ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ چترال میں دیگر علاقوں کی طرح روحانی عبادات، صبر اور تقویٰ کے جذبات کے ساتھ منایا جا رہا ہے، مگر اس بار چترال کے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ خاص طور پر بالائی چترال میں برف باری کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ وادی تورکھو کے استارو کے مقام پر برفانی اور پہاڑی تودے گرنے کی وجہ سے یہ علاقہ دیگر شہروں سے کٹ چکا ہے، جس سے اشیائے ضروریہ کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ تورکھو کے عوام کو موڑکھو سے ہوتے ہوئے طویل اور دشوار گزار راستوں سے گزر کر سفر کرنا پڑرہا ہے اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں، جس میں قیمتی وقت اور وسائل کا بے پناہ ضیاع ہو رہا ہے۔
گوشت اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ رمضان المبارک میں روزہ داروں کے لیے متوازن اور صحت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے اپر چترال میں چھوٹے اور یاک کے گوشت کا حصول مشکل تر ہو گیا ہے۔ لوئر چترال سے تورکھو گوشت لے جانے کی اجازت نہ ملنے کے باعث یہاں اس کی شدید قلت ہے۔ قصاب اپنی مرضی کے گاہکوں کو خفیہ طور پر چھوٹا گوشت فروخت کر رہے ہیں، جبکہ عام عوام خصوصاً غریب طبقہ مٹن سے محروم ہو گیا ہے۔ دوسری جانب اپر چترال میں راستوں کی بندش کی وجہ سے سبزی اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
چترال میں پبلک ٹرانسپورٹ کی صورتحال بھی قابلِ تشویش ہے۔ مسافر گاڑیوں کے کرایے بے تحاشا بڑھا دیے گئے ہیں اور کرایہ نامہ ابھی تک گاڑیوں میں نمایاں طور پر آویزاں نہیں کیا گیا ہے جس سے عوام کو لُوٹنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ متعلقہ حکام کی خاموشی اور عدم توجہی عوام کے لیے مزید پریشان کن ہے۔
چترال شہر میں رمضان المبارک کے دوران ہوٹلوں کی بندش سے عوام اور سیاحوں کو سحری اور افطاری کے دوران شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مسافروں، بیماروں اور مجبور افراد کے لیے کھانے پینے کا حصول ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ سردی کی شدت میں اضافہ اور موسمی حالات کی خرابی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود مقامی انتظامیہ اور حکومت کی بے حسی افسوسناک ہے۔ ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ غواگئی ٹیکسی اور رکشے والے زیادہ کرایہ وصول کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپر چترال کے راستوں کو فوری کھولا جائے تاکہ غذائی اشیاء اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے۔
گوشت اور سبزی کی ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو مناسب قیمت پر بنیادی خوراک دستیاب ہو۔
پبلک ٹرانسپورٹ، غاگئی ٹیکسی اور رکشے کے کرایے کنٹرول کیے جائیں اور کرایہ نامہ ہر گاڑی میں واضح طور پر آویزاں کیا جائے۔
ہوٹلوں کو مخصوص حالات میں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ مسافروں، بیماروں اور مجبور عوام کو سہولت ملے۔
مقامی انتظامیہ حرکت میں آئے اور گرانفروشی، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔
چترال کے عوام رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں صبر اور استقامت کے ساتھ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر یہ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپر چترال کے عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی اور اضطراب میں اضافہ ہوگا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تحت عملی اقدامات کریں تاکہ رمضان المبارک کا مہینہ حقیقی معنوں میں رحمت اور برکت کا سبب بن سکے۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔