jahaneimroz
Chief editor Faizullah Durrani

سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کے خطرات کا سامنا

تجزیہ بی این پی
پاکستان کی قومی سلامتی، سرحدوں کا تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ایسے بنیادی تقاضے ہیں جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو ایک طرف سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے تو دوسری جانب خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی سطح پر بھی اہم کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، مؤثر سرحدی نگرانی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مستقل عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ان کا یہ دوٹوک مؤقف قومی دفاع کے حوالے سے پاکستان کی ترجیحات اور مسلح افواج کے عزم کا عکاس ہے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ محض تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس کی عسکری زندگی میں قدم رکھنے کی تقریب نہیں، بلکہ یہ قومی دفاع کی ذمہ داریاں سنبھالنے والی نئی نسل کی صلاحیتوں، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ تربیت کا اظہار بھی ہے۔ جنرل سید عامر رضا نے اس موقع پر کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عملی زندگی میں انہیں ہر روز مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کا مقابلہ بہادری، دیانت داری اور جرات کے ساتھ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق قیادت کے بنیادی اصولوں میں دیانت داری، بہادری اور جرات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ اصول کسی بھی پیشہ ور فوجی افسر کے کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ قومی دفاع کی ذمہ داری صرف عسکری مہارت تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے بلند اخلاقی معیار، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ بھی ضروری ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق پاکستان کی سرحدوں پر حالیہ کشیدگی کے تناظر میں جنرل سید عامر رضا کا خطاب خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے تائدہ سیکٹر، اپر کرم اور غوزگڑھی کے علاقوں میں افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان واقعات کے دوران افغان طالبان کی کارروائیوں کا مقصد مبینہ طور پر خارجی دہشت گردوں کو سرحد پار داخل ہونے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان اطلاعات کے مطابق فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مخالف جانب جانی نقصان اور عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اپر کرم سیکٹر میں ٹاپسر پوسٹ اور شپولا بیس کیمپ کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ سرحدی سلامتی کا معاملہ محض جغرافیائی حدود کی حفاظت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق شہریوں کی جان و مال، قومی خودمختاری اور ملک کے اندر امن و امان سے ہے۔ سرحد پار سے مسلح افراد کی دراندازی کی کوششیں ان علاقوں میں رہنے والی آبادی کے لیے بھی خطرات پیدا کرتی ہیں جہاں پہلے ہی جغرافیائی دشواریوں اور سلامتی کے مسائل کے باعث معمولات زندگی متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ ایسے حالات میں سکیورٹی فورسز کے لیے ضروری ہے کہ وہ چوکس رہتے ہوئے کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت مقابلہ کریں اور سرحدی علاقوں کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
پاکستان کی پالیسی کا بنیادی تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ دہشت گردی اور دراندازی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ سرحدی کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی ذرائع بھی بروئے کار لائے جائیں۔ ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، تاہم سرحدی تنازعات اور سکیورٹی کے مسائل کا مستقل حل اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے قابلِ اعتماد اقدامات کیے جائیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کو یقینی بنانا دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ اس مقصد کے لیے مؤثر سرحدی انتظام، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطوں کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپر کرم سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تائدہ اور غوزگڑھی میں جوابی کارروائی کو فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر قرار دیا ہے۔ ان کا ردعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی سلامتی کا معاملہ کسی ایک صوبے یا علاقے تک محدود نہیں، بلکہ پورے ملک کے تحفظ سے وابستہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر ہم آہنگی اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس ضمن میں سیاسی قیادت، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو اپنے اپنے دائرہ کار میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملک کی سلامتی کے لیے مسلح افواج کی قربانیاں بھی اس قومی عزم کا اہم حصہ ہیں۔ جنرل سید عامر رضا نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ ہمارے بہادر جوان ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور نئے افسران کے کندھوں پر ملکی سلامتی، وقار اور تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری فوجی پیشے کے بنیادی تقاضوں کی یاد دہانی ہے۔ ایک افسر کو نہ صرف میدان میں قیادت کرنا ہوتی ہے بلکہ اپنے ماتحت جوانوں کی تربیت، ان کی حفاظت، مشکل حالات میں درست فیصلوں اور قومی مفادات کے تحفظ کو بھی مقدم رکھنا ہوتا ہے۔ اسی لیے عسکری تربیت میں نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقی کردار کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقدہ تقریب میں 154ویں پی ایم اے لانگ کورس، 39ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 28ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس نے تربیت مکمل کی۔ پاک فوج کے شعب? تعلقات عامہ کے مطابق بنگلہ دیش، عراق، مالدیپ، فلسطین، قطر، سری لنکا، تاجکستان اور یمن سمیت متعدد دوست ممالک کے کیڈٹس نے بھی گریجویشن کی۔ جنرل سید عامر رضا نے بطور مہمان خصوصی اور ریویوئنگ آفیسر پریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے۔ 154ویں پی ایم اے لانگ کورس کے اکیڈمی سینئر انڈر آفیسر محمد جنید جبار کو اعزازی شمشیر جبکہ اسی کورس کے بٹالین سینئر انڈر آفیسر سید حسن عباس کو صدارتی طلائی تمغے سے نوازا گیا۔
دوست ممالک کے کیڈٹس کی شرکت اس تقریب کو مزید اہمیت دیتی ہے۔ عسکری تربیت کے ادارے صرف پیشہ ورانہ مہارتوں کی منتقلی کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے ذریعے مختلف ممالک کے درمیان باہمی رابطوں، اعتماد اور تعاون کو بھی فروغ ملتا ہے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں مختلف ممالک کے افسران کی تربیت اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان دفاعی تربیت اور عسکری تعاون کے میدان میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے روابط مستقبل میں مشترکہ سلامتی کے مسائل کو سمجھنے، باہمی تعاون بڑھانے اور علاقائی استحکام کے لیے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔جنرل سید عامر رضا نے اپنے خطاب میں خطے کی حالیہ کشیدہ صورت حال کے دوران پاکستان کے مثبت عالمی کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق دنیا نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کا ثالثی کردار دیکھا ہے۔ یہ مؤقف اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قومی سلامتی اور سفارت کاری ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ پاکستان کو جہاں اپنی سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہے، وہیں عالمی سطح پر امن، مذاکرات اور تنازعات کے پْرامن حل کے لیے بھی اپنا کردار جاری رکھنا ہے۔ خطے میں کشیدگی کم کرنا نہ صرف پاکستان بلکہ تمام متعلقہ ممالک کے مفاد میں ہے، کیونکہ تصادم کی صورت میں انسانی جانوں کے ضیاع، تجارت میں رکاوٹوں اور معاشی مشکلات میں اضافے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔اس تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ضروری ہے کہ دفاعی تیاری اور سفارتی روابط میں مناسب توازن برقرار رکھا جائے۔ جہاں بھی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، وہاں ریاستی اداروں کی جانب سے مؤثر ردعمل ناگزیر ہے؛ تاہم مستقل امن کے لیے تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا بھی ضروری ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کی روک تھام، ہمسایہ ممالک کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات اور علاقائی تعاون کے ذریعے ایسے ماحول کی تشکیل ممکن ہے جس میں عوام کو امن و ترقی کے بہتر مواقع میسر آئیں۔ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔
جنرل سید عامر رضا نے مسئلہ کشمیر کو بھی اپنے خطاب میں اہمیت دی اور کہا کہ یہ عالمی سطح پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل طلب معاملہ ہے۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس تنازعے کا پْرامن حل جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے، پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری لانے اور خطے میں معاشی و سماجی تعاون کے امکانات بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے سنجیدہ مذاکرات، سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر توجہ کی ضرورت برقرار رہے گی۔
انہوں نے فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ فلسطینی عوام کی مشکلات اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات عالمی برادری کی توجہ کے متقاضی ہیں۔ شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی فراہمی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانا عالمی امن کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔ پاکستان کا مؤقف بھی یہی رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو انصاف اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے مؤثر عالمی کوششیں کی جانی چاہئیں۔ کشمیر اور فلسطین کے معاملات کا ذکر اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے ساتھ انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری بھی پاکستان کے سفارتی بیانیے کا اہم حصہ ہے۔خواتین کی مسلح افواج میں شرکت کو جنرل سید عامر رضا نے باعث افتخار قرار دیا۔ جدید دور میں دفاعی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے میرٹ، تربیت اور صلاحیت کی بنیاد پر مواقع فراہم کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ خواتین کی شرکت اس امر کی علامت ہے کہ قومی خدمات کے مختلف شعبوں میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ عسکری اداروں میں پیشہ ورانہ معیار، نظم و ضبط اور یکساں مواقع کی حوصلہ افزائی سے ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم ضرورت قومی سلامتی کے معاملات پر واضح پالیسی، مؤثر سرحدی انتظام اور دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائی ہے۔ سرحد پار سے دراندازی کی کسی بھی کوشش کو روکنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سرحدی علاقوں کے عوام کی مشکلات دور کرنے، مقامی انتظامیہ کو مضبوط بنانے اور متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں جاری رکھنے پر توجہ دی جائے۔ امن و امان کی بہتری کے بغیر تعلیم، صحت، روزگار اور کاروبار کے مواقع پوری طرح فروغ نہیں پا سکتے۔ اسی لیے سکیورٹی اقدامات کو وسیع تر قومی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب قومی ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کریں، سیاسی قیادت قومی مفادات پر اتفاق رائے کو فروغ دے اور عوام ریاستی کوششوں کا ساتھ دیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی صرف جوابی کارروائیوں سے نہیں بلکہ ان عوامل کے خاتمے سے بھی وابستہ ہے جو شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ بہتر حکمرانی، مؤثر قانون نافذ کرنے کا نظام، سرحدی علاقوں میں ترقی، عوامی اعتماد اور ذمہ دارانہ سفارت کاری اس حکمت عملی کے لازمی اجزا ہیں۔جنرل سید عامر رضا کا یہ پیغام کہ پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں اور مسلح افواج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، قومی دفاع کے عزم کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس عزم کو عملی کامیابی میں بدلنے کے لیے مسلسل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی ناگزیر ہیں۔ پاکستان کو اپنے دفاع کے حق کا بھرپور تحفظ کرتے ہوئے خطے میں امن کے امکانات بھی برقرار رکھنے چاہئیں۔ مضبوط دفاع اور مؤثر سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ یہی متوازن حکمت عملی
پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور مستقبل کے استحکام کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More