبر کو یہ کام نہ کرتی تو فلسطینی قیدی آزاد نہ ہوتے۔ حماس نے اپنا قانونی حق استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے کہا فلسطین کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے ۔ امریکہ کی مزید بربادی ہو گی ۔ وہ ہمیں جمہوریت نہ سکھائے ۔ جس کا ماضی خود داغ دار ہے ۔

امریکہ لمحوں میں لاکھوں انسانوں کو قتل کرتا ہے ۔ یہ ایک دہشت گردملک ہے ۔ انہوں نے کہا دنیا کو کلئیر پیغام دینا چاھیے فلسطین فلسطینیوں کا ہے ۔ اسرائیل فلسطین میں دہشت گردی کررہا ہے ۔ فلسطین کے ساتھ باضمیر کھڑے ہیں ،جتنی استطاعت ہے اتنا تو سچ بولو ۔ انہوں نے کہا ایک لاکھ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا دنیا کی چھٹی سے ساتویں طاقتور فوج کو حماس نے شکت دی ہے ۔ جو لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں وہ سمجھ لیں وہ بدمست کی حمایت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا الجزیرہ کے صحافیوں پر جنہوں نے فیملیاں قربان کرکے اپنے فرائض سر انجام د ئیے ۔ پوری دنیا میں فلسطین موضع گفتگو رہا ہے ۔ امریکہ میں بیس فی صد لوگ حماس کی حمایت کرتے ہیں ۔ فلسطین میں جاری مزاحمت نے انسانیت کا ضمیر جنجھوڑ دیا ہے ۔ انہوں نے حکمرانوں کو واضح پیغام دیتے ہوے کہا امریکہ یا عرب کے سربراہان کے دباؤ میں آکر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ قوم تمہیں عبرت کا نشان بنا دے گی ۔عرب ممالک کے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سراہتے ہوے انہوں نے کہا پوری او آئی سی اور عرب ممالک کھڑے ہو جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فلسطین میں جنگ کا تاوان امریکہ اور اسرائیل ادا کریں ۔

فلسطینیوں کی آواز کو بلند کرنے کے لیے قومی میڈیا کردار ادا کرے ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوے کہا کہ یہ ہماری زندگی کا مسئلہ ہے ۔ جنرل باجوہ کو کشمیر کے معاملے پر وضاحت دینی چا ہیے ۔ ورنہ جنرل باجوہ کا کورٹ مارشل کیا جا ئے ۔ دریں اثنا ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی پاکستان آصف لقمان قاضی نے کہا کہ اہل غزہ وفلسطین سے یکجہتی کے لیے دو روزہ انٹر نیشنل فلسطین کانفرنس جماعت اسلامی کے تحت منعقد ہو رہی ہے۔دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں انٹر نیشنل،قومی،یوتھ،پرائم میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا سیشنزمنعقد ہوں گے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ پرائم میڈیا سیشن کی صدارت کریں گے۔

پرائم میڈیا سیشن سے قومی و بین الاقوامی میڈیا پرسنز،سینئر تجزیہ کار،اینکر پرسنز اظہار خیال کریں گے۔ انٹرنیشنل سیشن میں ملایشیا، ایران، ساوتھ افریقہ، ترکیہ، اردن، موریطانہ سے آئے ہوئے غیر ملکی مندو بین بھی اظہار خیال کریں گے۔ انٹر نیشنل فلسطین کانفرنس کے دوسرے روز بین الاقوامی سیشن کی صدارت آزاد جموں و کشمیر سابق صدر مسعود احمد خان کریں گے ۔ ۔انٹرنیشنل سیشن سے امریکہ، فلسطین، برطانیہ، شام، ڈومینیکا، غزہ، عراق سے آئے ہوئے غیر ملکی مندوبین اظہار خیال کریں گے۔

انٹر نیشنل فلسطین کانفرنس کے قومی سیشن کی صدارت امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کریں گے۔ ایڈیشنل سیشن میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم،سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر علی ظفر،سینیٹررضا ربانی،سینیٹر راجہ عباس ناصر جعفری، جاوید جبار جبکہ ڈیجیٹل میڈیا کے سیشن سے شعیب ہاشمی ودیگر خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا فلسطین کا مسئلہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ او آئی سی کی غیر موثریت اور اسلامی ممالک کے وزیراعظم، صدر کا کردار شرمناک ہے۔

کانفرنس میں ہم مہمانوں کی تجاویز کی مدد سے ایکشن پلان تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔راجہ ظفر الحق نے کہا یواین او اور کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اس ظلم کو روک سکے۔ 61 ہزار سے اوپر لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔فلسطین میں ہسپتال، انفراسٹریکچر سب تباہ ہوچکا۔ اس کے پیچھے بین الاقوامی سازش اور امریکہ کا سابق اور موجودہ صدر ہے۔ انہوں نے کہا فلسطین پر ظلم کو روکنے کے لیے اگر مسلم ملک اکھٹے ہو کر نہیں روکتے تو سب مسلم ملک تباہ ہو جائیں گئے۔

۔ انہوں نے کہا جب اعلان کیا گیا کہ فلسطین والے غزہ سے نکل جا ئیں اور سعودیہ یا مصر یا اردن اپنے علاقوں میں رکھے تو اردن کے بادشاہ نے معذرت کی کہ ہم ان پریشان حال لوگوں کو در بد ر نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا دنیا میں احساس موجود ہے فلسطین پر ظلم ہو رہا ہے ۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کہا برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا آخر کار سورج غروب ہوگیا ۔ نہ سکوت کابل ہوا نہ ہی سکوت غزہ ہوگا۔

دنیا میں با ضمیر لوگ غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نے کہا کہ اقوام متحدہ نے فلسطین کے حق میں جو قرارداد پاس کی ہے ۔ قرارداد پرعملدرآمد کا کوئی طریقہ کار یا اقوام متحدہ ان کی قرارداد پر عمل درآمد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اقوام متحدہ کا دوہرا معیار ہمیشہ مسلم ممالک کے لیے نظر آتا ہے۔ فلسطین کو بھی مسلم ممالک نے تنہا چھوڑ دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں