شہباز اینڈ کمپنی کو 25 کروڑ کی قوم پر مسلط کیا گیا، عمران خان پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر ہے
پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دے رہی ہے بصورتِ دیگر ملک خانہ جنگی کی طرف جائے گا، محمود خان اچکزئی کا انتباہ
تن یاہو کے خلاف قرارداد پاس کی جائے، اسے عالمی عدالت انصاف میں گھسیٹا جائے
اسلام آباد،کوئٹہ..پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور اپوزیشن الائنس کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی اجلاس میں دھواں دھار خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت، اسپیکر قومی اسمبلی اور آئینی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز اینڈ کمپنی کو پچیس کروڑ کی قوم پر مسلط کیا گیا ہے، یہ ملک ڈوب رہا ہے، عمران خان اس وقت ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہے۔
” ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے خلاف نہیں مگر سب اداروں کو آئینی دائرے میں رہ کر کردار ادا کرنا ہوگا۔محمود اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا، “میرے خیال میں آپ کسٹوڈین آف دی ہاس کی حیثیت کھو چکے ہیں، آپ کی موجودگی میں اراکین کو ایوان سے گھسیٹ کر نکالا گیا۔ آپ نے حلف لیا کہ آئین کی پاسداری کریں گے، مگر کون سا آئین؟ جس کی خود آپ پاسداری نہیں کر رہے۔”ان کا کہنا تھا کہ آئین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ مل کر اس میں شریک ہے، جو افسوسناک ہے۔
“ہماری فوج، شہباز یا نواز شریف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، مگر 26ویں آئینی ترمیم میں آئین کا جنازہ نکالا گیا ہے،” انہوں نے کہا۔قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اچکزئی نے کہا کہ “یہ ایوان کروڑوں پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے، مگر یہاں سے اپوزیشن اراکین کو اٹھا لیا جاتا ہے، ایک کرنل یا جیل سپرنٹنڈنٹ ملاقاتوں سے روکتا ہے، اور کسی نے کچھ نہیں کہا۔”انہوں نے تجویز دی کہ “اب وقت ہے ہم سب توبہ کریں، ایک دوسرے کو معاف کریں اور ایک نئی سیاست کا آغاز کریں جس میں فیصلے یہ ایوان کرے، تمام صوبوں کو ان کے وسائل کا حق دیا جائے۔
“انہوں نے مطالبہ کیا کہ “نیتن یاہو کے خلاف قرارداد منظور کی جائے اور اسے عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔”محمود اچکزئی نے خبردار کیا کہ جس طرح باجوڑ پر چڑھائی کی گئی ہے اس سے خانہ جنگی کا خدشہ ہے، اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری شہباز شریف کی حکومت پر ہوگی۔”خطاب کے دوران سرکاری ٹی وی اور پارلیمنٹ میڈیا کی نشریات بند کر دی گئیں، جس پر بھی اپوزیشن نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اسپیکر نے جواب دیا کہ پروڈکشن آرڈر کا ریکارڈ نکال لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے