اسلام آباد .. دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے جہتی تعلقات ہیں ، اصل مسئلہ دہشتگردی کے واقعات ہیں جو حل ہونا چاہیے ۔ افغانستان میں جدیدترین امریکی ہتھیار چھوڑنے کا معاملہ بار بار اٹھایا ہے۔
یہ جدید ترین ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ ہے۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوے ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر سعودی عرب کے ولی عہد نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔دورے کے دوران پانچ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔تجارت ، سیاحت سمیت متعدد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ۔
فروری کو وزیر اعظم نے تاشقند میں منعقدہ پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کیا۔ باہمی بات چیت کے دوران، افغانستان کے راستے ریلوے اور تجارتی راہداریوں کے ذریعے علاقائی روابط کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دورہ دونوں ممالک کی قیادت کے باہمی تعاون کے استحکام کے عزم کی توثیق کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا وزیر اعظم نے آزربائیجان کے صدر کی دعوت پر آزربائیجان کا دورہ کیا۔ آذری قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتیں انتہائی مفید رئیں ۔
ترجمان نے کہا متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم کی دعوت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اماراتی ہم منصب سے ملاقات کی۔ اور یو این سلامتی کونسل کے وزراتی اجلاس میں شرکت کر کے غزہ اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا۔ ترجمان نے کہا اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وابگ ژئی سے بھی ملاقات کی۔انہوں نے نیویارک میں پاکستانی برادری سے بھی ملاقات کی۔
ترجمان نے کہا آئی اے ای اے کے ڈی جی رافائیل ماریانو گروسی نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ امریکی اسلحہ اور افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا افغانستان اور امریکہ کے درمیان جو بھی مسئلہ ہے وہ ان دو ممالک کا اندرونی ہے۔ اس ایشو پر پاکستان کوئی موقف نہیں دیتا۔جو امریکی اسلحہ کا مسئلہ ہے افغانستان کا دفتر خارجہ اسکا حل نکالنے کی کوشش کرے۔
مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان پر سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا جو بھی سیاسی رہنما افغانستان جاتا ہے وہ دفتر خارجہ سے بریفنگ لے کر نہیں جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا ہم نے بار بار افغانستان میں جدیدترین امریکی ہتھیار چھوڑنے کا معاملہ اٹھایا ہے۔ یہ جدید ترین ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھوں جانے کا خطرہ ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تحفظات ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے جہتی تعلقات ہیں ، اصل مسئلہ دہشتگردی کے واقعات ہیں جو حل ہونا چاہیے۔
ایران بارڈ پر 600 ٹرک پھنسے ہونے کے معا ملے پر ترجمان نے کہا ایران بارڈر پر ٹرک پھنسنا کوئی مس انڈرسٹینڈنگ ہوسکتی ہے۔ یہ معاملہ چیک کرکے تفصیلات سے آگاہ کرونگا ۔ طور خم بارڈ کے گزشتہ جمعے سے بندش پر ترجمان دفتر خارجہ نے رد عمل دیتے ہوے کہا باڈر بندش ایک مشکل مسئلہ ہے جس میں مختلف ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں ۔ افغان حکام پاکستان کی طرف ایک پوسٹ بنانا چاہ رہے تھے ہم نے افغان حکام سے کہا کہ اس معاملے کو بات چیت کے زریعے حل کرسکتے ہیں۔