فارمیشن کمانڈرز کانفرنس

نفرت اور معاشرتی تقسیم کے بیج کا معاشرے سے خاتمہ ناگزیر ہے

تجزیہ بی این پی
معاشرہ میں سوشل میڈیا کے ذریعے زہراگلنے، جھوٹ، نفرت اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے کا معاشرے سے خاتمہ ناگزیرہوچکا ہے،سیاسی اور مالی فوائد کی خاطر جعلی خبریں پھیلانے والوں کی نشاندہی کرکے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ذاتی مفاد کیلئے معصوم شہریوں کو ایک دوسرے کے خلاف لا کھڑا کرنے اور تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہارآرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی زیرصدارت منعقدہ 84 ویں دو روزہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں کیا گیا۔اعلامیے کییہ الفاظ سوشل میڈیا کے بے مہار آزاد اور منفی استعمال کی طرف ایک واضح اشارہ ہیں،جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ کانفرنس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ زہر اگلنے،جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کے بوئے گئے بیج کی بیخ کنی کیلئے موثر قانون سازی کرکے اس پر عمل درآمد کرائے۔ملک کو درپیش بیرونی اور اندرونی خطرات کے تناظر میں کانفرنس کے شرکا کوموجودہ مجموعی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،جس کا اہم ترین پہلو فی الواقع سوشل میڈیا ہی ہے،جس پر ہر خاص وعام کو حاصل آزادی اظہار رائے کے اچھے اور برے پہلو ہیں۔ کانفرنس میںملکی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے،غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈائون اور دہشت گردی اور جرائم کا گٹھ جوڑ ختم کرنے میں حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔کانفرنس میںبی ایل ایمجید بریگیڈ سمیت بلوچستان میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی گئی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے دشمن قوتوں کے ایما پر کام کرنے والے افراداوران کے سہولت کاروں اور حوصلہ افزائی کرنیوالوں کو بے اثر کرنے کا عزم کیا گیا۔دہشت گردوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے بے دریغ استعمال پر تشویش ظاہر کی گئی اور اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیاور یہ کہ دونوں برادر اسلامی ملکوں کے حق میں ہے کہ وہ دوطرفہ فائدہ مند روابط پر توجہ مرکوز کریں۔کانفرنس کے شرکا نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سماجی اور اقتصادی ترقی کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت اور کشمیری عوام کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی اور غزہ میں جاری مظالم کی پرزور مذمت سمیت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کا ایجنڈا کثیرالجہتی نوعیت کا حامل ہے تاہم ملک میں افراتفری اور بے چینی پیدا کرنے کیلئیبعض گروپوں کی طرف سے جو مذموم کوششیں ہورہی ہیں،انھیںسامنے لانا حالات کا ناگزیر تقاضا ہے۔بلا شبہ سوشل میڈیا صحت مند سرگرمیوں کے فروغ اورمثبت اظہار رائے کی ا?زادی کاموثر ذریعہ ہیتاہم معاشرہ اور اس کی صحت مند اقدارکے فروغ میںاس کا استعمال اخلاقیات کے ساتھ اجتماعی اور انفرادی سطح پرتعمیری ہونا چاہئے۔ ریاستی اداروں کے خلاف گزشتہ چند ماہ سے جاری مذموم پروپیگنڈے میں ملوث افراد کی نشاندہی کیلئیچند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے دس رکنی ٹاسک فورس قائم کی ہے، تاہم اس کا کینوس وسیع ہونا چاہئیاور پاکستانی معاشرے میں جو منفی تبدیلیاں اور رویے دیکھے جارہے ہیں ،عدم برداشت،اشتعال انگیزی،گالم گلوچ کی سیاست کی انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر حوصلہ شکنی ضروری ہے ۔۔
پاک فوج کی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس نے اعلیٰ سطح کے غیرملکی وفود کے تحفظ کی خاطر وفاقی دارالحکومت میں پاک فوج کی تعیناتی پر کیے جانے والے بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بعض سیاسی عناصر کے مذموم عزائم کے تسلسل کا عکاس ہے،اِس کا مقصد پاکستان کے عوام، مسلح افواج اور اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا ہے،ایسی مذموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، ضروری ہے کہ حکومت بے لگام غیر اخلاقی آزادی اظہارِ رائے کی آڑ میں زہر اْگلنے،سیاسی اور مالی فوائد کے لیے جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے والوں کے خلاف نہ صرف سخت قوانین اورضوابط بنائے بلکہ اْن پر عملدرآمد بھی کرائے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرکے زیر صدرات جمعرات کو جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں دو روزہ 84ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کور کمانڈ روں اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈروں کے علاوہ پرنسپل سٹاف افسروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے کے مطابق فورم نے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے، غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن،دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے میں حکومتی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بی ایل اے مجید بریگیڈ سمیت بلوچستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کی ایماء￿ پر کام کرنے والے دہشت گردوں، اْن کے سہولت کاروں اور اْن کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بے اثر کیاجائے گا۔ فورم نے دہشت گردوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے بے دریغ استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہمسایہ ملک کا اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا اْس کے اپنے مفاد میں ہے۔فورم نے بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ فورم نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں مظالم کی شدید مذمت کی اور فوجی جارحیت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قانونی اقدامات کی حمایت کی۔ فورم نے ملک کے امن و استحکام کے لیے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں اور اسلام آباد کے حالیہ پْرتشدد مظاہروں میں جامِ شہادت نوش کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے دی گئی 24نومبر کی فائنل کال کے نتیجے میں ہونے والے مظاہرے کے دوران سری نگر ہائی وے پر رات گئے رینجرز کے تین اہلکاروں کو گاڑی تلے کچلے جانے کے علاوہ پولیس کے ایک اہلکار کو بھی شہید کر دیاگیا تھا۔اِن شہادتوں کے بعد اسلام آباد میں فوج طلب کر کے انتشاریوں اور شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے واضح احکامات جاری کر دیے گئے تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بلایا اور اْسے وفاقی دارالحکومت کے کسی بھی علاقے میں اَمن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کرفیو لگانے کے اختیارات بھی تفویض کیے۔ وزیر داخلہ نے 26 نومبر کو میڈیا سے بات چیت میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے مظاہرے کے دوران سکیورٹی فورسز کے 100 سے زائد اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک تھی۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے ڈی چوک پہنچنے کی فائنل کال اْس دن کے لیے دی گئی تھی کہ جب بیلا روس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچ رہا تھا جبکہ بیلا روسی صدر نے اگلے روز پاکستان پہنچنا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انتظامیہ کو احتجاج کی اجازت نہ دینے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ احتجاج کے خلاف دائر تاجروں کی درخواست پر دیا تھا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ بیلاروس کے صدر نے پاکستان آنا ہے، حکومت کا احتجاج سے متعلق بنایا گیا حالیہ ایکٹ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، اِس کی خلاف ورزی میں اسلام آباد میں کسی احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اجازت ملنے پر احتجاج کیا جاسکتا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے پی ٹی آئی کو ڈی چوک کے بجائے سنگجانی جانے کی پیشکش کی جس کے بارے پہلے خبریں آئی تھیں کہ پی ٹی آئی کے بانی نے یہ آفر مان لی ہے تاہم بعدازاں مظاہرین نے ڈی چوک کی طرف مارچ جاری رکھا۔ مظاہرے کو لیڈ کرنے والے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا (کے پی کے) علی امین گنڈا پور اور بانی پی ٹی آئی کی زوجہ بشریٰ بی بی ڈی چوک کی طرف بڑھتے رہے تاہم حکومت کی جانب سے آپریشن شروع کیے جانے پر کارکنان کو چھوڑ کر مانسہرہ چلے گئے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے اْن کے ریلی چھوڑ کر چلے جانے پر شدید تنقید بھی کی گئی تاہم وزیراعلیٰ نے اگلے روز پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی حکومت پر پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنوں کو شہید کرنے کا الزام لگا دیا، پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں 278شہادتوں کا دعویٰ کیا جس کے بعد سوشل میڈیا اور میڈیا پر سینکڑوں شہادتوں کو لے کر شدید بحث چِھڑ گئی،پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے بعدازاں 12افراد کی شہادت کا دعویٰ کیا۔ حکومت نے مختلف مواقع پر اِن دعوؤں کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے کسی ایک کارکن کی شہادت بھی نہیں ہوئی کیونکہ مظاہرے کے دوران کسی سکیورٹی اہلکار کے پاس جان لیوا اسلحہ تھا ہی نہیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو منتشر کرنے لیے کیے گئے آپریشن میں صرف ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی شہادت تاحال معمہ ہے،اِس کی طرف سے بھی شہادتوں سے متعلق ٹھوس ثبوت تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ حکوت کی طرف سے بھی اْن ناموں کی تحقیق یا تفتیش کر کے حقیقت عوام کے سامنے نہیں لائی گئی جن کے نام پی ٹی آئی نے دیے تھے، اِسی وجہ سے یہ بحث آج بھی جاری ہے۔ اصولی طور پر پی ٹی آئی کی طرف سے اْن تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے تھی جنہوں نے سینکڑوں شہادتوں کے دعوے کیے کیونکہ پھر پارٹی کو اِن کی تردید کرنا پڑی۔ شہادتوں کے اِن متضاد دعوؤں کو لے کر عوام میں آج بھی بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ سچ سامنے آیا ہی نہیں۔ منفی پراپیگنڈے کا توڑ سچ ہی ہوا کرتا ہے اور یہ جتنا جلد سامنے آ جائے اْتنا ہی بہتر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں