بلوچستان ہائی کورٹ نے لوڈشیڈنگ، زائد بلوں اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر رپورٹ طلب کرلی
کوئٹہ(جہان امروز- نیوز)بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، زائد بلوں اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس محمد ایوب ترین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بدھ کو آئینی درخواست کی سماعت کے دوران نیپرا سمیت تمام فریقین کو ہدایت دی کہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بجلی کی فراہمی، لوڈشیڈنگ کے دورانیے اور بجلی پیدا کرنے کے ذرائع کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔
سماعت کے آغاز پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر نے انرجی اینڈ پاور سمیت دیگر اداروں کی جانب سے جواب داخل کرایا۔ درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان کے کئی دور دراز علاقوں میں اب بھی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے، بعض اضلاع میں کئی دنوں تک بجلی فراہم نہیں کی جاتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ہزاروں ٹیوب ویلز کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے سے تقریباً 600 میگاواٹ بجلی کی بچت ہو رہی ہے، جو اگر گھریلو صارفین کو فراہم کی جائے تو لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
عدالت نے نیپرا حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ کوئلہ، گیس، پیٹرول اور دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار کا مکمل ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرایا جائے۔ سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔
تازہ ترین خبریں اور بلوچستان سے متعلق اپڈیٹس کے لیے جہان امروز-نیوز کے واٹس ایپ گروپ پر فالو کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔
https://chat.whatsapp.com/KLUZ6reQF1U91i6vSmkjZQ