ڈاکٹر ظفر کمالی: چاچائے ظرافت

ڈاکٹر ظفر کمالی: چاچائے ظرافت

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

ڈاکٹر ظفر کمالی کا تعلق سیوان، بہار، ہندوستان سے ہے، اردو ممتاز مزاحیہ شاعر ہیں، بہت ہی اچھی مزاحیہ شاعری لکھتے ہیں، ڈاکٹر صاحب کو کونسا خطاب عطا کروں؟ میں سوچ میں پڑھ گیا ہوں، سارے خطاب مزاح نگاروں نے اپنے نام کر رکھے ہیں جیسے بابائے ظرافت، دادائے ظرافت، نانائے ظرافت، ابائے ظرافت، وبائے ظرافت، تایائے ظرافت وغیرہ وغیرہ خطابات کو مزاحیہ شاعروں نے اپنے نام کر رکھا ہے صرف ایک خطاب “چاچائے ظرافت” رہ گیا تھا جسے راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) بقلم خود نے خود بخود اپنے لیے بچاکے رکھا تھا لیکن ڈاکٹر ظفر کمالی کی نظم “قصہ بکرے کا” پڑھ کر میں اس خطاب سے دست بردار ہورہا ہوں اور یہ خطاب چاچا ڈاکٹر ظفر کمالی کو دے رہا ہوں آج کے بعد میرا اس خطاب سے کوئی تعلق نہیں۔
ڈاکٹر ظفر کمالی کی نظم “قصہ بکرے کا” ایک بہترین مزاحیہ تخلیق ہے جو اردو ادب میں طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کی بہترین مثال کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اس نظم میں شاعر نے عید قرباں کے موقع پر قربانی کے جانور کے انتخاب اور اس کے گرد پیدا ہونے والے حالات کو انتہائی دلچسپ اور تخلیقی انداز میں پیش کیا ہے۔
نظم میں ڈاکٹر ظفر کمالی نے عید قرباں کی تیاریوں، قربانی کے جانور کی خریداری اور اس کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کو مزاحیہ پیرائے میں بیان کرکے قارئین کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظم نہ صرف عید کی گہما گہمی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ معاشرتی رویوں اور انسانی نفسیات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
نظم میں بکرے کو ایک مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو اپنی لاغری، بیماری اور عجیب و غریب حرکات سے پوری کہانی کو آگے بڑھاتا ہے۔ بکرے کی حالت اور اس پر کیے گئے علاج کو دیکھ کر انسانی جذبات جیسے محبت، ہمدردی اور بے بسی کا عکس ملتا ہے۔
بکرے کی بیماری پر پورے محلے کا اکٹھا ہونا اور مختلف لوگوں کے نسخے اور ٹوٹکے آزمانا معاشرے میں موجود مشترکہ جذبات اور مبالغہ آرائی کو ہلکے پھلکے انداز میں دکھاتا ہے۔
ڈاکٹر ظفر کمالی کی دلچسپ اور طنزیہ زبان، مزاحیہ اسلوب اور بیان نظم کو ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔
نظم میں زبان نہایت سادہ اور عام فہم ہے جس سے قاری فوری طور پر نظم کے ماحول سے جڑ جاتا ہے۔ الفاظ کا چناؤ کرداروں کی شخصیت اور صورتحال کو مزید نکھارتا ہے جیسے “یا اہل القبور” اور “ٹی بی کا مرض” وغیرہ نظم کو مزید دلچسپ بناتے ہیں
نظم میں مزاح اور طنز کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ بکرے کی بیماری پر مبالغہ آرائی، حکیم کے ناکام تجربات اور لوگوں کی نرالی تدبیریں قاری کو ہنسنے پر مجبور کرتی ہیں۔ طنز کا نشانہ صرف بکرے کی حالت ہی نہیں بلکہ معاشرتی رویے بھی ہیں جو چھوٹے مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
نظم میں تشبیہات اور استعارات کا استعمال بھی کمال مہارت سے کیا گیا ہے۔ بکرے کو “وقت کا مارا ہوا”، اور “بوٹ پر پالش” جیسے الفاظ کے ذریعے قارئین کے ذہن میں مکمل منظرنامہ تشکیل دیا گیا ہے۔
نظم بحر کے لحاظ سے متوازن ہے اور پڑھنے میں روانی کا احساس دیتی ہے۔ یہ موزونیت قاری کو پوری نظم پڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
نظم میں کردار نگاری کا عنصر نمایاں ہے۔ خان صاحب، حکیم، قصائی اور محلے والے سب اپنی اپنی جگہ ایک مخصوص کردار کی نمائندگی کرتے ہیں جو نظم کو حقیقی زندگی کے قریب لے آتے ہیں۔
نظم کا اختتام ایک غیر متوقع مگر پُر مزاح انداز میں کیا گیا ہے جہاں بکرا دنیا سے کوچ کر جاتا ہے اور سب کے جذبات مایوسی میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ اختتام نہ صرف کہانی کو مکمل کرتا ہے بلکہ قاری کو ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ چھوڑتا ہے۔
ڈاکٹر ظفر کمالی کی یہ نظم نہ صرف عید قرباں کے موقع پر طنزیہ و مزاحیہ شاعری کی بہترین مثال ہے بلکہ اردو ادب میں ایک ایسی تخلیق ہے جو معاشرتی رویوں، انسانی جذبات اور عید کے تہوار کے جوش و خروش کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ “قصہ بکرے کا” اردو مزاحیہ شاعری کی عمدہ تخلیق ہے، جو زبان و بیان کی سادگی، موضوع کی دلچسپی اور طنزیہ و مزاحیہ پہلوؤں کی بنا پر قاری کے دل میں جگہ بناتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر کمالی کی یہ نظم عید کے تہوار کے جذبات کو ایک نئی جہت فراہم کرتی ہے اور قارئین کو ہنسنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے ڈاکٹر ظفر کمالی کی نظم “قصہ بکرے کا” پیش خدمت ہے۔
*
حضرتِ خورشید احمد خاں بڑے ہیں باکمال
عیدِ قربان جب قریب آئی انھیں آیا خیال
نامۂ اعمال کی اپنے مسلمانی کریں
عاقبت جس سے سنور جائے وہ قربانی کریں
اک پڑوسی دوست ان کے ہیں بڑے نامی حکیم
ذی شعور و عاقل و بالغ ذکی دانا فہیم
خان صاحب نے کہی ان سے جو اپنے دل کی بات
چل پڑے وہ ساتھ ان کے ہو گئی تھی گرچہ رات
دوستی ان کی تھی اک قصاب سے، پہنچے وہاں
اس کے آنگن میں بندھی تھیں چند مریل بکریاں
ان میں اک بکرا تھا ایسا وقت کا مارا ہوا
زندگی کی اپنی ہر بازی تھا جو ہارا ہوا
دیکھتے ہی اس کو یاد آتا تھا مفلس کا شباب
گرد اس کے سامنے تھے عاشقِ خانہ خراب
گھاس چرنے میں ہوئی مصروف جب عقلِ سلیم
ہو گئے بکرے پہ عاشق خان صاحب اور حکیم
مفت بھی مہنگا تھا وہ لیکن لیا سونے کے مول
وزن جس کا سات “کے جی” تھا فقط کانٹے کی تول
جس طرح احباب طے کرتے ہیں میّت کا سفر
اس طرح کاندھے پہ لائے لاد کر بکرے کو گھر
سانس جو اکھڑی تھی اُس کی اس کو پہلے کم کیا
بعد اس کے آیت الکرسی پڑھی اور دم کیا
پھر اتارا جان کا صدقہ بصد کیف و سرور
تاکہ بکرا عیدِ قرباں تک رہے زندہ ضرور
جسم میں بکرے کے ایسے تیل کی مالش ہوئی
دیکھ کر لگتا تھا جس کو بوٹ پر پالش ہوئی
لوگ کہتے تھے کہ بکرا ہے بڑا ہی ہونہار
اپنے آقا کی طرح وہ بھی ہے پیچس کا شکار
بھوک کی اور پیاس کی ہوتی نہ تھی اس کو خبر
وہ جو بکرا تھا وہ آقا کے لیے تھا دردِ سر
سامنے اس کے کوئی رکھتا تھا لا کر جب چنا
دیکھتا رہتا تھا وہ چپ چاپ اس کو بت بنا
گھاس کھاتا کس طرح چارے سے رغبت ہی نہ تھی
تھا بڑا صوفی صفت کھانے کی عادت ہی نہ تھی
حال اس کا دیکھ کر حیران تھے پیر و جواں
فکر تھی اس کو یہی بکرے کو لے جائیں کہاں
جو حکیمِ محترم تھے ان کی یہ حالت ہوئی
ایک ہی بکرے میں ان کی فیل سب حکمت ہوئی
جس طرح افواہ پھیلے ویسے پھیلی یہ خبر
خان صاحب کا جو بکرا ہے لگی اس کو نظر
شہر میں مشہور جو بھی تھا شرافت کے لیے
سن کے بکرے کی خبر آیا عیادت کے لیے
بہرِ ہمدردی جو آیا خان صاحب کے حضور
دیکھ کر بکرے کو وہ کہتا تھا “یا اہل القبور”
دشمنوں کو صرف اپنی دشمنی سے تھی غرَض
وہ یہ کہتے تھے کہ بکرے کو ہے ٹی بی کا مرَض
چاہیے لوگوں کو لے جائیں اسے اب اسپتال
ورنہ کچھ گھنٹے میں ہو جائے گا اس کا انتقال
ساتھ میں کچھ لوگ ہوں تیمار داری کے لیے
ناز برداری کی خاطر غم گساری کے لیے
آئے انجکشن لگانے ایک معمر ڈاکٹر
تین ہی لینے تھے ان کو لے لیے تیرہ مگر
کیپسول اور ٹیبلٹ آئے کسی دوکان سے وہ حرف
ایک صاحب آگئے چورن لیے سیوان سے
اُس طرف تعویز گنڈے ٹوٹکے ہوتے رہے
خان صاحب اِس طرف اشکوں سے منہ دھوتے رہے
نسخۂ معجون بھی ہمدرد کا لایا گیا
جسم میں بکرے کے تازہ خون چڑھوایا گیا
آزماتے رہ گئے نسخے حکیمِ محترم
لاغری بڑھتی گئی بکرے کی لیکن دم بدم
نا امیدی کی گھٹا بھی ذہن و دل پر چھا گئی
سورۂ یاسین کی نوبت بھی آخر آگئی
مسجدوں اور مدرَسوں میں ایک ہفتہ صبح و شام
لوگ کرتے رہ گئے رو کر دعا کا اہتمام
ڈھونڈتے ہی رہ گئے سب چشمۂ آبِ حیات
تھا مقدر میں جو غم کیسے ملے اس سے نجات
عید قرباں میں ابھی تھا ایک دن باقی ظفر
چل دیا دنیا سے بکرا سارے بندھن توڑ کر
گھر کا گھر گردہ کلیجی کے لیے دیوانہ تھا
“خواب تھا جو کچھ کے دیکھا جو سنا افسانہ تھا”

*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ اردو، انگریزی اور کھوار زبان میں لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں