اسلام آباد.وزارتِ بحری امور کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل میری ٹائم پالیسی ورکشاپ 2025 نے پاکستان کے سمندری وسائل کے تحفظ، بلیو اکانومی کے فروغ، میری ٹائم سیکیورٹی اور عالمی میری ٹائم تعاون کے حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اس ورکشاپ میں حکومتی نمائندے، صنعتکار، بحری ماہرین اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے جہاں نیشنل میری ٹائم پالیسی (NMP) 2025 کے موثر نفاذ اور پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔وفاقی وزیر برائے بحری امور، قیصر احمد شیخ نے ورکشاپ کا افتتاح کیا اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان پائیدار ترقی اور بلیو اکانومی کے فروغ کے ذریعے ملک کو ایک جدید میری ٹائم قوم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی پالیسی کو بین الاقوامی میری ٹائم قوانین، بشمول انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کنونشنز کے مطابق تیار کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان عالمی میری ٹائم سیکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ کے معیارات پر پورا اتر سکے۔ورکشاپ میں پاکستان کی سمندری آلودگی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی بحث کی گئی جس میں MARPOL 73/78 اور بیلسٹ واٹر مینجمنٹ کنونشن پر عملدرآمد کے مزید سخت اقدامات تجویز کیے گئے۔ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صنعتی فضلے کے بہتر انتظام، آف شور فضلہ تلفی کی سخت نگرانی، اور بندرگاہوں پر ڈیجیٹل آلودگی مانیٹرنگ سسٹم کے نفاذ جیسے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔
اس کے علاوہ پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کے 30 فیصد کو میرین پروٹیکٹڈ ایریاز (MPAs) میں شامل کرنے اور نیشنل میرین ڈیزاسٹر کنٹیجنسی پلان (NMDCP) کو مزید مستحکم بنانے کے منصوبے بھی زیر غور آئے۔پاکستان کی بلیو اکانومی کے فروغ کے لیے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں جہاز سازی، آف شور قابل تجدید توانائی، گہرے سمندر کی تحقیق، آبی زراعت اور میرین بائیوٹیکنالوجی جیسے شعبوں پر توجہ دی گئی۔ حکومتی نمائندوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی مرچنٹ فلیٹ کی گنجائش 2047 تک 12 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گوادر پورٹ کو سی پیک کے تحت ایک علاقائی تجارتی مرکز کے طور پر فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا۔
گوادر اور پورٹ قاسم میں جدید جہاز سازی کے یارڈز کے قیام کو ایک اہم حکمت عملی قرار دیا گیا، جو پاکستان کی جہاز سازی اور مرمت کی صنعت کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا اور معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ورکشاپ میں سمندری سیاحت کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی جس میں ماہرین نے پاکستان کے ساحلوں کے لیے بلو فلیگ سرٹیفیکیشن حاصل کرنے، ماحول دوست سیاحت کو فروغ دینے، اور نجی شعبے کو اس میدان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کیں۔
اس کے علاوہ، ساحلی شہروں کے درمیان فیری سروسز کی بہتری اور پاکستان کو ایک عالمی معیار کا میری ٹائم سیاحتی مقام بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ورکشاپ میں پاکستان کی بین الاقوامی میری ٹائم اداروں بشمول آئی ایم او کے ساتھ مضبوط شراکت داری پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ پاکستان عالمی میری ٹائم نیٹ ورکس میں ایک فعال کردار ادا کر سکے۔ علاقائی تجارتی روابط، سمندری سیکیورٹی، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات میں پاکستان کے کلیدی کردار پر بھی زور دیا گیا، جبکہ عالمی سطح پر میری ٹائم پالیسی کے نفاذ میں پاکستان کی قیادت کو مزید مستحکم کرنے پر بات چیت ہوئی۔
نیشنل میری ٹائم پالیسی ورکشاپ 2025 پاکستان کے میری ٹائم شعبے میں اصلاحات، تجارتی مواقع کے فروغ، اور سمندری وسائل کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ وزارتِ بحری امور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پاکستان کی بحری صنعت کو مزید مستحکم کرنے، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے، سمندری وسائل کے تحفظ، اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔