امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ طلبہ تنظیموں کو تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بنانے، منشیات کے خاتمے اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بلوچستان کے موجودہ حالات نفرت، تعصب اور جھگڑوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔وہ جماعت اسلامی بلوچستان کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے.
جس میں صوبائی وزیر انجینئر عبدالمجید بادینی، عبدالمتین اخوندزادہ، زاہد اختر بلوچ، مرتضی خان کاکڑ، بشیر احمد ماندائی، مولانا عبدالکبیر شاکر، نورالدین غلزئی اور دیگر رہنماں نے شرکت کی۔اجلاس میں طلبہ تنظیموں کے درمیان جھگڑوں، منشیات، تعلیمی اداروں میں تعصب، نقل کے رجحان، اور نجی اداروں کی بھاری فیسوں پر غور کیا گیا۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں تصادم اور فرقہ واریت تعلیم کے دشمن ہیں اور ہمیں متحد ہو کر تعلیمی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طلبہ مسائل کے حل کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو ان تنازعات کو حل کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ جماعت اسلامی ہر فورم پر تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی مدد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔