کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 78 واں یوم آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں 78 واں یوم آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا

بلوچستان اسمبلی اور ہائی کورٹ میں شایان شان پرچم کشائی، 21 توپوں کی سلامی اور خصوصی دعائیں

سیکیورٹی ہائی الرٹ، دفعہ 144نافذ، 36 اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

کوئٹہ(جہان امروز-نیوز )کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں 14 اگست کو پاکستان کا 78واں یوم آزادی شایان شان اور قومی و ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ حکومت کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ دن کا آغاز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوا، جس کے بعد نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔یوم آزادی کے سلسلے میں کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر اضلاع میں مرکزی اور مقامی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی کے سبز و کشادہ لان میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پرچم کشائی کی۔ بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی پرچم کشائی کی تقریب ہوئی جس کی صدارت چیف جسٹس روزی خان بڑچ نے کی۔ مختلف سرکاری اداروں، سکولوں اور کالجوں میں بھی پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔

سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا جن میں یوم آزادی کے حوالے سے خطاب کیے گئے اور ملک کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر 14 اگست کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا اور فوجی بینڈز، ملی نغموں اور قومی ترانوں کے ذریعے عوام میں حب الوطنی کے جذبے کو ابھارا گیا۔یوم آزادی کے موقع پر بھارتی جارحیت کے خلاف “بنیان المرصوص” آپریشن کی کامیابی کا بھی جشن منایا گیا۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، پولیس، ایف سی اور دیگر اداروں کے اہلکار مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ کوئٹہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی، جس کے باعث بڑے اجتماعات اور ہجوم پر پابندی عائد کی گئی۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے 36 اضلاع میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ ڈیٹا بھی مکمل طور پر بند رہا تاکہ عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں