مستونگ دھرنے میں مسافروں کی حکام بالا سے فریاد

مستونگ دھرنے میں مسافروں کی حکام بالا سے فریاد

نواب ہوٹل مستونگ میں ظہور احمد سمالانی کے بازیابی کیلئے ہزاروں مسافر پھنس چکے ہیں۔ جن میں خواتین، شیرخوار بچے و بزرگ بھی شامل ہیں اور اوپر سے تیز ہوا و موسلادار بارش بھی وقفے وقفے سے جاری ہیں۔

مسافروں میں مشتمل کئی مریضوں کی طبیعت خراب۔ کئی کئی کلومیٹر تک کوئٹہ کراچی ہائی وے پر آبادی سے دور ویران جگہوں پر سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں۔ کھانا ملنا دور کی بات مسافر تو پینے کی پانی کیلئے بھی ترس رہے ہیں۔

سردی کی وجہ سے مری والا واقعہ کی طرح سردی سے انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہیں۔ مسافروں نے وزیر اعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، صدر پاکستان، گورنر بلوچستان، وزیر اعلی بلوچستان، کورکمانڈر بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان و دیگر حکام بالا سے اپیل کی ہیں کہ خدا کے واسطے دھرنے والوں کے ساتھ جلد از جلد مذاکرات کرکے ہمیں سنگین مشکلات سے نکالنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔

رات کی تاریکی میں شیرخوار بچے اور خواتین کافی پریشان ہیں۔ ویران علاقوں میں ہمارے لٹنے کے خطرات ہیں۔ دوسری جانب انتظامیہ کی طرف سے ایک دفعہ ڈی ایس پی و ایس ایچ او مستونگ پولیس جبکہ دوسری دفعہ اسسٹنٹ کمشنر محمد اکرم حریفال و رسالدار میجر پیر جان علیزئی دھرنا قائدین سے مذاکرات کیلئے تشریف لے آئیں لیکن دھرنا قائدین نے کہا کہ جب تک ہمارے بندوں کو بازیاب نہیں کیا جائے گا اس وقت تک دھرنا ختم کرکے روڈ نہیں کھولا جائے گا۔ اب انتظامیہ ہم مسافروں کیلئے بھی ذرا سوچیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں