بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ 6 اگست سے بندلاکھوں شہری متاثر31 اگست تک پابندی برقرار رہے گی
صوبے کی نصف سے زائد آبادی صرف موبائل ڈیٹا پر انحصار کرتی ہے
لینڈ لائن صارفین صرف 70 ہزارتجارتی، تعلیمی اور طبی سرگرمیاں بری طرح متاثر
انسانی حقوق کمیشن کی تنقیدبلوچستان اسمبلی میں تحریکِ التوا جمع، انٹرنیٹ بحالی کا مطالبہ
دہشت گرد تھری جی و فور جی استعمال کرتے ہیںفری لانسرز، طلبہ، آن لائن بزنسز اور فوڈ ڈیلیوری سروسز کا کام ٹھپ،حکومت کا موقف
کوئٹہ(جہان امروز-نیوز )بلوچستان کے تمام 36 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ (تھری جی اور فور جی)سروسز 6 اگست سے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند ہیں، جس سے لاکھوں افراد آن لائن سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پابندی 31 اگست تک برقرار رہے گی۔وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ دہشت گرد اپنے رابطوں کے لیے تھری جی اور فور جی استعمال کرتے ہیں، اس لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کا پہلے ہی 60 فیصد رقبہ انٹرنیٹ کوریج سے محروم ہے، جبکہ مستونگ اور ڈیرہ بگٹی جیسے اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ پہلے سے ہی مستقل طور پر معطل ہے۔
صوبے کی ڈیڑھ کروڑ آبادی میں تقریبا 85 لاکھ موبائل صارفین ہیں، جن میں سے نصف سے زائد صرف موبائل ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ لینڈ لائن انٹرنیٹ صارفین کی تعداد صرف 70 ہزار ہے۔انٹرنیٹ بندش نے فری لانسرز، تاجر، فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز اور گھر بیٹھ کر آن لائن کاروبار کرنے والی خواتین کو شدید متاثر کیا ہے۔ بیرون ملک کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے والے فری لانسرز کے پراجیکٹس منسوخ یا معطل ہو گئے ہیں۔ فری لانسر شازیہ خان کے مطابق بلوچستان میں بیشتر خواتین گھر سے ہی روزگار کما رہی تھیں مگر اب یہ ذریعہ بھی بند ہو گیا ہے۔
فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں کے سیکڑوں رائیڈرز کی آمدنی صفر ہو چکی ہے۔ رحمت اللہ، جو دو سال سے فوڈ پانڈا میں بطور رائیڈر کام کر رہے تھے، کا کہنا ہے کہ ان کا پورا گھر اسی آمدنی پر چلتا تھا اور اب اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ آن لائن کھانے کا کاروبار کرنے والی خواتین بھی آرڈرز نہ ملنے سے پریشان ہیں۔طلبہ بھی موبائل انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے پڑھائی اور امتحانات کی تیاری میں مشکلات کا شکار ہیں۔ آواران کے طالب علم زبیر بلوچ کے مطابق وہ گاں سے کوئٹہ تیاری کے لیے آئے تھے مگر اب یہاں بھی نیٹ بند ہونے سے تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
تاجر طبقہ موبائل بینکنگ اور آن لائن پیمنٹ سسٹمز کی معطلی سے پریشان ہے، جبکہ آن لائن میڈیکل کنسلٹیشن اور ٹیلی میڈیسن سروسز بھی بند ہو گئی ہیں۔انٹرنیٹ بندش پر انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے نائب صدر حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے کہا کہ انٹرنیٹ اب بنیادی انسانی حق ہے، اور اس کی بندش شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ میں اس اقدام کے خلاف تحریکِ التوا جمع کرائی گئی ہے، جس میں فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ترجمان حکومت بلوچستان نے کہا کہ فیصلہ عارضی ہے لیکن دہشت گردی کے خطرات کی صورت میں پابندی طویل بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جان انٹرنیٹ سے زیادہ قیمتی ہے، اور یہ اقدام اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔