ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
آسی بھوجپوری، جن کا اصل نام محمد اشرف ہے، پاکستان کے ضلع گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں بھوجپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی ولادت 25 ستمبر 1973ء کو ہوئی۔ آسی بھوجپوری نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے اسکول سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم میں ایم اے (اردو)، ایم اے (پنجابی)، اور ایم اے (ایجوکیشن) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کا تعلیمی پس منظر اور عملی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ علم و ادب کے نہایت قدردان اور ادب نواز انسان ہیں۔
آپ کی شخصیت سادگی، خلوص، اور محبت کا مظہر ہے۔ یہ خصوصیات ان کے کلام میں بھی جھلکتی ہیں۔ انہوں نے اپنی پنجابی اور اردو شاعری کے ذریعے معاشرتی، انسانی، اور جذباتی مسائل کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ان کے شعری سفر کا آغاز نوجوانی میں ہوا اور انہوں نے اردو و پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ ان کا اسلوب دلکش، جذباتی، اور پراثر ہے، جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
آسی بھوجپوری کی شاعری میں محبت، ہجر، اور درد کی گہری جھلک موجود ہے۔ ان کے کلام میں محبت کے جذبات کو سادگی اور تاثیر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت کے تمام پہلو، بشمول وصال اور ہجر کی کیفیات، واضح طور پر نظر آتی ہیں مثلاً:
“ہجر کی شب تھی اور ہم تھے
اس کی یاد تھی، بادہ تھا”
آسی کے اشعار میں شاعر نے ہجر کے درد اور اس کے ساتھ جڑے یادوں کے تسلسل کو دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ جذبات کا اظہار ہے، جو قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
ایک اور شعر میں وہ کہتے ہیں:
“آیا جو بھی سما گیا وہ
اپنا قلب کشادہ تھا”
یہ اشعار محبت کے عالمگیر جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ آسی بھوجپوری کا یہ اسلوب انہیں دیگر شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔
ان کی پنجابی نظم ‘ہن اوہ گل نئیں رئی’ بھی اچھی تخلیق ہے۔ آسی بھوجپوری کی پنجابی نظم ‘ہن اوہ گل نئیں رئی’ میں محبت، جدائی، اور دوبارہ وصال کی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔ نظم کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیئے:
“رب سچے نے کرم کمایا
فیر اک واری میل کرایا”
آسی کے یہ اشعار محبت کی امید اور دوبارہ ملاقات کی خوشی کو بیان کرتے ہیں، جو کہ آسی کے شاعرانہ وژن کو نمایاں کرتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آسی بھوجپوری ایک حساس شاعر ہیں جنہوں نے محبت، ہجر، اور انسانی تجربات کو پنجابی اور اردو میں نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں سادگی، خلوص، اور جذباتی گہرائی کی جھلک واضح ہے۔ ان کے کلام میں ہر قاری اپنی زندگی کے تجربات اور جذبات کی جھلک محسوس کر سکتا ہے، جو ان کے فن کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آسی بھوجپوری کا پنجابی اور اردو کلام ان کے الفاظ میں خود ان کے جذبات اور خیالات کا عکاس ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے والے قارئین کو ہمیشہ محبت، درد، اور ہجر کے جذبات کی گہری تفہیم حاصل ہوتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے آسی بھوجپوری کی پنجابی اور اردو شاعری سے اقتباس پیش خدمت ہے۔
*
نظم
ہُن اوہ گل نئیں رئی
کھلی اکھیں خاب میں ویکھے
دُھپے بہہ کے پالے سیکے
چن جہی سوہنی صورت ویکھی
حور بہشتی مورت ویکھی
ہس کے تھوڑا جہا شرما کے
انگلی ہوٹھاں وچ دبا کے
بِٹ بِٹ میرا مونہہ تکدی سی
کجھ کہنے توں اوہ جٙھکدی سی
آئی لو یو ، ڈو یو لو می
میں جد کہیا کہن لگی جی
مڈھ محبت ایتھوں بجھیا
تک تک میرا جی نہ رجیا
آن پیا اک روز وچھوڑا
پیار نہ ہویا ساتھوں تھوڑا
رب سچے نے کرم کمایا
فیر اک واری میل کرایا
یاراں کوئی بات نہ پچھی
اک دوجے دی ذات نہ پچھی
کٹھیاں رہندے ، کٹھیاں بہندے
اک دوجے دے دکھ ساں سہندے
کٹھیاں ہسدے ، کٹھیاں روندے
خوب دلاں دے داغ ساں دھوندے
سارے اوہدے دکھ میں لے کے
سکھ میں اوہدی جھولی پائے
اوہدی سوہنی صورت اُتے
پین نہ دتے غم دے سائے
وچھڑن دا جد ویلا آیا
میرا اوہنے قدر نہ پایا
جس دے دکھ خریدے سن
خشیاں اپنی ویچ کے میں
ایہہ گل کہہ کے چھوڑ گئی
آسی ! ہن اوہ گل نئیں رئی
*
غزل
جاؤں بھول ارادہ تھا
میں بھی کتنا سادہ تھا
جوڑے ہاتھ کھڑی تھی وہ
پاؤں پکڑے جادہ تھا
ہجر کی شب تھی اور ہم تھے
اس کی یاد تھی، بادہ تھا
آیا جو بھی سما گیا وہ
اپنا قلب کشادہ تھا
آسی اس کے قیافے سے
تیرا درد زیادہ تھا