کوئٹہ.رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے دوران صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں غیر معمولی سردی کی لہر داخل ہو گئی ہے، جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بلوچستان میں سرد ہوائیں چلنے کی وجہ سے درجہ حرارت ایک بار پھر منفی سطح پر پہنچ گیا ہے، اور کوئٹہ میں رات کے اوقات میں پارہ منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے سردی کی اس نئی لہر کے باعث کوئٹہ سمیت صوبے کے شمالی علاقوں میں شدید سرد ہوائیں چل رہی ہیں، جس سے لوگوں کو گھروں میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان علاقوں میں زیادہ تر لوگ سردی کی شدت سے بچنے کے لیے گھروں کے اندر ہی رہ کر وقت گزارنے پر مجبور ہیں دوسری جانب کوئٹہ میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی شدید ہوگیا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس کی فراہمی میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے خبر رساں ادارے یو این اے کے مطابق گیس کی لوڈشیڈنگ کے دوران، کوئٹہ میں صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک اور رات 9 بجے سے رات 2 بجے تک گیس کی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی جاتی ہے۔ اس طرح، 24 گھنٹے میں 11 گھنٹے تک گیس کی سپلائی مکمل بند رہتی ہے گیس کی اس بندش کی وجہ سے سحری اور افطاری بنانے میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سرد موسم میں گیس کی عدم فراہمی سے لوگوں کو کھانا پکانے اور روزہ افطار کرنے میں مشکلات آ رہی ہیں۔ خاص طور پر سحری کے وقت سردی کی شدت اور گیس کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں موجود اضافی گیزر یا ہیٹر کا استعمال نہیں کر پاتے جس سے مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں کوئٹہ کے شہریوں نے صوبائی حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران گیس کی سپلائی کو بہتر بنائیں اور شہریوں کو مشکل حالات سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں، جب لوگ عبادات کے لیے زیادہ وقت گزار رہے ہیں اور سحری و افطاری کے اوقات میں ان کے لیے کھانا پکانا مشکل ہو رہا ہے، تو یہ صورتحال مزید پریشانی کا سبب بن رہی ہیکوئٹہ میں رمضان المبارک کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ اور غیر معمولی سردی کی لہر نے شہریوں کی زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔
سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس کی بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اور سردی کی شدت نے مزید پریشانی پیدا کر دی ہے۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان میں گیس کی سپلائی اور سردی کی لہر پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ لوگوں کو عبادات کے دوران مشکلات کا سامنا نہ ہوں .