ادب لطیف اور گوشۂ اشرف جاوید

ادب لطیف اور گوشۂ اشرف جاوید

حرف سچ

پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین ،

ادب لطیف اور گوشۂ اشرف جاوید

” ادب لطیف ” کا ایک خصوص یہ بھی رہا ہے کہ اس نے ہمیشہ ادب اور ادیب کی بات کی ہے ، غیر ادبی اور سیاسی رویوں سے اجتناب کیا ہے ۔ اپنی، کم و بیش، نوے سالہ ادبی تاریخ میں بے شمار نام ور ادیبوں اور شاعروں کے فن اور شخصیت پر تفصیلی گوشوں کا بھی اہتمام کیا جاتا رہا ہے ۔ اس بار نومبر ۔ دسمبر 2024ء کا شمارہ موصول ہوا ، تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس بار جناب اشرف جاوید کی شاعری ، بالخصوص غزل اور شخصیت کے حوالے سے ایک بھرپور گوشہ شایع کیا گیا ہے ، جو کوئی 110 صفحات پر محیط ہے ۔ بلا شبہ اشرف جاوید کی تخلیقی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ، وہ باکمال غزل نگار ہیں ، بل کہ یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ انہوں نے جس طرح اردو غزل کی پرداخت اور تشکیل نو کی ہے اس کی مثال موجودہ عہد میں کم ہی نظر آتی ہے۔ مجھے ان کا ایک شعر یاد آرہا ہے آپ بھی پڑھ لیجیے:

اک نئی راہ بناتا چلا جاتا ہوں سخن میں
یہ بھی ممکن ہے کہ اس رہ پہ زمانہ نکل آئے

ممکن ہے یہ بات جناب اشرف جاوید نے شعر کی حد تک کہی ہو لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نئے لکھنے والے ان کی تراشیدہ راہوں پر چلے آئے ہیں ۔ غزل نہایت مشکل صنف۔ سخن ہے ، اس میں بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوا ہے ، لیکن وہ چوں کہ میر ، غالب ، فیض اور ندیم کے خانوادے کے شاعر ہیں، سو ،ان کی غزل میں بیان کی وہی سہولت نظر آتی ہے ، جو ہمیں مذکورہ بالا شعرا کے ہاں دکھائی دیتی ہے اور یہ سہولت کوئی چند دنوں میں حاصل نہیں ہو جاتی ، اس کے پیچھے برسوں کی ریاضت کا ہونا لازمی امر ہے ، یہ ریاضت ہمیں اشرف جاوید کے تخلیقی ہنر کا حصہ نظر آتی ہے ۔ اشرف جاوید کی خوش بختی یہ بھی ہے کہ ان کی غزل اور شخصیت کے حوالے سے جہاں سنئیر لکھنے والوں کی رائے موجود ہے ، وہاں جونئیر ہمعصر بھی ان کی غزل کے معترف نظر آتے ہیں ۔

گزشتہ ربع صدی سے جناب اشرف جاوید نے غزل کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے اور وہ اس لباس میں خوش نظر آتے ہیں ۔ ایسا بھی نہیں کہ انہوں نے نظم نہیں لکھی یا پھر سخن کی دوسری اصناف میں طبع آزمائی نہیں کی ، آزاد نظم کے حوالے سے بھی ان کی اپنی شناخت ہے اور ان کے کریڈٹ پر بہت سی آزاد نظمیں موجود ہیں جو بہ طور حوالہ نظم کی تاریخ کا حصہ رہیں گی ، لیکن یہ تو ان کے تخلیقی ہنر کا کمال ہے کہ انہوں نے غزل کو انتخاب کر لیا ہے اور اس میں احتصاص بھی حاصل کر لیا ہے ۔ غزل ایک ایسی صنف سخن ہے ، جو اپنے لکھنے والے کو اس وقت تک راستہ نہیں دیتی ، جب تک اس کے ساتھ عشق کا بھرپور اظہار نہ کیا جائے اور اشرف جاوید نے تو محبوب کے ساتھ ساتھ غزل سے بھی عشق نبھایا ہے اور انہوں نے غزل کو اس قدر عزیز رکھا ہے کہ اس کے راستے کے تمام خس و خاشاک چن کر اسے گل پوش کر دیا ہے ۔ مجھے جناب احمد فراز کا ایک شعر یاد آرہا ہے آپ بھی پڑھیے اور حظ اٹھائیے:

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے ، تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

مجھے تو اشرف جاوید کی غزل پڑھتے ہوئے ایک مکالمے کی صورت دکھائی دیتی ہے اور وہ جہاں غزل میں اپنے محبوب ، اپنے سامراج , اپنے احباب ، اپنے منصفوں اور شاہوں سے مکالمہ کرتے نظر آتے ہیں ، وہاں غزل سے بھی ان کی گفتگو جاری رہتی ہے ، اس گفتگو میں وہ سب کچھ ہے ، جو شاعری ، بالخصوص غزل کا قاری پڑھنا چاہتا ہے اور واقعی جب اشرف جاوید غزل سے باتیں کرتے ہیں، تو مصرعہ در مصرعہ اور شعر در شعر تخلیقی ہنر کے ، جذبہ و احساس کے اور واقعات و حالات کے پھول جھڑنے لگتے ہیں ، لیکن ان پھولوں کی نرمی اور ملائیمت کے ساتھ واقعات و حالات کے کانٹے بھی اپنی چبھن کا احساس ضرور دلاتے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پھولوں کو کانٹوں سے الگ کیا جاسکے ۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور یہ احساس ایک بھر پور جذبے اور شدت اظہار کے ساتھ اشرف جاوید کی غزل میں نمو پا رہا ہے ۔

میں نے اس بار ” ادب لطیف ” کا مطالعہ اختتام سے آغاز کیا ہے ، کیوں کہ مدیر ادب لطیف نے اپنے تازہ شمارے کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ دو حصے غزل ، نظم ، افسانہ اور تنقید کے لیے مختص کیے ہیں اور تیسرا حصہ ، یعنی آخری حصہ اشرف جاوید کے فن اور شخصیت کے حوالے سے مختص ہے اور مدیر نے اشرف جاوید کے حوالے سے تعارفی نوٹ لکھتے ہوئے کہا ہے ” اشرف جاوید غزل کو ایک نئی راہ اور نئے رخ پر لے آئے ہیں ، وہ رجحان ساز شاعر ہیں اور نوجوان۔نسل ان سے استفادہ کرتی نظر آتی ہے اور یہ کہ اشرف جاوید غزل کے معاملے میں اپنا ایک فکری اور اسلوبیاتی نظام وضع کر چکے ہیں ۔ ” مدیر کی رائے اس قدر صائب ہے کہ اس سے کم از کم میرے جیسا ادب کا طالب علم تو اختلاف کی جسارت نہیں کر سکتا ۔ میں اشرف جاوید کی غزلوں کا ابتدائی دور سے قاری ہوں اور مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے غزل کو اپنے رنگ میں رنگ لیا ہے یا پھر غزل ان سے جو کچھ کہلوانا چاہتی ہے ، وہ بات کرنے پر اشرف جاوید قادر دکھائی دیتے ہیں ۔ پہلے بھی ” ادب دوست ” نے اشرف جاوید کے چوتھے مجموعۂ کلام ” نشاط۔ غم ” کے حوالے سے ایک تفصیلی گوشہ شایع کیا تھا ، پھر جناب مظہر سلیم مجوکہ نے بھی اپنے ادبی رسالے ” بک ڈائجسٹ ” کا پورا شمارہ اشرف جاوید کے نام مختص کر دیا تھا اور اب ” ادب لطیف ” نے جناب اشرف جاوید کی سالگرہ پر ہدیۂ تہنیت کے ساتھ ان کی غزل کے اعتراف کے طور پر ایک بھر پور گوشہ شایع کیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جہاں یہ بات اشرف جاوید کے تخلیقی کام کا اعتراف ہے وہاں ” ادب لطیف ” کے لیے بھی اعزاز ہے کہ اس نے اشرف جاوید کی غزل کی بھر پور پذیرائی کا اہتمام کیا ہے ۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اشرف جاوید کی تاریخ پیدایش کا علم ہی نہیں تھا، کیوں کہ ہم بھی عام قاری کی طرح ان کی شخصیت اور غزل کے سحر میں مبتلا چلے آئے ہیں ۔ ان کے ساتھ غزل کے حوالے سے اور ادب کے عصری رویوں کے حوالے سے گفتگو تو رہتی ہے ، لیکن جو کام ہم احباب کو کرنا چاہیے تھا وہ ” ادب لطیف ” نے کر دیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اشرف جاوید کے لیے اس سے بہتر سالگرہ کا تحفہ ہو ہی نہیں سکتا ، اس لیے دونوں حضرات ، یعنی جناب اشرف جاوید اور جناب مظہر سلیم مجوکہ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ اشرف جاوید کی غزل اور شخصیت پر لکھنے والوں میں جناب احمد ندیم قاسمی ، پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری ، جناب امجد اسلام امجد ، جناب احمد عقیل روبی ، ڈاکٹر سعادت سعید ، پروفیسر نسیم شاہد ، سید خالد یزدانی ، پروفیسر ڈاکٹر محمد یاسین( راقم ) ، جناب توقیر عباس ، جناب احسان قادر ( برطانیہ ) ، معروف نقاد اور ادیبہ محترمہ ناہید اختر ( بھارت ) اور جناب عبدالرؤف نے اشرف جاوید کی غزل کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ہے اور ان کے فکر و فن کی مختلف جہات دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ میں یہاں بھارت کی نوجوان ممتاز دانش ور ، نقاد اور ادیبہ محترمہ ناہید اختر کے مضمون سے ایک مختصر اقتباس تحریر کرنا چاہوں گا اور یہ اقتباس پڑھ کر یقینأ قاری کو خوشی ہو گی کہ بھارت کے لکھنے والے بھی اشرف جاوید کی غزل اور شخصیت کے معترف ہیں اور اشرف جاوید بھارت کے ادبی حلقوں میں اپنی بھر پور شناخت رکھتے ہیں ۔ محترمہ ناہید اختر لکھتی ہیں ” میں جناب اشرف جاوید کی غزل پڑھنے کے بعد پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ ہم آج کی جدید اردو غزل کو عالمی ادب کے متوازی مطالعے کے لیے پیش کر سکتے ہیں ”
اب آخر میں اشرف جاوید کی غزل کے چند اشعار آپ احباب کی نذر کرکے اجازت چاہتا ہوں ۔

ہجوم۔ تیرہ شبی میں بنانا پڑتا ہے
دیا بھی خواب کی صورت
جلانا پڑتا ہے

کسی کے اشک بھرے ہیں کسی کی آنکھوں میں
کسی کا حال کسی کو سنانا پڑتا ہے

کبھی گھروں میں پرندے
بھی گھر بناتے تھے
اب ان کے واسطے پنجرہ بنانا
. پڑتا ہے

ہمیں عزیز ہے لوح و قلم کی حرمت بھی
سخن کے پردے میں سچ چھپانا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں