بلوچستان میں آج سے 16 اگست تک بس اور ٹرین سروسز معطل، سفر مفلوج

بلوچستان میں آج سے 16 اگست تک بس اور ٹرین سروسز معطل، سفر مفلوج

فلائٹ کرایوں میں 3 سے 4 گنا اضافہ، عام شہریوں کے لیے سفر مشکل ،حکومت سے زمینی راستے بحال کرنے اور کرایوں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ(جہان امروز-نیوز )بلوچستان میں 12 سے 16 اگست تک تمام بین الصوبائی بس سروسز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں جبکہ ٹرین سروسز بھی اسی مدت تک معطل رہیں گی، جس کے باعث شہریوں کو دوسرے صوبوں تک زمینی سفر تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔ اس وقت صرف فضائی راستے سے سفر ممکن ہے، تاہم ہوائی جہاز کے کرایے معمول کے مقابلے میں تین سے چار گنا بڑھ چکے ہیں، جس نے عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے اسلام آباد کے لیے فلائٹ کرایے 30 ہزار سے 35 ہزار روپے، کراچی 25 ہزار سے 30 ہزار روپے اور لاہور کے لیے 28 ہزار سے 33 ہزار روپے تک پہنچ گئے ہیں، جب کہ معمول کے دنوں میں یہ کرایے 6 سے 10 ہزار روپے کے درمیان ہوتے تھے۔ ایئرلائنز کی جانب سے دستیاب نشستیں بھی محدود ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی میں سفر کرنے والے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

عوام اور سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر زمینی اور ریلوے سروسز بحال کی جائیں، ہوائی کرایوں کو ریگولیٹ کیا جائے اور مشکل حالات میں گھرے مسافروں کے لیے متبادل انتظامات یا سبسڈی دی جائے تاکہ بلوچستان کے شہری سفری بحران سے نکل سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں