نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں ریاستی خاموشی اور عدالتی سستی پر تنقید، انصاف کا فوری مطالبہ
کوئٹہ(جہان امروز-نیوز )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستان میں گزشتہ سال کم از کم 405 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بلوچستان کے علاقے ڈیگاری کا افسوسناک واقعہ بھی شامل ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)کی رپورٹ کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے یہ واقعات صرف دیہی یا غریب علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے شہروں اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹیز میں بھی پھیل چکے ہیں۔
ایچ آر سی پی کی ڈائریکٹر فرح ضیا نے بتایا کہ 2016 میں متاثرہ خاندان کو قاتل معاف کرنے کا اختیار ختم کرنے کے باوجود ایسے قتلوں میں کمی نہیں آئی۔پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2024 میں 405 کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی واقعات کو دبایا جاتا ہے یا رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ڈیگاری کیس اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب کوئٹہ کے نواحی علاقے میں بانو بی بی اور احسان اللہ سملانی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی احتجاج ہوا۔ حکام نے چھ ہفتے بعد کارروائی کی۔نیویارک ٹائمز نے اس کیس پر تفصیلی رپورٹ شائع کرتے ہوئے پاکستان میں غیرت کے نام پر جاری قتل و غارت گری، ریاستی خاموشی اور عدالتی سستی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جب تک قانون پر مثر عملدرآمد، پولیس اصلاحات اور معاشرتی شعور میں بہتری نہیں آتی، ایسے قتل جاری رہیں گے۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی نے اس صورتحال کو “سماجی قتلِ عام” قرار دیتے ہوئے تمام قاتلوں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق بلوچستان میں اس وقت دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایسے قتل کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں جن میں سیاہ کاری کے الزام میں مرد و خواتین کو قتل کیا جاتا ہے، اور گزشتہ ایک ماہ میں بلوچستان میں ایسے چھ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
تازہ ترین خبریں اور بلوچستان سے متعلق اپڈیٹس کے لیے جہان امروز-نیوز کے واٹس ایپ چینل پر فالو کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔
https://chat.whatsapp.com/KLUZ6reQF1U91i6vSmkjZQ