تحریر:آغا سفیرحسین کاظمی ،چیئرمین شہدائے وطن میڈیا سیل اے کے زون پاکستان
قارئین کرام ! آزادی کی تعریف مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے، لیکن بنیادی طور پر”آزادی اس کیفیت کا نام ہے جب کوئی شخص، گروہ یا قوم اپنی مرضی سے سوچنے، فیصلہ کرنے، اور عمل کرنے کا اختیار رکھے، بشرطیکہ اس کے اعمال دوسروں کے حقوق اور انصاف کے اصولوں سے متصادم نہ ہوں۔”اسے مزید تین سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے۔اولاََ فردکی آزادی ، کسی انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے، اپنی رائے ظاہر کرنے، اور اپنی پسند کے مطابق عمل کرنے کا حق حاصل ہو۔سماجی آزادی ، ایسا ماحول جہاں کسی فرد یا طبقے کو محض نسل، زبان، مذہب، یا حیثیت کی بنیاد پر دبایا نہ جائے۔قومی آزادی، ایک قوم کا کسی بیرونی تسلط یا جبر سے آزاد ہو کر اپنی سرزمین، معیشت، سیاست اور ثقافت پر مکمل اختیار رکھنا۔یعنی آزادی صرف زنجیریں ٹوٹنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزارنے کا نام ہے۔مگر اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہے کہ یہ آزادی کسی دوسرے کی آزادی سلب نہ کرے۔
پاکستان کی آزادی اس تاریخی واقعے اور عمل کو کہا جاتا ہے جب برصغیر کے مسلمانوں نے برطانوی سامراج اور ہندو اکثریت کی سیاسی بالادستی سے نکل کر ایک الگ خودمختار ریاست حاصل کی، تاکہ وہ اپنی مذہبی، ثقافتی، اور سیاسی شناخت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔یہ آزادی 14 اگست 1947 کو حاصل ہوئی، جب برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ یہ محض جغرافیائی علیحدگی نہیں تھی بلکہ ایک نظریے پر مبنی جدوجہد کا نتیجہ تھی، جسے دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق برصغیر میں مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں، جن کے مذہب، تہذیب، اور طرزِ زندگی میں بنیادی فرق ہے، لہٰذا ان کا ایک ہی ریاست میں رہنا ممکن نہیں۔پاکستان کی آزادی کے بنیادی ثمرات میں اولاََ سیاسی آزادی،سرفہرست ہے۔اس سے مسلمانوں کو اپنی حکومت بنانے اور اپنے قوانین طے کرنے کا حق ملا۔ثانناََمذہبی آزادی کی ضمانت ملی ،جسکے سبب اسلام کے اصولوں کے مطابق اجتماعی و انفرادی زندگی گزارنے کی آزادی ملی۔ثالثاََ ثقافتی و تہذیبی آزادی نصیب ہوئی ،جس سے اسلامی ورثے، زبان اور اقدار کو فروغ دینے کا موقع ملا۔دیکھنا یہ ہے کہ ہمیں جو سیاسی آزادی ملی ۔وہ کیا تھی اور اسکا حشرکیا ہوا؟؟
سیاسی آزادی سے مراد وہ حق اور اختیار ہے جو کسی قوم یا فرد کو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین، اپنے حکمران منتخب کرنے، اور اپنے ملک کے نظامِ حکومت کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے لیے حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم پر کوئی بیرونی طاقت یا غلامی مسلط نہ ہو، اور وہ اپنی معیشت، دفاع، خارجہ پالیسی اور قانون سازی کے فیصلے خود کر سکے۔ پاکستان کی سیاسی آزادی کا سب سے بڑا مطلب یہ تھا کہ برطانوی سامراج اور ہندو اکثریت کی سیاسی بالادستی سے نجات ملے اور مسلمان اپنی مرضی کا آئین اور نظام حکومت قائم کر سکیں۔۔۔۔چنانچہ پاکستان کو 1947 میں جو سیاسی آزادی ملی تھی، اس کا مقصد یہ تھا کہ قوم اپنے فیصلے خود کرے اور حکومتی نظام عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ لیکن آج کے حالات دیکھیں تو سیاسی آزادی اکثر مفادات، کرپشن، خاندانی سیاست، اور طاقت کے کھیل میں محدود ہو گئی ہے۔ عوام کا ووٹ اکثر طاقتور طبقوں کے دباؤ، دولت کے اثر، یا سیاسی جوڑ توڑ کی نذر ہو جاتا ہے۔ حقیقی سیاسی آزادی تب ہوگی جب ہر فرد بلا خوف و لالچ، آزادانہ رائے دہی اور شفاف نظام میں اپنا کردار ادا کر سکے۔سیاسی آزادی کا مقصد یہ تھا کہ عوام اپنی مرضی سے حکمران منتخب کریں، ملک کا نظام شفاف ہو، اور ادارے عوام کے لیے جوابدہ ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاسی میدان اکثر ذاتی مفادات، خاندانی سیاست، اور طاقت کے کھیل کا اکھاڑا بن گیا ہے۔ عوام کا ووٹ اکثر پیسے، دباؤ، یا سازش کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب تک شفاف انتخابی نظام اور قانون کی برابری قائم نہیں ہوتی، سیاسی آزادی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
اگرچہ اسلامی نظریاتی مملکت قرارپایا،جسکا تصوروتشخص ’’دوقومی نظریہ‘‘ہے ،جسکے تحت جدوجہد کی گئی ۔اس لئے مملکت پاکستان میں مذہبی آزادی کی آئینی ضمانت حاصل ہے ۔جبکہ اس حوالے سے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے دوران تحریک اور قیام پاکستان کے بعد بارہا بہت دوٹوک انداز میں واضع کیا تھا کہ مملکت میں بسنے والے مسلمانوں اور غیرمسلم اقلیتوں (ہندو سکھ ،عیسائیوں)کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی ۔ پاکستان ایک ایسے نظرئیے پر بنا تھا جس میں اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی بنیادی مقصد تھا۔چنانچہ مذہبی آزادی اس حق کا نام ہے کہ جسکے تحت ہر فرد اور ہر قوم اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کر سکے، اپنے عقائد کے مطابق عبادات انجام دے، مذہبی شعائر قائم رکھے، اور اپنی نئی نسل کو اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق تربیت دے سکے۔ پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمان بغیر کسی خوف یا پابندی کے اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ اس آزادی نے مسلمانوں کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے مذہبی تہوار، مساجد، مدارس اور اسلامی قوانین کو آزاد فضا میں فروغ دے سکیں ۔ ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اہل تشیع مسلمانوں کومجالس و جلوس ہاعزاداری کے سلسلے میں قیام پاکستان کیساتھ ہی مکمل آزادی حاصل ہوئی ،حناف مسالک میں سے اہلسنت بریلوی مکتب فکر کو جشن عید میلادالنبی ؑ سمیت مذہبی سرگرمیوں میں آزادی ملی ۔جبکہ وقت کیساتھ ساتھ تبلیغی جماعت اور دیگرکو بھی آزادی و آسانی سے استفادہ میسرآیا۔بلاشبہ آج ملک میں مسلمان آزادانہ عبادت کرتے ہیں، مساجد آباد ہیں، دینی مدارس موجود ہیں۔۔۔۔لیکن فرقہ واریت، مذہب کے نام پر تشدد، اور مذہبی عدم برداشت نے اس آزادی کے اصل حسن کو متاثر کیا ہے۔ مذہبی آزادی صرف عبادات کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص دوسرے کے عقیدے کا احترام کرے، جو بدقسمتی سے اب کم نظر آتا ہے۔یوں کہاجاسکتا ہے کہ مذہب پرعمل، علامتی عبادات ،شناخت اورنمودونمائش تک تو باقی ہے ۔حج و عمرہ زیارات پرجانیوالوں میں سبز پاسپورٹ والے نمایاں ہیں ۔عزاداری ،جشن میلاد ،خوبصورت ناموں سے کانفرنسزکے انعقاد کا سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے ۔تبلیغ کیلئے پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دُنیا میں ہمارے قافلے جاتے ہیں ۔اس کے باوجود ہماری زندگیوں میں انفرادی سے اجتماعی سطع تک ایک ’’خلاء‘‘پایا جاتا ہے ۔ آج بلاشبہ مساجد آباد ہیں، اذان کی گونج آزاد فضا میں سنائی دیتی ہے، مگر فرقہ واریت، مذہب کے نام پر نفرت اور عدم برداشت نے مذہبی آزادی کے اصل حسن کو دھندلا دیا ہے۔ اصل مذہبی آزادی تب ہوگی جب ہر شخص اپنے عقیدے پر عمل کے ساتھ دوسروں کے عقائد کا بھی احترام کرے۔
اسلامی نظریاتی مملکت میں ثقافتی و تہذیبی آزادی کی بات کی جائے تو یہاں بھی ہماراتضاد واضع ہے ۔پاکستان کی اسلامی تہذیب کبھی سادگی، مہمان نوازی، غیرت اور اخلاقیات کی پہچان تھی۔ مگر مغربی اثرات، میڈیا کلچر اور مادہ پرستی نے ہماری شناخت کو دھندلا دیا ہے۔ زبان، لباس اور روایات میں غیر ملکی رنگ غالب آ رہا ہے، اور نئی نسل اپنی اصل جڑوں سے دور ہو رہی ہے۔ اپنی تہذیب کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ، ادب اور اقدار کو فخر سے اپنائیں اور انہیں جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کریں۔ثقافتی اور تہذیبی آزادی کا مطلب ہے کہ کوئی قوم اپنی زبان، لباس، ادب، فنون، روایات اور اقدار کو اپنی مرضی کے مطابق پروان چڑھا سکے، اور کسی بیرونی اثر یا جبر کے تحت اپنی شناخت نہ کھوئے۔اور پھر پاکستان کی آزادی نے برصغیر کے مسلمانوں کو اپنی صدیوں پرانی اسلامی تہذیب کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کا موقع فراہم کیا۔ اورمسلمانوں کو ہندو تہذیب کے غلبے سے نکل کر اپنی جداگانہ شناخت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی آزادی ملی۔۔۔۔پاکستان کی اسلامی تہذیب اور ثقافت کبھی سادگی، غیرت، مہمان نوازی، اور اخلاقیات کی پہچان تھی۔مگرآج ثقافتی و تہذیبی آزادی کے بعد بحیثیت مجموعی اسلامی و مشرقی ثقافت و تیب سے بڑی حد تک چھٹکارا پایا جاچکاہے ۔مغرب میں خواتین سکارف لینے ،لباس کو مہذب بنانے کی جانب مائل ہیں تو پاکستانی جمہوری نظام سے نکلنے والے جمہوروں نے کرپشن لوٹ مار کے خمیرسے اپنی نسلوں کومغرب زدہ کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے باقیوں کے لباس بھی سکیڑنے لگے ،چادریں ،دوپٹے سروں سے غائب ہونے لگے ۔اور آج مغربی اثرات، مادہ پرستی، اور میڈیا کلچر نے اس شناخت کو کمزور کر دیا ہے۔ ہماری زبان، لباس، اور روایات میں غیر ملکی اثرات بڑھ گئے ہیں، اور نوجوان نسل اپنی اصل جڑوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اصل تہذیب تب باقی رہ سکتی ہے جب ہم اپنی تاریخ، ادب، اور اقدار کو فخر سے اپنائیں اور آنے والی نسلوں کو اس کی تربیت دیں۔لیکن یہاں اب حالت کافی خراب ہوچکی ہے ۔
قارئین محترم ! سیاسی مہذبی ،ثقافتی و تہذیبی حوالوں سے ہماری جو حالت زار ہے ،اُسکے بعد دیکھا جائے تو ’’بحیثیت مجموعی‘‘ہم اگرازلی دشمن اور دیگردوست نمادشمنوں کے ضررسے بچے ہوئے ہیں ۔اور دُنیا میں باوقارہیں تو اسکا سبب ہمارا نظریاتی و جغرافیائی دفاع ہے ۔آج جبکہ ہم آزادی کو روایتی طورپرمنانے کیلئے متحرک ہیں توسال2025کے پانچویں مہینے کے پہلے عشرے کے دوران برپا ہونیوالا انقلاب(معرکہ حق) ایکبار پھردُنیا میں ہمیں ممتاز کرگیا ہے ۔جسکا کریڈٹ ہمارے دفاعی اداروں کو جاتا ہے ۔ہمارے ملک کے قریہ قریہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کے بھائی ،بیٹے دفاع وطن کرتے ہوئے مختلف محاذوں پر اپنی جانیں نچھاور کررہے ہیں ۔اور پُرامن مضبوط و مستحکم پاکستان کیلئے شب و روز مصروف ہیں ۔بِلاشُبہ ’’رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو‘‘
آج دُنیا بھرمیں پاکستان امن پسند اور صلح جو ملک کے طورپرآگے بڑھنے لگا ہے ۔تمام داخلی کمزوریوں کے باوجود، یہ حقیقت قابلِ فخر ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کی حفاظت میں ہماری مسلح افواج نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ 1948، 1965، 1971 کی جنگوں سے لے کر کارگل اور دہشت گردی کے خلاف آپریشنز تک، پاک فوج نے ہر محاذ پر جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کا دفاع کیا۔ قدرتی آفات میں ریلیف آپریشنز ہوں یا دشمن کی ہر سازش کا مقابلہ، افواجِ پاکستان ہمیشہ قوم کی ڈھال بنی رہیں۔ ہماری آزادی کی جغرافیائی ضمانت آج بھی انہی جوانوں اور افسران کے خون اور قربانیوں سے قائم ہے۔ہمیں علامتی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ سال بھرمیں ایسے اقدامات کرنیکی جانب سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا جس سے خامیاں دُورہوں ۔یہ حقیقت بہرصورت مزنظررکھنا ہوگی کہ پاکستان کی آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو بے شمار قربانیوں، ہجرتوں، اور جان و مال کے نذرانوں کے بعد حاصل ہوئی۔ 14 اگست 1947 کو ہمیں وہ جغرافیائی خطہ ملا جس میں ہم آزادانہ سانس لے سکتے تھے، اپنے فیصلے خود کر سکتے تھے، اور اپنے مذہب، تہذیب اور ثقافت کے مطابق زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن ہم نے آزادی کو سنبھالا نہیں۔جب سیاسی آزادی کمزور ہو، مذہبی آزادی میں برداشت نہ ہو، اور تہذیب و ثقافت اپنی اصل شکل کھو دے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم آزادی کی فیوض و برکات کو پوری طرح حاصل نہیں کر سکے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو خزانہ مل جائے مگر وہ اسے سنبھال نہ سکے۔ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے جسے نسل در نسل مضبوط کرنا ہوتا ہے۔اسکے لئے ضروری ہے دشمنوں کی پروپگنڈہ وارکوبے اثر بنائیں ۔کیونکہ آج پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ کوئی بیرونی فوجی حملہ نہیں بلکہ ایسا زہریلا پروپیگنڈا ہے جو سچ اور جھوٹ کو اس طرح ملا کر پیش کرتا ہے کہ عوام میں محب وطن اور غدار کی تمیز ختم ہو جائے۔ یہ فکری جنگ پاک فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے سے شروع ہوتی ہے اور پہلے سے موجود گروہی، لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ تعصبات کو مزید ہوا دے کر قوم کو تقسیم کرتی ہے۔ مئی
2025 کے پاک-ہند معرکہ آرائی میں پاکستان نے سیاسی، اخلاقی، عسکری اور سفارتی محاذ پر فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، اور ایک نئی طرز کی جنگ کا خالق اور فاتح بن کر ابھرا۔ اس کے بعد باہر سے کوئی دشمن براہِ راست چھیڑ چھاڑ کی ہمت نہیں کر سکتا، مگر خطرہ یہ ہے کہ اندرونی صفوں میں وہی پرانی کمزوریاں ، تعصب، تنگ نظری، اور تقسیم ، اب بھی موجود ہیں، جنہیں استعمال کر کے دشمن ہمیں اندر سے کمزور کر سکتا ہے۔یاد رہے کہ یہ آزادی لاکھوں قربانیوں، جانوں کے نذرانے، اور بے مثال ہجرتوں کے بعد ملی۔ لیکن آزادی کا مطلب صرف آزادی حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے برقرار رکھنا، اس کے مقاصد پورے کرنا، اور اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانا بھی ہے۔مگرکیا ہم نے آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی کوششوں و کاوشوں کے ثمرات سے استفادہ کرتے ہوئے ’’دوقومی نظریہ ‘‘کیساتھ وفاداری کا عملی مظاہرہ کیا؟؟؟اگرجواب ناں میں ہے جوکہ زمینی حقائق کے تناظرمیں ’’ناں‘‘ہی ہوسکتا ہے تو پھرمحسوس ہونا چاہیے کہاں کھڑے ہیں ؟
ان الفاظ کیساتھ موضوع سمیٹنا ہے کہ آزادی ایک امانت ہے۔ اس کی حفاظت صرف فوج کے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ قوم کے کردار، اتحاد، اور اپنے مقصد سے وفاداری سے بھی ہوتی ہے۔تمام داخلی کمزوریوں اور پروپیگنڈے کے طوفان کے باوجود، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود اور دفاع آج بھی پاک فوج کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت محفوظ ہیں۔ جنگ کے میدان سے لے کر دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، اور قدرتی آفات میں ریلیف کاموں تک، افواجِ پاکستان نے ہمیشہ قوم کی ڈھال کا کردار ادا کیا ہے۔ مگر آج ضرورت ہے کہ قوم اپنی افواج کے ساتھ فکری اور اخلاقی صف میں بھی یکجان ہو۔ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو دور کریں، اپنی آزادی کو مضبوط کریں، اور اس پاکستان کو وہی مضبوط و باوقار ریاست بنائیں جس کا خواب ہمارے آبا نے دیکھا تھا۔سیاسی آزادی اس وقت ادھوری ہے جب عوام کی رائے حقیقی معنوں میں طاقت کا سرچشمہ نہ بنے، نظام شفاف نہ ہو، اور فیصلے چند طاقتور ہاتھوں میں محدود ہوں۔ مذہبی آزادی کے باوجود فرقہ واریت، عدم برداشت اور مذہب کے نام پر تشدد اس کے حسن کو گہنا دیتے ہیں۔ تہذیب و ثقافت میں مغربی اثرات، مادہ پرستی اور روایتی اقدار سے دوری نے ہماری شناخت کو کمزور کیا ہے۔ جب یہ تینوں پہلو کمزور ہوں تو آزادی اپنی اصل روح سے محروم ہو جاتی ہے۔ آج، آزادی کو برقرار رکھنے کا سب سے بڑا امتحان محاذِ جنگ پر نہیں بلکہ ذہنوں اور بیانیوں کی جنگ میں ہے۔آزادی اب صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں بلکہ ذہنوں کو محفوظ رکھنے کا نام ہے۔ اگر ہم پروپیگنڈا، جھوٹ اور تعصب کے جال سے خود کو آزاد نہ کر سکے تو دشمن کو گولی چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی صفوں کو اندر سے مضبوط کریں، اپنے بیانیے کو سچائی، اتحاد اور حب الوطنی پر استوار کریں، اور آزادی کی اس امانت کو آنے والی نسلوں تک مزید مضبوط کر کے پہنچائیں۔