پاکستان کی جانب سے افغانستان پر فضائی حملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے، سفارتی ماہرین

پاکستان کی جانب سے افغانستان پر فضائی حملہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ہے، سفارتی ماہرین

اسلام آباد (جہان امروز- نیوز)سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت پر پاکستان کو بھارت کے خلاف ایف اے ٹی ایف میں بات کرنی چاہیے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف افغان حکومت کے اقدامات کے حوالے سے انہیں افغان طالبان حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں۔

خیال رہے کہ 27 اگست کو پاکستان نے افغانستان کے ننگرہار اور خوست میں تحریکِ طالبان پاکستان اور حافظ گُل بہادر گروپ کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ اس کے بعد افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ دیا۔ افغان وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں 3 سویلین جاں بحق اور سات زخمی ہوئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی افغان خودمختاری کے منافی ہے اور اس کے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

افغانستان کے سفارتی احتجاج کے بارے میں سوال کے جواب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم بھی اس طرح کے احتجاجی مراسلے دیتے رہتے ہیں، یہ معمول کی بات ہے۔ انہوں نے 20 اگست کے اپنے دورہ کابل اور پاکستان، افغانستان، چین سہ فریقی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے طالبان حکومت کو باور کرایا کہ ہمارے تحفظات ٹی ٹی پی سے متعلق ہیں جبکہ چین نے ای ٹی آئی ایم کے بارے میں اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ اس پر طالبان حکومت نے مزاحمت نہیں کی بلکہ یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں، جن میں انہیں سرحد سے دور لے جانا بھی شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان حکام نے پاک۔افغان سرحد کے ساتھ 700 چیک پوسٹیں ختم کر دی ہیں۔

سال 2025 کے آغاز میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے، خصوصاً پاکستان کے ان فضائی حملوں کے بعد جو افغانستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان کے مبینہ ٹھکانوں پر کیے گئے۔

اس سے قبل 2024 کے اوائل میں بھی پاکستان نے خوست اور پکتیکا میں اسی نوعیت کے حملے کیے تھے۔ افغان طالبان نے ان حملوں کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ ان میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا۔

تاہم تعلقات میں بہتری کا آغاز 19 اپریل کو اس وقت ہوا جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کابل کا پہلا دورہ کیا۔ اس کے بعد مئی میں بیجنگ میں پاکستان، افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی، جس میں تعلقات بہتر بنانے اور تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ 20 اگست کو تینوں ممالک کے درمیان کابل میں ایک اور سہ فریقی مذاکرات بھی ہوئے۔

گزشتہ ہفتے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر ہم افغان حکام سے مسلسل بات کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا بنیادی تحفظ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے ثبوت بھی دیے، لیکن طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں