پانی کے چینل کی صفائی میں مصروف افراد پر مٹی اور پتھروں کا بھاری تودہ گر گیا، 8افراد جاں بحق،4افراد زخمی
سانحہ میں جاں بحق افراد کونماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیاگیا،نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی
اگر مقامی حکومت بھاری مشینری سے چینل پر کام کرتی تو صرف دو دن میں پانی کی سپلائی بحال ہو سکتی تھی ،عوامی حلقے
گلگت (جہان امروز-نیوز)گلگت سے متصل دنیور منوگہ نالے میں دلخراش اور انتہائی المناک حادثہ-پانی کے چینل کی صفائی میں مصروف افراد پر مٹی اور پھتروں کا بھاری تودہ گر گیا -8افراد ہلاک جبکہ 4 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے دو کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے . دنیور کی فضا سوگوار اہلیان علاقہ غم میں ڈھوب گئے -جان لیوا حادثہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات پونے دو بجے اس وقت پیش آیا جب مقامی لوگ اپنی ہزاروں کنال سوکھتی زمین کو سیراب کرنے کے لئے بیس دن پہلے آنے والے سیلا ب سے تباہ ہونے والے چینل پر کام کر رہے تھے-
اسی اثنا میں بالائی جگہ سے ہزاروں من وزنی تودہ پندرہ سے زائد لوگوں پر آ گرا جس کے نیچے وہ لوگ دب گئے اہلیان علاقہ اور ریسکیو 1122 نے فور ی طور پر ریسکیو کی کاروائیاں شروع کی اور ملبے تلے دبے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو نکالا -ہلاک ہونے والوں کے نام پیار علی،نیک عالم،آدم علی،اظہار الدین، آفاق،دلدار حسین اور آزر خان بتائے جارہے ہیں جبکہ عزیز امین اور انور شدید زخمی ہیں جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ دو کم زخمی افراد کو ابتدائی طبعی امداد کے بعد ان کے گھروں کو بھیج دیا گیا –
اس سانحہ میں جاں بحق افراد کونماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیاگیا-نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی-اس پرسوز سانحے کے بارے میں دنیور کے لوگوں نے کہا ہے کہ ہم نے گزشتہ بیس دنوں سے کوئی حکومت نہیں دیکھی ہے اور نہ ہی کوئی نام نہاد عوامی نمائدے نے اس مشکل وقت میں ان کے لئے آواز اٹھائی ہے -سانحہ حکومت کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے اگر مقامی حکومت بھاری مشینری سے چینل پر کام کرتی تو صرف دو دن میں پانی کی سپلائی بحال ہو سکتی تھی –