اگر بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل رکھنی ہیں تو عوام کو دیے گئے انٹرنیٹ پیکجز کی رقم واپس کی جائے اہلیانِ بلوچستان
کوئٹہ.. بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی بندش پر عوام میں شدید بے چینی اور غصہ پایا جا رہا ہے شہریوں نے حکومت اور موبائل کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی ممکن نہیں تو ان سے وصول کیے گئے انٹرنیٹ پیکجز کی رقوم فوری طور پر واپس کی جائیں۔
اہلیانِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں موبائل انٹرنیٹ بند ہے، جس کے باعث طلبہ، فری لانسرز، کاروباری افراد، صحافی اور عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ تعلیمی سرگرمیاں، آن لائن کلاسز اور دفاتر کا کام ٹھپ ہو چکا ہے، مگر اس کے باوجود انٹرنیٹ پیکجز کے چارجز بدستور جاری ہیں۔
انہوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ ملک کے دیگر حصوں میں معمول کے مطابق خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ بلوچستان کے عوام کو جان بوجھ کر سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے ان کے بقول یہ طرزِ عمل صوبے کے ساتھ ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل انٹرنیٹ بندش سے بلوچستان میں معاشی اور تعلیمی ترقی کی رفتار مزید سست ہو سکتی ہے فری لانسنگ، آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، اور سروسز کی عدم دستیابی نہ صرف موجودہ روزگار کے ذرائع متاثر کرتی ہے بلکہ مستقبل کی ترقی کے امکانات کو بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔
شہریوں نے اعلیٰ حکام اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں، انٹرنیٹ سروسز کی فراہمی بحال کریں، اور جب تک سروسز بند رہیں، تب تک انٹرنیٹ پیکجز کے چارجز منجمد کیے جائیں یا صارفین کو رقوم واپس کی جائیں۔