قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سوسائٹی میں فرقہ وارانہ عناصر موجود ہیں اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اور وہ فرقہ وارانہ عناصر جب آپس میں لڑتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف اشتعال پیدا کرتے ہیں تب پیدا کرتے ہیں جب ہماری ریاست کو اور ریاست کی کسی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے، فرقوں کو ریاستی ادارے لڑاتے ہیں، فرقوں کو حکومتیں لڑاتی ہیں، ان کے درمیان اشتعال کے پیچھے ان کی باقاعدہ منصوبہ بندی کار فرما ہوتی ہے، تو فرقوں کو لڑاتے آپ ہیں اور پھر فساد کا الزام آپ مذہبی مکاتب فکر پہ ڈالتے ہیں، ان باتوں کو ذرا سمجھنا چاہیے۔
پرسوں میرے پاس ایک قابل احترام سفیر صاحب تشریف لائے تھے، بہت سی باتوں میں انہوں نے کُرم ایجنسی کا ذکر کیا، بہت سی باتوں میں انہوں نے کرم ایجنسی کا ذکر کیا وہاں کے فسادات کی طرف اشارہ کیا، تو میں نے کہا کہ اب آپ یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، یہ تو 20 22 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا قبائل ہیں لڑ رہے ہیں لیکن اگر یہ شیعہ سنی فساد ہے تو میں نے کہا کرم ایجنسی سے تھوڑا سا نیچے آئے ہیں تو ہنگو آتا ہے یہ علاقہ بھی شیعہ سنی کا علاقہ ہے، اس سے تھوڑا آگے آئیں تو خالصتاً شیعہ آبادی آتی ہے ان کے بالکل بیچ میں سے سڑک گزرتی ہے کوہاٹ کی طرف آتی ہے، پھر کوہاٹ آجائے تو وہاں پر بھی شیعہ سنی معاملہ ہے ماضی میں فسادات بھی ہوئے ہیں، یہ کیا وجہ ہے کہ کرم میں جھگڑا شیعہ سنی کا ہے آگ جل رہی ہے اور اس کی گرمی نہ ہنگو تک پہنچتی ہے نہ کوہاٹ تک پہنچتی ہے اور کراچی تک پہنچ جاتی ہے! کیا وجہ ہے کہ اس کی گرمی ہنگو اور کوہاٹ تک نہیں پہنچتی اور لکھنو تک پہنچ جاتی ہے! کیا وجہ ہے کہ اس کی گرمی نہ کوہاٹ تک پہنچتی ہے نہ ڈیرہ اسماعیل خان تک پہنچتی ہے نہ پشاور تک پہنچتی ہے اور تہران تک پہنچ جاتی ہے! تو ہم مقامی لوگ ہیں ہمیں پتہ ہے کہ اس مسئلے کی بنیاد کیا ہے اور اس مسئلے کے حل کے راستے کیا ہو سکتے ہیں، لیکن جو لوگ مسئلے کو اشتعال دے رہے ہیں ایک فرقہ کی تنظیم کراچی میں پریس کانفرنس کرتی ہے دوسری تنظیم اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتی ہے تو ان کو کون آگے کرتا ہے کس کے اشاروں پہ آگے آتے ہیں؟