لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج سمیت مختلف وجوہات سے ٹریفک متاثر
کوئٹہ: بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی بار بار بندش مسافروں اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنی رہی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان کی مختلف قومی شاہراہیں 95 مرتبہ بند ہوئیں، جن میں احتجاجی دھرنے، لاپتہ افراد کے لواحقین کے مظاہرے، لینڈ سلائیڈنگ، شدید بارش، سیلاب، حادثات اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔
بلوچستان کی قومی شاہراہوں کی بندش کی وجوہات درج ذیل ہیں:لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے احتجاجی دھرنے (17 بار)قبائلی و سیاسی احتجاجات (22 بار)شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ (15 بار)ٹریفک حادثات اور سڑکوں کی خراب صورتحال (14 بار)تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے خلاف احتجاج (12 بار)سکیورٹی وجوہات اور فورسز کے آپریشنز (8 بار)دیگر وجوہات (7 بار) کوئٹہ-کراچی شاہراہ (سب سے زیادہ بار بند رہی، تقریبا 30 بار)کوئٹہ-چمن شاہراہ (18 بار بندش کا سامنا)مکران کوسٹل ہائی وے (12 بار متاثر)کوئٹہ-ژوب شاہراہ (10 بار بند ہوئی)تربت-گوادر شاہراہ (8 بار ٹریفک معطل)دیگر اہم شاہراہیں (17 مختلف مقامات پر بندش) مارچ 2024: کوئٹہ-کراچی شاہراہ حب کے مقام پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا، ٹریفک 10 گھنٹے معطل۔
جون 2024: شدید بارشوں کے بعد بیلا اور وندر کے مقامات پر شاہراہ کئی روز تک متاثر رہی۔ستمبر 2024: چمن بارڈر پر تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے خلاف احتجاج، شاہراہ دو دن تک بند۔نومبر 2024: ژوب میں قبائلی جھگڑے کے باعث کوئٹہ-ژوب شاہراہ 24 گھنٹے کے لیے بند۔جنوری 2025: برفباری اور شدید موسم کے باعث مکران کوسٹل ہائی وے اور کوئٹہ-چمن شاہراہ کئی دن تک متاثر۔مسلسل شاہراہوں کی بندش سے نہ صرف عام مسافروں بلکہ تجارتی قافلوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں، ٹرانسپورٹرز اور تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاجی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، ہنگامی صورتحال میں متبادل راستے فراہم کیے جائیں اور شاہراہوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو مشکلات سے نجات مل سکے۔