کوئٹہ،ڈی سی کے احکامات ہوا میں، ایرانی پیٹرول کی کھلے عام فروخت جاری

کوئٹہ،ڈی سی کے احکامات ہوا میں، ایرانی پیٹرول کی کھلے عام فروخت جاری

پولیس کی مبینہ سرپرستی میں غیر قانونی کاروبار عروج پر، فی اسٹال 20 سے 25 ہزار روپے بھتہ وصولی کا انکشاف

کوئٹہ(جہان امروز-نیوز )صوبائی دارالحکومت میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی پیٹرول کی فروخت پر پابندی کے باوجود، شہر کے مختلف علاقوں میں یہ غیر قانونی کاروبار کھلے عام جاری ہے۔ مری آباد، ہزارہ ٹان، سریاب، پشتون آباد، بروری، سیٹلائٹ ٹاون، نواں کلی، کلی اسماعیل، کلی شابو سمیت متعدد علاقوں میں ایرانی پیٹرول کے اسٹال دوبارہ سرگرم ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس تھانوں کے ایس ایچ اوز اور عملہ مبینہ طور پر ہفتہ وار اور ماہانہ بھتہ وصول کر کے ان غیر قانونی سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ایک پیٹرول فروش نے انکشاف کیا کہ متعلقہ تھانے کی جانب سے 20 سے 25 ہزار روپے ماہانہ رشوت کے عوض فروخت کی اجازت دی جاتی ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈی آئی جی کوئٹہ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے فوری نوٹس لینے، غیر قانونی فروخت کا مستقل سدباب کرنے اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول کا معیار ناقص ہونے کے باعث یہ نہ صرف گاڑیوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ماحولیات کے لیے بھی خطرناک ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں