jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ ملکی مفاد

تجزیہ بی این پی
خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی نے ملکی سیاست میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کو حکومت نے قومی سلامتی، انتظامی استحکام اور عوام کے تحفظ کے تقاضوں سے جوڑا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ ایمرجنسی کا نفاذ پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ثابت ہوگا اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی توجہ صوبے میں امن و امان کی بحالی، انتظامی معاملات کو مؤثر بنانے اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔ تاہم اس فیصلے کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ اس کے ذریعے عوام کو امن، تحفظ، بہتر حکمرانی اور معاشی و سماجی ترقی کے کتنے مواقع میسر آتے ہیں۔نواز شریف نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال خراب ہو چکی تھی اور حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے، اس لیے ایمرجنسی کا نفاذ ایک ضروری قدم تھا۔ ان کے مطابق صوبے میں گزشتہ تیرہ برس کے دوران تحریک انصاف کی حکومت نے ترقیاتی کاموں پر مطلوبہ توجہ نہیں دی اور عوام کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ صوبائی وسائل کو وفاقی دارالحکومت کی طرف سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال کرنا کس طرح درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی صوبے کے وسائل کا بنیادی مقصد وہاں کے شہریوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی ضروریات پوری کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنایا جائے۔
سابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام بھی اسی معیار کی ترقی اور خوشحالی کے مستحق ہیں جو ملک کے دوسرے حصوں کے شہریوں کو حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے ماضی میں صوبے کے لوگوں کے علاج معالجے کے لیے لاہور آنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو اپنے علاقوں میں بہتر طبی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں۔ اس بیان کا بنیادی پہلو صوبائی ترقی میں عدم توازن اور عوامی سہولتوں کی فراہمی کا مسئلہ ہے۔ کسی بھی صوبے کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ صرف سیاسی مقبولیت یا انتخابی کامیابی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات سے بھی لیا جانا چاہیے کہ اس نے عام شہری کی زندگی میں کتنی بہتری پیدا کی، صحت اور تعلیم کے اداروں کو کس حد تک فعال بنایا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ مجبوری کے تحت اور پاکستان کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعاون کی پیشکش کی تھی اور وزیراعلیٰ کو دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت سے بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت سنجیدگی کے ساتھ صوبے کے مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے تیار تھی، لیکن سیاسی محاذ آرائی، لانگ مارچ اور دھمکیوں کے باعث تعاون کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے دھرنوں کے نتیجے میں قومی نظام کے متاثر ہونے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ سال کے واقعات کے بعد ایک بار پھر ایسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ تھا جن سے ملک میں خون ریزی ہو سکتی تھی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر اتفاق ہوا تھا، لیکن آخری مرحلے میں مسودے کی منظوری سے انکار کر دیا گیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ مذاکراتی کمیٹی نے اختلافات دور کرنے اور معاملے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لیے رات بھر کوششیں کیں، تاہم بات آگے نہ بڑھ سکی۔
سیاسی اختلافات کسی بھی جمہوری نظام کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن ان اختلافات کو قومی سلامتی، عوامی زندگی اور ریاستی اداروں کے معمولات متاثر کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، تاہم اس حق کے استعمال میں قانون، شہریوں کی آزادی اور قومی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح حکومت پر بھی لازم ہے کہ وہ سیاسی اختلاف رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے آئینی حدود، قانونی تقاضوں اور جمہوری روایات کی پاسداری کرے۔ ایمرجنسی جیسے غیر معمولی انتظامی فیصلے کی افادیت کا تعین اسی وقت ممکن ہوگا جب ان کے نتیجے میں امن و امان بہتر ہو، شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں اور صوبے میں حکمرانی کا نظام عوامی ضروریات کے مطابق کام کرنے لگے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق خیبر پختونخوا کی صورت حال کو محض وفاق اور صوبے یا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مقابلے کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ اس مسئلے کا ایک اہم پہلو دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ صوبے کے متعدد علاقوں کو بدامنی، دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی ذمہ داری سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، کاروباری طبقے، طلبہ اور ان خاندانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جن کی روزمرہ زندگی پہلے ہی مشکلات کا شکار ہوتی ہے۔وزیراعظم کے مشیر رانا ثنائ اللہ نے بھی سیاسی مذاکرات کے حوالے سے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں، تاہم ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے تحت قائم کیے گئے انتظامی نظام کو کام کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کو بھی اس قومی کوشش میں تعاون کی دعوت دی۔
یہ مؤقف اس اعتبار سے اہم ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتفاق رائے قومی قوت میں اضافہ کر سکتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے باوجود امن و امان، شہریوں کے تحفظ اور ریاستی استحکام کے معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینا ممکن ہونا چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت باہمی اعتماد کے فقدان کو کم کرنے، غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کرنے اور قومی مفاد کے معاملات کو ترجیح دینے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے نہ صرف انتظامی مشکلات کم ہوں گی بلکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو بھی مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات کے مقام پر اختلاف بھی سیاسی رابطوں کے عمل میں ایک رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حکومت نے وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ کسی تیسرے مقام پر ملاقات کی تجویز قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس ریاست کی ملکیت ہے اور وہاں ملاقات کے لیے کسی متبادل مقام کی ضرورت نہیں۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے سلسلے میں اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط ارسال کیے ہیں اور حکومت ان کے جواب کی منتظر ہے۔
چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری آئینی اور پارلیمانی اہمیت کا معاملہ ہے، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت ضروری ہے۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ ملاقات کے مقام جیسے انتظامی اختلاف کو آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ باہمی احترام اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی راہ نکالیں جس سے مشاورت کا عمل آگے بڑھے۔ سیاسی قیادت کی سنجیدگی کا اظہار صرف بیانات سے نہیں بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ اختلافات کے باوجود قومی اور آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو یقینی بناتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اصل امتحان انتظامی کارکردگی کا ہوگا۔ امن و امان کی بحالی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، ترقیاتی منصوبوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ صوبے کے شہریوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ انتظامی تبدیلیوں کا مقصد ان کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔ ہسپتالوں میں علاج، تعلیمی اداروں میں معیاری سہولتوں، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بہتری، صاف پانی کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے معاملات کو نظرانداز کرکے پائیدار ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔اسی طرح دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ عوامی تعاون کے بغیر امن کی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ شہریوں کی شکایات سنے، قانون کے مطابق کارروائی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی انتظامی اقدام سے عام لوگوں کی روزمرہ زندگی غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔ ریاستی اختیار کا بنیادی مقصد شہریوں کا تحفظ اور ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔ چنانچہ ایمرجنسی کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات کو واضح اہداف، قانونی نگرانی اور جواب دہی کے مؤثر نظام سے منسلک ہونا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کھیلوں کے میدان میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نوجوان کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو بھی سراہا ہے۔ اسلام آباد میں ایشین گیمز میں تمغے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے اپنی محنت، لگن اور والدین کی دعاؤں سے ملک کا نام روشن کیا۔ پاکستان نے ان مقابلوں میں دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ وزیراعظم نے اس کامیابی پر کھلاڑیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے ہر حصے میں موجود باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ کھلاڑیوں کو مالی معاونت کے چیک دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا حق ہے، کوئی احسان نہیں۔ اس بیان میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کا حصہ بنانے اور کھیلوں کے شعبے میں میرٹ کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنے کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔وزیراعظم نے ہاکی، اسکواش اور کرکٹ سمیت مختلف کھیلوں میں پاکستان کی سابقہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستانی کھلاڑیوں نے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ حسن سردار، شہناز شیخ اور اختر رسول جیسے ہاکی کے کھلاڑیوں جبکہ جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے اسکواش کے عظیم کھلاڑیوں کی کامیابیاں پاکستان کے لیے باعث فخر رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اور فٹ بال، والی بال، کبڈی اور دیگر کھیلوں میں نوجوانوں کی صلاحیتیں نکھارنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کھیلوں کا فروغ کسی بھی ملک کی سماجی ترقی، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں اور قومی تشخص کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے محض تقریبات اور مالی امداد کافی نہیں، بلکہ کھیلوں کے میدانوں کی دستیابی، جدید تربیتی سہولتوں، تجربہ کار کوچز، شفاف انتخابی نظام اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر نوجوانوں کو ابتدا ہی سے مناسب تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ خصوصاً خیبر پختونخوا جیسے صوبے میں، جہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد کھیلوں میں دلچسپی رکھتی ہے، کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سماجی ہم آہنگی اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی، انتظامی استحکام اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے حکومتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کو حکومت ایک ضروری قدم قرار دے رہی ہے اور اس سے مثبت نتائج کی توقع رکھتی ہے۔ تاہم اس فیصلے کی کامیابی کا اصل معیار سیاسی بیانات یا وقتی انتظامی تبدیلیاں نہیں بلکہ صوبے میں پائیدار امن، دہشت گردی میں کمی، بہتر طرز حکمرانی اور عوامی زندگی میں قابلِ پیمائش بہتری ہوگا۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبے کی ترقی کے لیے اپنے تعاون کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرے، جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے معاملات پر مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور امن و امان کے شعبوں میں ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات اسی وقت مثبت نتائج دے سکیں گے جب ان کا محور عوام کا تحفظ، قانون کی حکمرانی، اداروں کی مؤثر کارکردگی اور ترقی کے یکساں مواقع ہوں گے۔ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا، آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدگی دکھانا اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت، اپوزیشن اور متعلقہ ادارے ان اصولوں کو ترجیح دیں تو خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کی بحالی کے ساتھ ساتھ عوام کی خوشحالی اور قومی ترقی کی راہیں بھی ہموار کی جا سکتی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More