ڈاکٹر مقبول منظر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر مقبول منظر کی غزل کا تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

ڈاکٹر مقبول منظر اصل نام مقبول احمد خان ہے۔ 5 جنوری 1963 کو ضلع پلاموں انڈیا میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو زبان و ادب کے ایک ممتاز اسکالر، شاعر، اور نقاد ہیں، جو انڈیا کے جی این ایس ایم کالج، گڑھوا میں شعبہ اردو کے صدر ہیں۔ انہوں نے اردو ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں، اور ان کی تحقیق کا موضوع “اردو زبان و ادب کے فروغ میں پلاموں کا حصہ” ہے۔ 1981 میں شاعری کا آغاز کرنے والے ڈاکٹر مقبول منظر مختلف اصنافِ سخن جیسے حمد، نعت، منقبت، غزل، نظم، قطعات، رباعیات، دوہے اور ماہئے وغیرہ میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی اہم تصانیف میں انوارِ معرفت (نعتیہ مجموعہ)، چھاؤں مرے حصے کی اور روشن دریچے (غزلوں کے مجموعے) شامل ہیں۔ تحقیق و تنقید میں ان کی کتاب “پلاموں اور نثری ادب” نمایاں ہے۔”پلاموں میں اردو شاعری ” زیر اشاعت ہے۔ ان کے کئی مجموعے زیرِ ترتیب ہیں، جن میں سیرِ مدینہ (نعتیہ مجموعہ) اور برف کے شعلے (غزلیں) تری یاد کا گھنا سایہ ” (غزلیں نظمیں) دیو ناگری میں قابل ذکر ہیں۔ وہ مختلف ادبی اداروں سے انعام یافتہ ہیں اور آل جھارکھنڈ و بہار کے مشاعروں کے علاوہ آن لائن مشاعروں میں بھی بھرپور شرکت کرتے ہیں۔
ان کی زیر تبصرہ یہ غزل ان کے فنی کمال، تخلیقی وسعت، اور زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ان کے گہرے مشاہدے کی عکاس ہے۔

غزل کے اشعار زندگی کے تلخ و شیریں تجربات، امید و ناامیدی کے امتزاج، اور انسانی جذبات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔
ان کی شاعری میں رنج و آلام کا بھی ذکر ملتا ہے جیسے:
“رنج و آلام سے بے حال وہ کر جائے گا
بیچ آنگن میں جو خورشید ٹھہر جائے گا”
ڈاکثر مقبول اپنے اس شعر میں انسانی زندگی میں مشکلات کے تسلسل اور ان کے عارضی ہونے کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ خورشید (سورج) کے استعارے کے ذریعے شاعر نے یہ پیغام دیا ہے کہ ہر مشکل وقت گزر جانے والا ہے۔
شاعر کبھی عشق کے تیر کی بات کرتا ہے تو کبھی رگٍ جان کی بات کرتا ہے مثلاً: “عشق کا تیر اگر سوئے نظر جائے گا
خامشی سے وہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا”
اس شعر میں عشق کی گہرائی اور اس کی خاموش تاثیر کو بڑے ہی نازک انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ شعر محبت کی لطیف اور خاموش لیکن گہری نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ان کے اشعار میں خریدار اور بازار دونوں کا ذکر ملتا ہے جیسے:
“طے کریں گے یہ خریدار ہی معیارِ ہنر
فن کے بازار میں جب دستِ ہنر جائے گا”
یہاں شاعر نے فن کے قدردانوں اور اس کے معیار پر بات کی ہے۔ یہ شعر معاشرتی رویوں پر ایک تنقید بھی ہے، جہاں فن کی قدر کا تعین خریداروں کی پسند پر ہوتا ہے۔
شاعر کبھی نامرادی کی بات کرتا ہے تو کبھی امید کا ذکر بھی کرتا ہے وہ نا امید نہیں بلکہ پُر امید ہے۔ مثلاً:
“نامرادی کا شجر اُگنے نہ دینا دل میں
خواب آنکھوں ہی میں اُمید کا مَر جائے گا”
یہاں شاعر نے دل میں امید کے چراغ روشن رکھنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ ناامیدی کا شجر خوابوں کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر مقبول منظر کی غزل میں کلاسیکی اردو شاعری کے عناصر موجود ہیں، لیکن ان کا انداز جدید موضوعات اور اظہار کی انفرادیت سے مزین ہے۔
ان کی شاعری میں استعارے اور علامتیں بھی شامل ہیں۔ غزل میں “خورشید”، “رگِ جاں”، “تلخیِ وقت”، اور “بحرِ آلام” جیسے استعارے استعمال کیے گئے ہیں، جو اشعار کو گہرائی اور معنویت بخشتے ہیں۔
شاعر کی زبان میں سادگی کے ساتھ ساتھ روانی بھی ہے۔ اشعار میں سادہ زبان استعمال کی گئی ہے، جو قاری کو فوراً اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ کیجئے۔
“اتنی سرگوشی نہ کر بادِ بہاراں کی طرح
مثلِ گلتاب مرا دل بھی نکھر جائے گا”
ردیف اور قافیہ کا حسن اپنی مثال آپ ہے جو موسیقیت پیدا کرتا ہے اور اشعار کو یادگار بناتا ہے۔
غزل میں منتخب بحر اشعار کی روانی اور اثر انگیزی میں اضافہ کرتی ہے۔

ڈاکٹر مقبول منظر کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو ان کی جمالیاتی حس ہے۔ ان کے اشعار زندگی کی خوبصورتی، انسانی جذبات، اور کائنات کے اسرار کو ایک منفرد زاویے سے پیش کرتے ہیں۔
شاعر دن کے سورج کے ساتھ ساتھ شام کا بھی ذکر کرتا ہے مثال کے طور پر:
“جلوۂ تاب لئے لاکھ ہے رُخ پر سورج
شام سے قبل ہی وہ لَوٹ کے گھر جائے گا”
اس شعر میں شاعر زندگی کے عارضی پہلو کو خوبصورتی کے ساتھ بیان کرتا ہے، جہاں روشنی اور اندھیرا دونوں کا اپنا کردار ہے۔
ان کی شاعری میں خوش گمانی کا عنصر بھی نظر آتا ہے جیسے:
“سامنا ہوگا جب آئینے سے اُس کا منظر
خوش گمانی کے فلک سے بھی اُتر جائے گا”
اس شعر میں شاعر نے خود شناسی اور حقیقت پسندی کی اہمیت کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔

ڈاکٹر مقبول منظر کی یہ غزل ان کے فکری گہرائی، فنی مہارت، اور جذباتی وسعت کا عکاس ہے۔ ان کے کلام میں کلاسیکی اور جدید رجحانات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کے اشعار قاری کو زندگی کی حقیقتوں، انسانی تعلقات کی نزاکتوں، اور امید و ناامیدی کے درمیان جھولتے جذبات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

ڈاکٹر مقبول منظر کی شاعری اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ان کی غزل نہ صرف فکری طور پر مضبوط ہے بلکہ فنی اعتبار سے بھی قابلِ ستائش ہے۔ یہ غزل زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتی ہے اور قاری کے دل میں امید اور روشنی کی کرن پیدا کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں