مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر چلنے اور عوامی منصوبوں پر عملدرآمد پر اتفاق

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا مل کر چلنے اور عوامی منصوبوں پر عملدرآمد پر اتفاق

لاہور ..پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مل کر چلنے اور عوامی منصوبوں پر عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے ۔ پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رابطہ کمیٹیوں کا گورنر ہائوس میں مشاورتی اجلاس ہوا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کی، جبکہ دیگر ارکان میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ خاں، خواجہ سعد رفیق، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان شامل تھے جبکہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی زیر قیادت پیپلز پارٹی کے ارکان میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، ندیم افضل چن، علی حیدر گیلانی اور سید حسن مرتضی شامل تھے ۔

چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں دونوں جماعتوں نے مل کر چلنے اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر فوری عمل درآمد پر اتفاق کیا، قائدین نے ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں تسلسل سے اجلاس منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ رابطہ کمیٹیوں کا آئندہ اجلاس 12اپریل کو ہوگا، اجلاس میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے صوبے میں عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان پاور شیئرنگ کے حوالے سے اجلاس کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے مشترکہ طور پر میڈیا سے گفتگو کی۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا کہ پی پی پی پنجاب میں اپنا ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)یا انتظامی افسر لگانا نہیں چاہتی اور صوبائی بیوروکریسی میں ہمارا کوئی گروپ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہونا میرا کام نہیں یہ فیصلہ عوام کا ہوگا، کس نے یہ بات پھیلائی کہ پیپلزپارٹی اپنا ڈپٹی کمشنر یا انتظامی افسران لگانا چاہتی ہے۔سردار سلیم حیدر نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا تو پنجاب کی بیوروکریسی میں کوئی گروپ نہیں ہماری سیاست صرف عوام کے گرد گھومتی ہے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اتحاد ملک کو مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے لیے ہے، آج کی ملاقات میں تحفظات سے بالاتر ہوکر پاکستان کے نظام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ہمارا مسئلہ ملک کو آگے لے کر چلنا ہے تاکہ عوام مطمئن ہو سکیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)کو وفاق کی سیاست کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں آئے اور مسلم لیگ (ن) سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا (کے پی)میں جائے۔

اس موقع پر چوہدری شافع حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو نیشنل سیکیورٹی پلان پر کام کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات دور کرنے کے لیے متعدد اجلاس ہوچکے ہیں۔تاہم10مارچ 2025کو وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی تھی جس میں شہباز شریف نے بلاول کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔وزیرِاعظم ہاس میں ہونے والی ملاقات میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ پنجاب میں پاور شیئرنگ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں