کوئٹہ، گوادر، خضدار، تربت سمیت تمام اضلاع میں سیکیورٹی کے نام پر عوام کو مواصلاتی اندھیرے میں دھکیل دیا گیا
تعلیم، کاروبار، میڈیا اور ایمرجنسی سروسز مفلوج، شہری حکومت سے متبادل انتظامات کا مطالبہ کر رہے ہیں
محکمہ داخلہ کی درخواست پر انٹرنیٹ بندش کا فیصلہ، پابندی 31 اگست تک جاری رہنے کا امکان
کوئٹہ(جہان امروز-نیوز )بلوچستان بھر میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس آج پانچویں روز بھی مکمل طور پر بند رہی، جس کے باعث عوام، طلبہ، کاروباری طبقے اور میڈیا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع جن میں کوئٹہ، تربت، گوادر، خضدار، نوشکی، پنجگور، قلات، مستونگ، لسبیلہ، چاغی، آواران، کیچ، واشک، خاران، سوراب، سبی، دکی، ژوب، شیرانی، موسی خیل، کوہلو، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، بارکھان، زیارت، بولان، جعفرآباد، نصیرآباد اور جھل مگسی شامل ہیں، میں تمام موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر بند ہیں۔
مواصلاتی نظام کی بندش سے نہ صرف عوامی رابطہ منقطع ہو گیا ہے بلکہ ایمرجنسی سروسز، آن لائن تعلیم، صحافتی سرگرمیاں اور کاروباری لین دین بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر سیکیورٹی خدشات موجود ہیں تو متبادل حل نکالا جائے، بصورت دیگر سروسز کی بندش سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں محکمہ داخلہ بلوچستان کی درخواست پر بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروسز کو بند کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے اور یہ بندش 31 اگست تک برقرار رہ سکتی ہے۔