تجزیہ بی این پی
مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال، سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں اضافے اور خطے کے اہم تزویراتی و اقتصادی مراکز کو درپیش خطرات نے علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ حقیقت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ کسی بھی ملک کی سلامتی محض اس کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا گہرا تعلق علاقائی استحکام، اقتصادی خودمختاری، توانائی کے محفوظ ترسیلی نظام اور باہمی تعاون سے بھی ہوتا ہے۔ بالخصوص گلوبل ساؤتھ، جس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے متعدد ترقی پذیر ممالک شامل ہیں، کے لیے یہ صورتِ حال اہم سبق رکھتی ہے کہ پائیدار امن کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے علاقائی تعاون اور مشترکہ ذمہ داریوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے نئے سفیر ڈاکٹر راجح طامی البقمی سے ملاقات اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ پاکستان سعودی مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ان کا یہ مؤقف دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ تزویراتی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض مذہبی وابستگی یا روایتی سفارتی مراسم تک محدود نہیں بلکہ ان میں دفاعی تعاون، اقتصادی شراکت داری اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا عزم بھی شامل ہے۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق، سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مذمت اور اس کی سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کو ایک وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات نے واضح کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا انحصار کسی ایک ملک یا بیرونی طاقت کی صلاحیت پر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے علاقائی ریاستوں کو اپنی دفاعی استعداد بہتر بنانے، سفارتی روابط مضبوط کرنے اور خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اسی سوچ کا حصہ ہے، جس کا بنیادی مقصد تنازعات کو پھیلنے سے روکنا اور خطے میں امن کے امکانات کو محفوظ بنانا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے اقدامات پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے مطابق شہری آبادی، ہوائی اڈوں، توانائی کے مراکز اور دیگر غیر فوجی تنصیبات کا تحفظ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان مقامات پر حملوں سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں بلکہ تجارت، توانائی کی ترسیل، فضائی رابطوں اور روزمرہ زندگی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔
سعودی عرب کی جغرافیائی اہمیت بھی اس صورتِ حال کو غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ مملکت مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور اقتصادی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور عالمی توانائی منڈیوں میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔ اگر اس کے تیل کے پیداواری مراکز، ترسیلی نظام یا اہم ہوائی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنایا جائے تو اس کے اثرات سعودی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت کے اخراجات میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ایسے نتائج ہیں جو علاقائی کشیدگی کو عالمی اقتصادی مسئلے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب کی سلامتی کو صرف ایک ریاست کا داخلی یا دوطرفہ معاملہ سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے وسیع تر علاقائی اور عالمی استحکام سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے اہم مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات نے اس تشویش کو مزید بڑھایا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں ظہران میں آرامکو کے مرکزی دفتر پر حملے، مدینہ منورہ کی جانب کروز میزائل داغے جانے اور 11 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کی اطلاعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان واقعات سے متعلق ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق اپنی جگہ ضروری ہے، تاہم بنیادی اصول واضح ہے کہ شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے والے اقدامات کشیدگی میں اضافہ کرتے اور تنازع کے دائرے کو وسیع کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اشتعال انگیزی کا جواب سوچ سمجھ کر دینا، دفاعی تیاری برقرار رکھنا اور سفارتی ذرائع کو فعال رکھنا کسی بھی ذمہ دار ریاست کی ترجیح ہونی چاہیے۔
حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم پہلو بحیرہ احمر اور باب المندب کی تزویراتی اہمیت بھی ہے۔ باب المندب بین الاقوامی بحری تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں عدم استحکام پیدا ہونے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر بحری جہازوں کی آمدورفت غیر محفوظ ہو جائے تو تجارتی کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا اثر بالآخر صارفین، صنعتوں اور درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشتوں تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بحری راستوں کا تحفظ محض علاقائی دفاع کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی نظام کے تسلسل سے بھی براہِ راست وابستہ ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ توانائی کی درآمدات، بیرونی تجارت اور اقتصادی استحکام کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔ خطے میں طویل کشیدگی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو اس کے اثرات ملکی درآمدی بل، نقل و حمل کے اخراجات، صنعتی پیداوار اور عام شہریوں کی قوتِ خرید پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی کی حمایت کو محض برادرانہ تعلقات کے اظہار تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ موقف اس وسیع تر مفاد سے بھی جڑا ہوا ہے کہ خطے میں جنگ کے امکانات کم ہوں، اہم تجارتی راستے محفوظ رہیں اور اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ماحول برقرار رہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اسی تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے معاہدوں کی افادیت کا انحصار صرف ان کے اعلان پر نہیں بلکہ ان کے تحت تعاون کے واضح طریقہ کار، باہمی مشاورت، دفاعی تیاری اور ذمہ داریوں کی حدود پر بھی ہوتا ہے۔ مؤثر دفاعی شراکت داری کا مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف محاذ آرائی کو بڑھانا نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کی روک تھام، دفاعی صلاحیت میں بہتری اور امن کے لیے قابلِ اعتماد ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تعاون کو ایسے اصولوں کے تحت آگے بڑھائیں جو دونوں ممالک کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے ساتھ علاقائی کشیدگی میں غیر ضروری اضافے سے بھی بچائیں۔
اس ضمن میں مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا تصور بھی قابلِ توجہ ہے۔ فراہم کردہ تحریر کے مطابق، رواں سال اگست میں اس اتحاد کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل پر کام جاری ہے۔ پاکستان کو اس کے پہلے سیکرٹری جنرل کا منصب دیا گیا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تعیناتی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو اگر ایک مؤثر اور شفاف علاقائی تعاون کے نظام میں ڈھالا جائے تو یہ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی مشاورت، معلومات کے تبادلے، خطرات کی پیشگی نشاندہی اور ہنگامی حالات میں مشترکہ ردعمل کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی نئے اتحاد کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی دائرہ کار، رکن ممالک کے اتفاقِ رائے، قانونی بنیادوں اور واضح مقاصد پر ہوگا۔
تجزیہ بی این پی کے مطابق، مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کی اصل اہمیت اس امکان میں پوشیدہ ہے کہ مسلم ممالک اپنے باہمی تعلقات کو رسمی بیانات سے آگے لے جا کر مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے قابلِ عمل تعاون میں تبدیل کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ رکن ممالک کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا جائے، دفاعی رابطوں کو منظم بنایا جائے اور ہر ملک کی خودمختاری اور قومی ترجیحات کا احترام کیا جائے۔ اتحاد کو کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم کے بجائے دفاعی تحفظ، علاقائی استحکام اور تنازعات کی روک تھام کا ذریعہ بننا چاہیے۔ اگر اس کی بنیاد ان اصولوں پر رکھی گئی تو اس کے ذریعے نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر شریک ممالک کی سلامتی کے تقاضوں کو بھی بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے گا۔
پاکستان اور ترکیہ کی اس سلسلے میں ممکنہ شراکت داری خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے پاس دفاعی شعبے میں تجربہ، سفارتی روابط اور علاقائی معاملات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ تاہم کسی بھی فوجی تعیناتی، دفاعی تعاون یا پارلیمانی منظوری سے متعلق اطلاعات کو حتمی پالیسی قرار دینے سے پہلے متعلقہ حکومتوں کے سرکاری اعلانات کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ دفاعی تعاون کے ایسے معاملات میں قیاس آرائی کے بجائے مستند معلومات کی بنیاد پر رائے قائم کرنا زیادہ مناسب ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں اور بیرونی شراکت داریوں کو قومی مفادات، آئینی تقاضوں اور داخلی سلامتی کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھے۔
موجودہ حالات نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کی ہے کہ عرب ممالک اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ یا کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار نہیں کر سکتے۔ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اپنی جگہ اہم ہے، لیکن پائیدار دفاعی حکمتِ عملی کے لیے مقامی صلاحیت، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ ذمہ داریوں کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ کسی بیرونی طاقت کی ترجیحات وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں اور عالمی سیاست میں قومی مفادات اکثر فیصلوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اسی لیے علاقائی ممالک کو اپنی دفاعی ضروریات کے بارے میں واضح سوچ اختیار کرنی چاہیے اور ایسے نظام تشکیل دینے چاہییں جو ہنگامی حالات میں انہیں بروقت اور مؤثر فیصلہ سازی کے قابل بنا سکیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے جائیں یا موجودہ دفاعی شراکت داریوں کو غیر ضروری سمجھا جائے۔ اصل ضرورت متوازن خارجہ پالیسی کی ہے، جس میں بین الاقوامی تعاون سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی خودانحصاری کو بھی فروغ دیا جائے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے لیے یہ راستہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ دفاعی تعاون کے ذریعے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ کسی بھی دفاعی اتحاد کی کامیابی کا معیار صرف اس کی فوجی طاقت نہیں بلکہ یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ وہ تصادم کے امکانات کم کرنے اور پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر تناظر میں اسرائیل فلسطین تنازع، علاقائی رقابتیں اور بڑی طاقتوں کے باہمی مفادات بھی سلامتی کے ماحول پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں اور فلسطینی علاقوں میں جاری تنازع کے باعث پہلے ہی خطے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کی اسرائیل کے لیے حمایت مشرقِ وسطیٰ کی سفارت کاری اور سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے حالات میں مسلم ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو مزید بڑھانے کے بجائے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعاون کے امکانات تلاش کریں۔ تاہم علاقائی مسائل کو صرف ایک فریق کی پالیسیوں تک محدود کر دینا بھی ان کی پیچیدگی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ دیرپا حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو بین الاقوامی قانون، ریاستوں کی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔
بالخصوص عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان اعتماد کی بحالی علاقائی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے باہمی اختلافات اور تزویراتی رقابتوں نے مختلف ادوار میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو پیچیدہ بنایا ہے۔ اگر ان ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہو، سفارتی رابطے مضبوط ہوں اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں تو بیرونی مداخلت کے امکانات کم کرنے اور مشترکہ سلامتی کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس باہمی بداعتمادی، پراکسی تنازعات اور مسلح کارروائیاں خطے کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھ سکتی ہیں۔ اس لیے علاقائی ممالک کو اختلافات کے باوجود ایسے مشترکہ نکات تلاش کرنا ہوں گے جن پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے بھی اس صورتِ حال میں ایک اہم پیغام موجود ہے۔ ترقی پذیر ریاستوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتصادی ترقی، سیاسی استحکام اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ توانائی کے وسائل، تجارتی راستوں، اہم بندرگاہوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی طرح دفاعی تعاون کو اقتصادی ترقی کا متبادل سمجھنے کے بجائے اس کا معاون بنانا چاہیے۔ اگر خطے کے ممالک اپنے وسائل کا بڑا حصہ مسلسل تنازعات اور ہنگامی دفاعی اقدامات پر خرچ کرنے پر مجبور رہیں تو تعلیم، صحت، روزگار، تحقیق اور بنیادی سہولتوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ علاقائی سلامتی کا ایسا تصور درکار ہے جو دفاعی تحفظ کے ساتھ انسانی ترقی اور اقتصادی خوش حالی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔
پاکستان کے لیے اس حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو سفارتی توازن ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات، ترکیہ کے ساتھ تعاون اور ایران سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ رابطے خطے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے برادرانہ تعلقات کو علاقائی مکالمے کے فروغ کے لیے بھی استعمال کرے اور جہاں ممکن ہو کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں معاونت فراہم کرے۔ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ تنازعات کے پرامن حل، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دینا ایک متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف ہوگا۔ اس طرح پاکستان اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے وسیع تر علاقائی امن کے لیے بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ دفاعی اتحاد صرف اسی وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے مقاصد واضح، فیصلے قابلِ عمل اور رکن ممالک کے درمیان اعتماد مضبوط ہو۔ مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی کے ساتھ قدرتی آفات، اہم تنصیبات کے تحفظ، سائبر خطرات، بحری سلامتی اور ہنگامی انسانی امداد جیسے شعبوں میں تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید دور میں سلامتی کے خطرات روایتی فوجی حملوں تک محدود نہیں رہے۔ توانائی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورک، مالیاتی ڈھانچے اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے اقدامات بھی قومی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔ اس لیے مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد جیسے کسی بھی علاقائی پلیٹ فارم کی افادیت اس وقت زیادہ بڑھ سکتی ہے جب وہ دفاعی تیاری کے ساتھ وسیع تر سلامتی کے تقاضوں کو بھی سامنے رکھے۔
بالآخر مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات مسلم دنیا کے لیے ایک آزمائش بھی ہیں اور اصلاح کا موقع بھی۔ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات نے یہ احساس اجاگر کیا ہے کہ علاقائی ممالک کو اپنی مشترکہ ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے عملی تعاون کی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔ پاکستان اور ترکیہ کا کردار، سعودی عرب کے ساتھ ان کے تعلقات اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا تصور اس سمت میں اہم امکانات پیش کرتے ہیں، تاہم ان امکانات کو پائیدار نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سفارتی بصیرت، باہمی اعتماد اور واضح حکمتِ عملی درکار ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عرب ریاستیں، ایران، ترکیہ، پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک باہمی اختلافات کو کم کرنے، مشترکہ خطرات کی نشاندہی کرنے اور علاقائی امن کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کرنے پر توجہ دیں۔ دفاعی تعاون کو اشتعال انگیزی کے بجائے روک تھام، طاقت کے استعمال کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور رقابت کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اگر مسلم ممالک نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اختلافات پر قابو پا لیا تو وہ نہ صرف اپنی خودمختاری اور سلامتی کو بہتر تحفظ فراہم کر سکیں گے بلکہ گلوبل ساؤتھ میں ایک ذمہ دار، مستحکم اور مؤثر علاقائی شراکت داری کی مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر باہمی تقسیم، بداعتمادی اور مسلسل محاذ آرائی ان کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتی رہے گی اور خطے کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے ثمرات سے محروم رہیں گے۔