598 مدارس کا رجسٹریشن نہ کرانے کا انکشاف، چیک لگا دیا،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم

598 مدارس کا رجسٹریشن نہ کرانے کا انکشاف، چیک لگا دیا،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم

اسلام آبا د:ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کی جانب سے رجسٹریشن نہ کرانے کا انکشاف ہوا ہے،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مدارس نے رجسٹریشن سے صاف انکار کر دیا ہے ۔598مدارس پر چیک لگا دیا ہے ،ان کے درسی نظام یا نصاب میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے ۔قومی اسمبلی کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس ڈاکٹر ناظم الدین زاہد لکھوی کی صدارت میں ہوا جس میں مدارس ریفارمز اور رجسٹریشن کا معاملہ کمیٹی میں زیر بحث آیا،ڈائریکٹر مذہبی تعلیم ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سمور نے کمیٹی کو بتایا کہ جیسے ہی ہم نے رجسٹرین شروع کی تو مدارس نے رجسٹریشن سے انکار کر دیا،ہمارا جن مدارس سے معاہدہ ہوا بغیر کسی وجہ بتائے انہوں نے رجسٹریشن سے انکار کر دیا،مسٹر اور مولانا کا فرق ختم ہونا چاہیے،598 مدارس میں ہم نے چیک لگایا ہے ،مدارس کی رجسٹریشن کیلئے ہمیں بلوچستان اور کے پی کے میں سب سے زیادہ مسائل پیش آرہے ہیں ،وہاں کے مدارس رجسٹریشن نہیں کروانا چاہتے ،مدارس کے درس نظانی یا انکے نصاب میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے ،ان مدارس کی رجسٹریشن ضروری تھی جہاں مائنڈ واشنگ ہوتی تھی اور انہیں خود کش بمبار بناتے تھے،یہ ایکٹ پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے،آرڈنینس اگر پارلیمنٹ پاس کر دے تو ہمارے لئے رہنمائی ہوگی،بیرون ممالک کے سٹوڈنٹ بھی مدارس میں زیر تعلیم ہیں انہیں بھی دیکھنا ہے تاکہ وہ ہمارے سفیر بنیں،1760 مدارس مختلف بورڈز سے الحاق کر چکے ہیں،40 ہزار سے زائد مدارس ہیں،18164 مدارس ملک بھر سے ڈائریکٹیوریٹ جنرل ریلجس ایجوکیشن سے رجسٹر ہوچکے ہیں ،1608 بیرون ممالک کے طلباء مدارس میں تعلیم حاصل کرنے پاکستان میں ہیں ،ممبر کمیٹی اسلم گھمن نے استفسار کیا کہ اس میں افغانستان کے طلبہ کتنے ہیں جو ہمارے مدارس میں زیر تعلیم ہیں؟ جس پر ڈائریکٹر مذہبی تعلیم نے کہا کہ میرے پاس ایسا کوئی ڈیٹا ابھی نہیں ہے ،کمیٹی کے اجلاس میں قومی زبان کے فروغ کے حوالے سے معاملہ زیر غور آیا، راشد حمید ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادراہ فروغ قومی زبان نے کمیٹی کو بتایا کہ ،اردو کی 700 کتابیں جاری کی جاچکی ہیں،53 ہزار سے زائد کتابیں ادارہ فروغ قومی زبان کی لائبریری میں موجود ہیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ابھی تک آپ کے ادارہ نے اردو کے فروغ کیلئے عملی کیا اقدامات کیا ہے،13 کروڑ بجٹ کا ادارہ کیا کر رہا ہے ،اس پر راشد حمیدنے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قلیل مدتی اور طویل مدتی سفارشات ادارہ نے حکومت کو دیں،97 ملازمین ادارہ میں کام کر رہے ہیں،اردو کے فروغ کا ادارہ ہے لیکن آپ “لائبیری” کو کتب خانہ کیوں نہیں کہہ رہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتنے سال گزر چکے لیکن اردو زبان سرکاری زبان نہ بن سکی جس پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد حمید نے کہا کہ ہمارا کام مکمل ہے حکومت ہی نفاذ کر سکتی ہے ،جب تک نظام تعلیم اردو نہیں ہوگا تو بچے اردو سمجھ نہیں سکیں گے ،ایران میں جو بھی کتاب آتی ہے 3 ماہ میں فارسی ترجمہ لازم ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں