pic nni 05

حکومت سے ناراضگی اور گلے شکوے اپنی جگہ مگر ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا ، میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ(جہان امروز-نیوز ) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت سے ناراضگی اور گلے شکوے اپنی جگہ مگر ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا نوجوانوں کو قریب لانے کے لیے میرٹ، بہتر طرز حکمرانی اور ڈائیلاگ کو فروغ دینا ہوگا

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یورپی یونین کے تعاون سے پی پی اے ایف اور آئی سی ٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی، مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، ، مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید بلوچ مشیر برائے ماحولیات نسیم الرحمن ملاخیل بھی شریک تھے

وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دو سو ارب روپے کے محدود ترقیاتی بجٹ سے پاکستان کے 43 فیصد رقبے پر مشتمل صوبہ بلوچستان کی ترقی کو آگے بڑھانا ایک کٹھن عمل ہے عالمی ڈویلپمنٹ پارٹنرز اور وفاقی حکومت کی معاونت کے بغیر صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنا ناممکن ہے انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں پہلا کلائیمنٹ اور ویمن اکنامک امپاورمنٹ انڈومنٹ فنڈ قائم کر دیا گیا ہے جس سے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ ملے گا اور ماحول دوست منصوبوں کو تقویت ملے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ماضی میں بیڈ گورننس اور کرپشن کے باعث نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے پیدا ہوئے تاہم اب حکومت اس خلا کو پر کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

نوجوانوں کی ترقی اور انہیں معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے یوتھ پالیسی تشکیل دی گئی ہے جبکہ روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے بلا سود قرضہ پروگرام کے تحت 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کو بی آر ایس پی اور پارٹنرز کے ساتھ مل کر چلائیں گے ریکوڈک اور سیندک سمیت عالمی سرمایہ کاری کے نتیجے میں وسائل میں اضافے کے بعد اس شعبے پر مزید سرمایہ کاری کی جائے گی وزیر اعلی نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پر آبادی کا غیر معمولی دبا بڑھتے ہوئے مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ اس دبا کو کم کرنے کے لیے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سہولیات فراہم کرنے کا عمل تیز کیا جا رہا ہے انہوں نے واضح کیا کہ سڑکوں کی کشادگی کے نام پر زمینوں کی مہنگے داموں خرید و فروخت کے پرانے طریقے اب مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے عوام کو بہتر اور معیاری طرز زندگی فراہم کریں اور گڈ گورننس کے قیام کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے غیر ترقیاتی بجٹ سے 14 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے جو حکومت کی کفایت شعاری کا عملی ثبوت ہے وزیر اعلی نے کہا کہ نوجوان ہماری حکومت کی توجہ کا مرکز ہیں اور بہتر طرز حکمرانی کے ذریعے ان کا اعتماد بحال کیا جائے گا

وزیر اعلی نے صوبائی وزرا کے ہمراہ سمال گرانٹ کے تحت لگائے گئے مختلف کاروباری اسٹالز کا معائنہ بھی کیا اور نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی تقریب سے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “جی آر اے ایس پی (GRASP) کے تحت فراہم کی جانے والی ہر گرانٹ اور قرضہ چھوٹے پیمانے کے کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے یہ کاروباری ادارے نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ مقامی پیداوار میں قدر کا اضافہ کر کے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ درست معاونت کے ساتھ چھوٹے کاروبار پورے معاشروں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے نے دیہی سطح کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ اور بلوچستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مدد ملی ہے انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے چیف آف سیکٹر اینڈ انٹرپرائز کومپیٹینس مسٹر رابرٹ اسکنڈمور نے اپنے خطاب میں کہا کہ “جی آر اے ایس پی” نے بلوچستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) بشمول کسانوں کو مضبوط روابط کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑ دیا ہے اس اقدام سے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے کس طرح بڑے پیمانے پر پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے تقریب کے اختتام پر وزیر اعلی بلوچستان نے مختلف منتخب کاروباری افراد کو گرانٹس کے چیک بھی دئیے جبکہ مہمانوں کو سوئینر دئیے گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں