صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا طویل انتظار بالآخر ختم ہونے والا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جون 2026 کے دوسرے ہفتے میں کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول جاری کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یہ انتخابات 2022 سے التوا کا شکار ہیں اور شہریوں میں مقامی سطح پر بنیادی مسائل کے حل کی شدید خواہش موجود ہے۔
کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ضلع کوئٹہ کونسل کے انتخابات نہ صرف شہر کی صفائی، پانی، سڑکوں اور شہری سہولیات بلکہ مقامی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اہم ہیں۔ تاہم، ماضی کی طرح سیاسی اختلافات، عدالتوں کی مداخلت اور انتظامی مسائل اس بار بھی انتخابات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
کوئٹہ میں بلدیاتی نظام کی بنیاد 19ویں صدی میں رکھی گئی تھی۔ 2010 میں اسے میٹروپولیٹن کارپوریشن کا درجہ دیا گیا۔ 2022 میں بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بلدیاتی انتخابات ہوئے، مگر کوئٹہ میں حلقہ بندیاں، ووٹر لسٹس اور قانونی مسائل کی وجہ سے یہ التوا کا شکار رہے۔
دسمبر 2025 میں الیکشن کمیشن نے 28 دسمبر کو پولنگ کا شیڈول جاری کیا تھا، مگر سرد موسم، ووٹر لسٹس کی عدم تکمیل اور سیاسی جماعتوں کی درخواست پر بالآخر عدالت اور الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو مؤخر کر دیا۔ اب مئی 2026 کے آخر میں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں جون 2026 میں نئے شیڈول کا امکان پیدا ہوا ہے۔
موجودہ صورتحال
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن بلوچستان کے صوبائی الیکشن کمشنر علی اصغر سیال کی نگرانی میں تیاریاں جاری ہیں۔ کوئٹہ میں تقریباً 172 یونین کونسلوں اور 641 وارڈز پر انتخابات متوقع ہیں۔ پچھلے شیڈول کے مطابق ہزاروں امیدوار میدان میں تھے، جن میں سے 2400 سے زائد جنرل سیٹوں پر الیکشن لڑنے والے تھے۔
سیاسی جماعتوں کی طرف سے تیاریاں زوروں پر ہیں۔ پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنے امیدواروں کی فہرستیں تیار کر رہی ہیں۔ جبکہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی متوقع ہے، جو پچھلے بلدیاتی انتخابات کا خاصہ رہی ہے۔
شہریوں کے اہم مسائل جیسے ناقص نکاسی آب، پانی کی شدید قلت، کوڑا کرکٹ کا انبار، ٹریفک کا بدترین نظام اور صحت و تعلیم کی سہولیات کی عدم دستیابی انتخابات کا مرکزی موضوع بننے والے ہیں۔
چیلنجز
کوئٹہ بلدیاتی انتخابات کے سامنے کئی بڑے چیلنجز موجود ہیں:
سیکیورٹی صورتحال: بلوچستان میں مجموعی طور پر حساس ماحول ہے۔ کوئٹہ شہر میں دہشت گردی کے خطرات، قبائلی تنازعات اور سیاسی جھڑپیں انتخابات کے شفاف انعقاد میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
ووٹر لسٹس اور حلقہ بندیاں: نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں مکمل کرنے اور درست ووٹر لسٹس تیار کرنے میں وقت درکار ہے۔
سرد موسم اور لاجسٹکس: دسمبر میں ہونے والے انتخابات سردی کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ جون میں گرمی کا مسئلہ سامنے آ سکتا ہے۔
مالی اور انتظامی وسائل: بلدیاتی اداروں کو کافی فنڈز اور اختیارات کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نئے منتخب نمائندوں کو مؤثر کام کرنے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے تعاون درکار ہوگا۔
عوامی توقعات
کوئٹہ کے شہری طویل عرصے سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر مسائل کا حل وفاقی اور صوبائی حکومتوں تک پہنچانے کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام ناگزیر ہے۔ نوجوان نسل روزگار، صفائی اور جدید شہری سہولیات چاہتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ انتخابات شفاف اور بروقت ہوئے تو نہ صرف مقامی جمہوریت مضبوط ہوگی بلکہ شہر کی ترقی میں بھی تیزی آئے گی۔
نتیجہ
کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات بلوچستان کے دارالحکومت کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ الیکشن کمیشن، صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف، امن پسند اور بروقت انتخابات یقینی بنائیں۔
روزنامہ جہان امروز کا مؤقف ہے کہ کوئٹہ جیسے تاریخی اور اہم شہر کو منتخب نمائندوں کی فوری ضرورت ہے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو تمام رکاوٹوں کو دور کر کے جلد از جلد انتخابات کروانے چاہییں تاکہ شہریوں کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں اور مقامی سطح پر حقیقی جمہوریت کا فروغ ہو۔
