تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر شدید احتجاج

تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر شدید احتجاج

اڈیالہ جیل حکام عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کروا رہے ہیں‘ جیل میں بیٹھا کرنل تمام فیصلے کر رہا ہے‘ عمر ایوب

راولپنڈی. پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کا اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر شدید احتجاج کیا ہے،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہاکہ اڈیالہ جیل حکام عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کروا رہے ہیں‘ جیل میں بیٹھا کرنل تمام فیصلے کر رہا ہے۔جمعرات کو پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنمائوں اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے کے حوالے سے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہاکہ پی ٹی آئی کا وفد آج بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر آج ملاقات کیلئے آیا تھا انہوں نے کہاکہ پچھلے ہفتے بھی ہم ملاقات کیلئے آئے تھے لیکن ملاقات نہیں دی گئی

انہوں نے کہاکہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے عدالت میں لکھ کر دیا ہے کہ ملاقاتیں کروائی جائینگی مگر عدالت کے احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں قانون اور آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل ملاقاتوں کا فیصلہ کرتا ہے‘ہمارے سینیٹر عون عباس بپی کو اٹھایا گیا ہے ہم نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ ملاقات میں یہی مسائل سامنے رکھے تھے انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں حکومت کی رٹ ریڈ زون تک رہ گئی ہے اوربلوچستان کے آٹھ اضلاع میں حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے اداروں کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اس ملک میں آئین ہے نہ قانون انہوں نے کہاکہ ملک میں افراط زر بڑھ رہے ہیں20 لاکھ لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے گئے ہیںجس سے 27 ارب ڈالر ا سرمیہ پاکستان سے باہر چلا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ایس آئی ایف سی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے یہاں صرف نشانہ پاکستان تحریک انصاف ہے انہوں نے کہاکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہماری قیادت کو نشانہ بنایا ہوا ہے

انہوں نے کہاکہ تمام معاملات کی تحقیق ہونی چاہیئے کیونکہ ہمارے نوجوان افسر انٹیلی جنس کی ناکامی کی وجہ سے شہید ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اس موقع پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ جیل مینول کے مطابق ہماری ملاقاتیں نہیں ہونے دی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں امن و امان کی صورت حال سب کے سامنے ہے روز ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صورت حال یکساں ہے انہوں نے کہاکہ فاٹا، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات پر پارلیمنٹ پر بحث ہونی چاہیئے انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ پالیسی کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سے فائدہ ہے یا نقصان ہورہا ہے

انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت میں ایکسپورٹ بڑھ رہی تھی ہمارے صوبے کا افغانستان سے تجارت واحد راستہ ہے انہوں نے کہاکہ بتایا جائے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کتنا عمل در آمد ہوا انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک کی ایجنسیاں پی ٹی آئی کے پیچھے لگی ہوئی ہیںہم اپوزیشن اتحاد کی طرف جارہے ہیں اور نیا چارٹر آف ڈیموکریسی بنانے جارہے ہیں ہم چاہتے ہیں تمام جماعتیں قومی ایجنڈے اور دوبارہ انتخابات پر متفق ہوں انہوں نے کہاکہ موجودہ افغان پالیسی کی وجہ سے ہمارا صوبہ متاثر ہے ہم جے یوآئی سربرفاہ مولانا فضل الرحمان سے رابطے ہیںہماری کوشش ہے ساری جماعتوں کو آن بورڈ لیکر ون پوائنٹ ایجنڈے پر اکٹھا کرسکیں اورہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا آئیں اور قانونی کی عملداری ہے اس موقع پر پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیرمین جنید اکبرنے کہاکہ ہم چھٹی ساتویں دفعہ آئے ہیں ملاقات کیلئے لیکن ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے

انہوں نے کہاکہ اس ملک میں عدالتی فیصلوں کی توہین کی جارہی ہے ایسے ہتھکنڈوں سے ہم گھبرانے والے نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ ایک جنریشن کے لیڈر بھٹو صاحب کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن نہیں ہوا ہمارے بانی پی ٹی آئی تو تین جنریشنز کا لیڈر ہے اسے کیسے ختم کرینگے انہوں نے کہاکہ ریاست نے ہمارے کارکنوں کو سات سات آٹھ آٹھ ایف آئی آرز میں ڈالا ہے ہماری کسی ادارے سے لڑائی نہیں لیکن سب کو آئین کی حدود میں رہنا پڑے گا انہوں نے کہاکہ اگر اداروں نے کسی نئے ملٹری آپریشن کی تیاری کی ہے تو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر نے کہاکہ اڈیالہ جیل پنجاب کی حدود میں ہے جس کی وزیر اعلی ٹک ٹاکر وزیر اعلی ہیں انہوں نے کہاکہ پنجاب میں فسطائیت کا دور ہے 30 ہزار اسکول آوٹ سورس کئے جاچکے ہیں انہوں نے کاکہ یہ حکومت زندہ لاش ہے اسٹیبلشمنٹ کب تک اس زندہ لاش کے ساتھ کھڑی ہوگی انہوں نے کہاکہ 26 ویں آئینی ترمیم کرکے جوڈیشل کو و کیا گیاہے انہوں نے کہاکہ8 فروری کو فارم 47 کی حکومت قائم کی گئی مگر یہ سب کچھ کرکے ان سے ملک نہیں چل رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں