کوئٹہ(جہان امروز- نیوز )صوبائی دارالحکومت میں سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی عدم دستیابی کے بعد ایک اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق شہر کے کئی علاقوں جیسے نواکلی، خروٹ آباد، پشتون آباد، پشین، کان مہترزئی، خنائی اور بابا میں اتائی ڈاکٹروں کے کلینکس پر سرکاری مہر لگی ادویات، خاص طور پر انجیکشنز اور ڈرپس، غیر قانونی طور پر دستیاب ہیں، جو بظاہر ہسپتالوں سے نکالی گئی ہیں۔
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ہسپتالوں کے درجہ چہارم کے ملازمین اس غیر قانونی سپلائی میں ملوث ہیں جو ادویات کو کلینکس میں فروخت یا سپلائی کرتے ہیں۔
عوامی اور سماجی حلقوں نے اس عمل کو بدترین کرپشن اور انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے اور ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری انکوائری کمیٹی قائم کی جائے، ملوث افراد کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے اور ادویات کی ترسیل و تقسیم کا نظام شفاف بنایا جائے تاکہ عوام کو ان کا حق میسر آ سکے۔