کوئٹہ..بلوچستان کی اہم طبی ایمرجنسی رسپانس سروس مرک 1122 فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث شدید بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ صوبے بھر میں 27 ایمرجنسی سینٹرز اور 2 ٹراما سینٹرز پر مشتمل یہ سروس، جو اب تک ہزاروں قیمتی جانیں بچا چکی ہے، بجٹ کی کمی کے باعث اپنی خدمات جاری رکھنے سے قاصر ہے۔
ذرائع کے مطابق، فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ایمبولینسز کی مرمت اور اسٹاف کی تنخواہیں رک چکی ہیں، جس سے ادارہ مکمل مفلوج ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس بحران کے باعث روڈ حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جو مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔
مرک 1122 کے اسٹاف کو بھی شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مرک 1122 کے فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ یہ ادارہ دوبارہ فعال ہو کر اپنی خدمات فراہم کر سکے۔عوامی حلقوں اور اسٹاف ممبران نے حکومت سے مرک 1122 کو مستقل ادارہ بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں فنڈز کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ مستقل حیثیت ملنے سے ادارے کو بجٹ کی مستقل فراہمی یقینی ہوگی اور یہ اپنی خدمات بلا تعطل جاری رکھ سکے گا، جبکہ اسٹاف کو بھی ملازمت کا تحفظ حاصل ہوگا، جس سے وہ مزید لگن اور محنت سے کام کر سکیں گے۔