غیرمنتخب نمائندوں کے خلاف زیارت اولسی جرگے کا آئینی پٹیشن اور احتجاجی جلسوں کا لائحہ عمل جاری ہے
فارم 47کے نمائندے عوام کے آئینی، عدالتی اور جمہوری حقوق پر حملہ آور ہیں
زیارت اولسی جرگہ قیمتی جنگلات پر قبضے کی سازش کو ناکام بنانے تک عوامی جدوجہد جاری رہے گی
مسلط نمائندے آئین و عوام دشمن ہیں، ملک کو بدامنی، مہنگائی اور کرپشن میں جھونک دیا گیا،نواب محمد ایاز خان جوگیزئی
زیارت اور ہرنائی کی جنگلاتی زمینوں کی غیر آئینی و غیر قانونی منتقلی کے خلاف زیارت اولسی جرگہ ایک بھرپور عوامی اور قانونی تحریک کے آغاز کا اعلان کر چکا ہے، جسے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت مختلف سیاسی و قبائلی قوتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اور ممتاز قوم پرست رہنما نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے زیارت اولسی جرگے، ضلع ہرنائی کے نمائندوں اور پارٹی کے دیگر رہنماں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زیارت و ہرنائی کے عوام نے فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والی غیر نمائندہ حکومت کی طرف سے مقامی قبائل کی سینکڑوں سال پرانی زمینوں پر شب خون مارنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
نواب ایاز جوگیزئی نے واضح کیا کہ 4 جون 2025 کو زیارت و ہرنائی کے جنگلاتی علاقوں کی ہزاروں ایکڑ زمینات کا سرکاری ریکارڈ میں جس انداز سے انتقال کیا گیا، وہ آئین، عدلیہ اور مقامی روایات سب کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان زمینات پر قبائل کا تاریخی، نسلی اور قانونی حق تسلیم شدہ ہے، جہاں وہ نسل در نسل مال مویشی چراتے، لکڑیاں کاٹتے اور زراعت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حکومت کی اس عمل نے مقامی باشندوں کے اعتماد کو مجروح کیا ہے اور ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 20 جولائی کو زیارت میں ایک تاریخی اولسی جرگہ منعقد ہوا، جس میں سینکڑوں عمائدین اور قبائلی نمائندوں نے شرکت کی اور اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں یکم اگست کو زیارت میں ایک بڑے عوامی جلسے اور مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے حق ملکیت کا پرزور دفاع کیا۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نے فارم 47 کی پیداوار حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی عوامی رائے سے نہیں بلکہ چوری شدہ مینڈیٹ پر قائم کی گئی ہے، جو عدلیہ، آئین، میڈیا اور جمہوریت پر مسلسل حملے کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سمیت مختلف قوانین میں جو غیر آئینی ترامیم کی گئیں، وہ واضح کرتی ہیں کہ اس حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یہ مخصوص طبقے کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن چکی ہے۔نواب ایاز جوگیزئی نے صوبے میں بڑھتی بدامنی، رشوت، لوٹ مار اور سیاسی بے یقینی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن و ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عوامی رائے کی بنیاد پر ایک نئی، حقیقی، نمائندہ حکومت قائم نہ ہو۔پریس کانفرنس کے دوران زیارت اولسی جرگے کی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ:زیارت اور ہرنائی کے عوام عدالت عالیہ میں زمینوں کی منتقلی کے خلاف آئینی درخواستیں دائر کریں گے؛ہرنائی میں بھی زیارت کی طرز پر ایک بڑا اولسی جرگہ، احتجاجی مظاہرہ اور عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا؛زیارت اولسی جرگے اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت دیگر حامی جماعتوں کا اہم اجلاس 11 اگست کو زیارت میں منعقد ہو گا، جس میں آئندہ کے احتجاجی و عدالتی لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔آخر میں نواب ایاز جوگیزئی نے صحافیوں، میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس سے اپیل کی کہ وہ زیارت اولسی جرگے کی آواز کو عوام الناس، مقتدر اداروں اور عالمی برادری تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ مقامی قبائل کے تاریخی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔