بھارتی فٹبال فیڈریشن کو 3 سال میں دوسری بار فیفا سے معطلی کا سامنا

بھارتی فٹبال فیڈریشن کو 3 سال میں دوسری بار فیفا سے معطلی کا سامنا

کھیل (جہان امروز- نیوز)ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے مطالبہ کیا ہے کہ آل انڈیا فٹبال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) 30 اکتوبر تک نیا آئین نافذ کرے ورنہ اسے معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن کی جانب سے اس مطالبے کے بعد بھارت کو 3 سال میں دوسری بار عالمی فٹبال فیڈریشن (فیفا) کی جانب سے معطلی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

فیفا اور اے ایف سی نے آل انڈیا فٹبال فیڈریشن کے صدر کلیان چوبے کو ایک مشترکہ خط لکھا جس میں آئین کو حتمی شکل دینے اور منظور کرنے میں مسلسل ناکامی پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا گیا۔

خط میں کہا گیا ’اگر اس شیڈول پر عملدرآمد نہ ہوا تو ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ معاملے کو فیفا کے متعلقہ فیصلہ ساز ادارے کے سپرد کیا جائے‘۔

خط مزید کہا گیا کہ اے آئی ایف ایف کو اس خط پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اسے اپنی رکنیت محفوظ رکھنے کے لیے فوری عملدرآمد کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ اے آئی ایف ایف کا آئین 2017 سے بھارت کی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

اگر فیفا کی جانب سے بھارتی ٹیم کو معطل کیا گیا تو بھارت کی قومی ٹیمیں اور کلب تمام بین الاقوامی مقابلوں سے باہر ہوجائیں گے۔

فیفا نے اس سے پہلے اگست 2022 میں بھی بھارت کو ’تیسری پارٹی کے اثر و رسوخ‘ پر معطل کر دیا تھا جب سپریم کورٹ نے اے آئی ایف ایف کے امور چلانے کے لیے ایک کمیٹی مقرر کی تھی، تاہم یہ پابندی چند روز بعد ہٹا دی گئی تھی جس کے بعد موجودہ صدر کلیان چوبے کے انتخاب کی راہ ہموار ہوئی۔

بھارت کی اعلیٰ سطح کی کلب فٹبال اس وقت انتشار کا شکار ہے جب کہ انڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل) کے ختم ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اے آئی ایف ایف اور اس کے کمرشل پارٹنر کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

علاوہ ازیں، موجودہ سیزن کے آغاز میں تاخیر ہو چکی ہے جب کہ ہزاروں کھلاڑیوں اور عملے کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔

اے آئی ایف ایف اور آئی ایس ایل چلانے والی کمپنی فٹبال اسپورٹس ڈویلپمنٹ لمیٹڈ کے درمیان معاہدہ 8 دسمبر کو ختم ہو رہا ہے اور ابھی تک اس کی تجدید نہیں ہوئی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں