مولانا محمدالیاس عطار قادری
اللہ پاک کا ہم گنہگاروں پر بڑا فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے پیارے حبیب آخری نبی محمدعربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُمتی بنایا۔ ہمارے پیارے آقا سارے رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں اور اللہ رب العزت کی رحمت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت پچھلی تمام اُمتوں سے بہتر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ پاک کا سب سے آخری نبی ماننا ضروریاتِ دین میں ہے، جو اس کا انکار کرے یا اس میں ذرہ برابر بھی شک کرے، وہ اسلام سے خارج اور کافر و مرتد ہے۔ اللہ پاک قرآن کریم کی سورة احزاب آیت 40 میں واضح ارشاد فرماتا ہے:
”محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے“۔ (ترجمہ کنز العرفان)
علامہ سید محمدنعیم الدین مراد آبادی ”خزائن العرفان“ میں لکھتے ہیں کہ محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، نبوت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتیٰ کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پا چکے ہیں مگر نزول کے بعد شریعت محمدیہ پر عامل (یعنی عمل کرنے والے) ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور کعبہ شریف کی طرف نماز پڑھیں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری نبی ہونا قطعی یعنی یقینی ہے اور یہ قطعیت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ قرآنِ مجید کی صریح آیت بھی موجود ہے اور احادیث تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں اور آپ کے پاس کوئی نبی ہونے والا نہیں، جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے وہ ختم نبوت کا منکر، کافر اور اسلام سے خارج ہے۔
خاتم کا مطلب: مفتی احمدیار نعیمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”خاتم“ ختم سے مشتق ہے اور ختم کے معنی مہر اور آخری کے ہیں بلکہ مہر کو بھی خاتم اسی واسطے کہتے ہیں کہ وہ مضمون کے آخر میں لگائی جاتی ہے یا یہ کہ جب کسی تھیلے پر مہر لگ گئی تو اب کوئی چیز باہر کی اندر اور اندر کی باہر نہیں جا سکتی، اسی طرح یہ آخری مہر لگ چکی، باغ نبوت کا آخری پھول کھل چکا، خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاتم النبیین کے معنی بیان فرمائے ہیں کہ ”لانبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (شان حبیب الرحمن ص171)
جانور بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی سلیم کا ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگا: میں اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لاﺅں گا جب تک میری یہ گوہ آپ پر ایمان نہ لائے۔ یہ کہہ کر اس نے گوہ (یعنی چھپکلی سے ملتے جلتے اس جانور) کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گوہ کو پکارا تو اس نے لبیک و سعدیک یعنی میںحاضر ہوں اور فرمانبرداری کےلئے تیار ہوں، اتنی بلند آواز سے کہا کہ تمام حاضری نے سن لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تیرا معبود کون ہے؟ گوہ نے جواب دیا: میرا معبود وہ ہے کہ جس کا عرش آسمان پر ہے اور اسی کی بادشاہی زمین پر ہے، اُس کی رحمت جنت میں ہے اور اُس کا عذاب جہنم میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے گوہ، یہ بتا کہ میں کون ہوں؟ تو گوہ نے بلند آواز سے کہا: آپ اللہ رب العالمین کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جھٹلایا وہ نامراد ہو گیا۔ یہ دیکھ کر اعرابی اس قدر متاثر ہوا کہ فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ (معجم اوسط، ج4، ص 283)
عقیدہ¿ ختم نبوت کی اہمیت: عقیدہ ختم نبوت سے مراد یہ ماننا ہے کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے آخری نبی ہیں۔ اللہ پاک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر سلسلہءنبوت کو ختم فرما دیا ہے۔ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری زندگی کے زمانے سے لیکر قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے سے عقیدہ ختم نبوت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ محمدعربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے بعد کسی کو نبوت نہ ملے گی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہلے کے نبی ہیں، آپ بحیثیت نبی اپنی شریعت کی تبلیغ نہیں فرمائیں گے بلکہ اللہ پاک کے سب سے آخری نبی محمدعربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت پر ہی عمل کرائیں گے، گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے آئیں گے۔ (تفسیر نسفی ص943 سے خلاصہ)۔ یاد رہے کہ کسی نبی کو نبوت ملنے کے بعد اس سے نبوت زائل نہ ہو گی بلکہ ہمیشہ ان کی نبوت قائم رہتی ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں مذکور ہے: ”حاشا! نہ کوئی رسول رسالت سے معزول کیا جاتا ہے نہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام رسالت سے معزول ہوں گے، نہ حضور کا اُمتی ہونا رسالت کےخلاف۔“۔ عقیدہ ختم نبوت کا وہی درجہ ہے جو عقیدہ توحید کا ہے یعنی دونوں ہی ضروریاتِ دین سے ہیں لہٰذا مسلمانوں کےلئے جس طرح اللہ پاک کو ایک ماننا ضروری ہے ایسے ہی اس کے پیارے حبیب حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے آخری نبی ماننا بھی ضروری ہے۔
کوئی دلیل نہیں مانگی جائے گی: حضرت امام ابومنصور ماتریدی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی کے آنے کا دعویٰ کرے تو اُس سے کوئی دلیل نہیں مانگی جائے گی بلکہ اس کا انکار کیا جائےگا کیونکہ اللہ پاک کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما چکے ہیں ”میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔
جھوٹے نبی سے معجزہ طلب کرنا کیسا؟ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں مذکور ہے: عرض کیا جھوٹے مدعی نبوت (یعنی نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے) سے معجزہ طلب کیا جا سکتا ہے؟ ارشاد فرمایا: اگر مدعی نبوت (یعنی نبی ہونے کا دعویٰ کرنے والے) سے اس خیال سے کہ اس کا عجز (یعنی ناکامی اور ہار) ظاہر ہو معجزہ طلب کرے تو حرج نہیں اور اگر تحقیق کےلئے معجزہ طلب کیا کہ یہ معجزہ بھی دیکھا سکتا ہے یا نہیں تو فوراً کافر ہو گیا۔ (فتاویٰ عالمگیری)
ایمان کی سلامتی کی فکر نہ کرنے کا نقصان: ایک انسان کےلئے سب سے قیمتی بلکہ انمول چیز اس کا ایمان ہے، اللہ پاک کی رحمت سے جسے ایمان کی دولت حاصل ہے وہ مال کے اعتبار سے اگرچہ غریب ہو مگر ایمان کی دولت سے محروم کروڑوں، اربوں پتی شخص سے بھی بڑا مالدار ہے جبکہ دولت اسلام سے محروم مالدار درحقیقت مفلس و نادار ہے اور معاذاللہ ثم معاذاللہ اسی حالت (یعنی کفر کی حالت) میں مرنے والا ہمیشہ ہمیشہ کےلئے جہنم میں رہے گا۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ ہمیشہ ایمان کی سلامتی اور خاتمہ بالخیر کی بارگاہِ رب العزت میں دُعا کرتا رہے۔ اس پرفتن دور میں جہاں نیک اعمال کرنے میں بے حد سستی آ چکی ہے وہیں ایمان کی حفاظت کی فکر بھی بہت کم نظر آتی ہے، آئے دن نئے نئے فتنے مختلف انداز سے مسلمانوں کے ایمان کو کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں، ایمان کی سلامتی کی فکر نہایت ضروری ہے، چاہے ساری زندگی نیکیوں میں گزاری ہو لیکن خدانخواستہ خاتمہ ایمان پر نہ ہو تو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے دوزخ میں رہنا ہو گا۔ فرمانِ آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ”اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے“۔ (صحیح بخاری)
صحیح بخاری کی ایک حدیث میں مذکور ہے: ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاءکی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک بہت حسین و جمیل گھر بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں وہ (آخری) اینٹ ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں“۔
دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”اس اینٹ کی جگہ (کو پر کرنے والا) میں ہوں، میں آیا تو نبیوں (کے سلسلے) کو ختم (یعنی مکمل) کر دیا“۔ (صحیح مسلم)
مفتی احمدیار خان رحمة اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: سبحان اللہ! کیسی پیاری مثال ہے، ”نبوت“ گویا نورانی محل ہے، حضراتِ انبیاءکرام علیہم السلام گویا اس کی نورانی اینٹیں، حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا اس محل کی آخری اینٹ ہیں جس پر اس عمال کی تکمیل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے زمانے میں یا آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ جیسے اس آخری اینٹ سے وہ محل مکمل ہو جائے گا اور اس کے بعد اس میں کسی اینٹ کی جگہ نہ رہے گی، یوں ہی مجھ سے نبوت کا محل مکمل ہو گیا اب کسی نبی کی گنجائش نہ رہی۔ خیال رہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریب ِ قیامت زمین پر تشریف لائیں گے مگر وہ پہلے کے نبی ہیں، بعد کے نبی نہیں (اور) یہ اینٹ پہلے کی لگی ہوئی ہے نیز وہ اب نبوت کی شان سے (یعنی اپنی نبوت کے احکام جاری کرنے کےلئے) نہ آئیں گے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُمتی ہو کر۔ خیال رہے کہ آخری بیٹا وہ ہے جس کے بعد کوئی بیٹا پیدا نہ ہو، یہ ضروری نہیں کہ پچھلے سارے بیٹے مر چکے ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ”آخری نبی“ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانے میں اور آپ کے زمانے کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو گا، اگر پہلے کے کوئی نبی (ظاہری طور پر بھی) زندہ ہوں تو (اس میں) مضائقہ نہیں۔ چار نبی اب تک (ظاہری طور پر بھی) زندہ ہیں، دو زمین پر حضرت خضر اور حضرت الیاس علیہم السلام اور دو آسمان پر حضرت ادریس اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام، ان کی زندگی حضورِ انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کےخلاف نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوّل مخلوق ہیں اور آخری نبی ہیں۔