ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
نسیم شاہانہ سیمیں کا تعلق پھلروان، ضلع سرگودھا، پنجاب پاکستان سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پھلروان اور گریجویشن بھلوال سے مکمل کی جبکہ باقی تعلیم سرگودھا سے حاصل کی۔ وہ گزشتہ بیس سال سے درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں اور نعت و غزل لکھنے کے ساتھ ساتھ نئے نعت گو شعرا و نعت کی تربیت بھی فراہم کرتی ہیں۔ نسیم شاہانہ کی تین کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں: “میرا پہلا قدم” (2020)، “مٹھی میں جگنو” (2022)، اور “سایہ شجر کا” (2024)۔ ان کی پہلی کتاب آٹھ ایوارڈز جبکہ دوسری کتاب سات ایوارڈز جیت چکی ہے۔
نسیم شاہانہ ضلع سرگودھا کی واحد خاتون نعت ٹرینر ہیں اور اب تک ستر سے زائد طالبات کو نعت کی تربیت دے چکی ہیں جو مختلف مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ وہ عروضی شاعرہ ہیں اور ان کے استاد و بھائی ضیاء بھٹی ہیں۔ نسیم شاہانہ عالمی سطح پر استشراق کے مضمون میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کا تھیسس بھی اسی موضوع پر تھا۔ وہ نعت کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیتی ہیں اور عائشہ ویلفیئر سوسائٹی کی بانی بھی ہیں جو خاموشی سے فلاحی کاموں میں مصروف ہے۔
وہ سرگودھا میں پرائمری ایلمنٹری ایسوسی ایشن کی صدر اور بزمِ علم و ادب کی سینئر نائب صدر ہیں۔ نسیم شاہا نہ مختلف ادبی تنظیموں سے کئی ایوارڈز، اعزازات اور طلائی تمغے بھی ملے ہیں۔ ان کی شاعری میں نرالی سوچ، تازہ خیالات، اور مدحتِ رسول ﷺ کا عنصر نمایاں طور دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کلام ادبی اور جذباتی گہرائی کا عکاس ہے جس میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔
نسیم شاہانہ سیمیں اردو میں شاعری کرتی ہیں، حمد شریف، نعت رسول مقبول ﷺ، نظم اور غزل کی شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی، جذباتی شدت اور زبان کی نفاست نمایاں طور محسوس کی جاسکتی ہے۔ شاعرہ نے اپنے کلام میں عشقِ رسول ﷺ، انسانی جذبات اور کائناتی حقائق کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
نسیم شاہانہ سیمیں کی نعت رسول مقبول ﷺ میں عشقِ رسول ﷺ کو مرکزیت حاصل ہے مثلاً:
“خَلق کی ابتدا محمدؐ ہیں
خُلق کی انتہا محمدؐ ہیں”-
ان اشعار میں شاعرہ نے نہ صرف عقیدت کی گہرائی کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ یہ اشعار فنی و فکری دونوں لحاظ سے بھی موزوں ہیں۔ “خَلق” اور “خُلق” کا استعمال فنی مہارت کا مظہر ہے جو رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کردار کی جامعیت کو ظاہر کرتا ہے لیکن بعض نعتیہ اشعار میں لفظ “ان” استعمال کیا گیا ہے جو تعظیم کے لحاظ سے مناسب نہیں حالانکہ اردو میں بے شمار تعظیم والے الفاظ موجود ہیں، لفظ “ان” کے ساتھ میں درود شریف لگا دیا ہے مثلاً:
اُن ﷺ سے پہلے ہے بس خدا ہی خدا
اور بعد از خدا محمد ﷺ ہیں”
نعت کے اس شعر میں شاعرہ نے وحدانیت اور ختمِ نبوت کے عقیدے کو شعری پیرائے میں پیش کیا ہے جو شاعرہ کے مذہبی اور فکری شعور کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک اور شعر میں شاعرہ نے انسانی جذبات اور تخلیقی قوت کو خوبصورتی سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جیسے:
“نرالی سوچ انوکھا جمال دیتا ہے
خن وروں کو جو تازہ خیال دیتا ہے”
شاعرہ کے یہ اشعار ان کی تخلیقی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تخیل اور تخلیق کا منبع ایک اعلیٰ قوت ہے مثلاً:
“وہی تو ہے جو مٹاتا ہے تیرگی دل کی
وہی تو ہے جو تخیل اجال دیتا ہے”
اس خوبصورت شعر میں شاعرہ نے روشنی اور تاریکی کے استعارے استعمال کرکے امید اور روشنی کی علامت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ شاعرہ کی مثبت سوچ کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے
ایک اور نظم میں شاعرہ نے فطرت، کائنات اور انسانی جذبات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے مثال کے طور پر:
“بہاروں کو بہاروں نے ڈسا ہے
شجر کو کھا گیا سایہ شجر کا”
ان اشعار میں شاعرہ نے سماجی حقیقتوں اور انسانی رشتوں کی پیچیدگی کو بیان کیا ہے۔ “شجر” اور “سایہ” کے استعارے معاشرتی رکاوٹوں اور اندرونی تضادات کی طرف اشارہ کرتے ہیں مثلاً:
“اداسی رقص کرتی پھر رہی ہے
عجب عالم ہے تیرے بعد گھر کا”
اس شعر میں شاعرہ نے انسانی جدائی اور غم کی شدت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس شعر میں جذبات کی شدت اور اظہار کی سادگی نمایاں طور دکھائی دے رہی ہے۔
نسیم شاہانہ سیمیں کے کلام میں زبان کی روانی کے ساتھ ساتھ تخیل کی بلندی بھی نمایاں طور دکھائی دے رہی ہے۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی اور جذباتی شدت ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ ان کے اشعار میں استعارہ، تشبیہ اور علامتوں کا استعمال نہایت مؤثر انداز میں کیا گیا ہے۔
نسیم شاہانہ سیمیں کی شاعری اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ان کا کلام عقیدت، جذبات اور فکری وسعت کا حسین امتزاج ہے، جو کہ ہر عمر کے قاری کو نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکہ سوچنے اور غور و فکر کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ ان کے کلام کا مزید تحقیقی و تنقیدی مطالعہ اردو ادب میں نئی جہتوں کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ میں شاعرہ کو اتنی اچھی شاعری تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ اردو، انگریزی اور کھوار زبان میں لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔