کوئٹہ(جہان امروز نیوز )حکومتِ پاکستان نے “ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026” کے تحت ایران تک امپورٹ و ایکسپورٹ کے لیے مختلف ٹرانزٹ راہداریوں کو ٹی آئی آر (TIR) میں شامل کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔
وفاقی وزارتِ تجارت کی جوائنٹ سیکرٹری ماریہ قاضی کے دستخط سے جاری کردہ ایس آر او (S.R.O) کے تحت اب تیسرے ممالک سے ایران تک سامان کی ترسیل پاکستان کے راستے نئی راہداریوں کے ذریعے ممکن ہو سکے گی۔
ان روٹس میں گوادرگبد، کراچی تا تفتان براستہ خضدار و دالبندین، اور گوادر براستہ تربت، ہوشاب، پنجگور اور کوئٹہ سے تفتان تک کی اہم شاہراہیں شامل کی گئی ہیں۔
ایوانِ صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی، سینئر نائب صدر حاجی محمد اختر کاکڑ اور نائب صدر انجینئر میر وائس خان کاکڑ نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیمبر کی جانب سے اس سلسلے میں کی گئی کوششیں رنگ لائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان قانونی راہداریوں کے تعین سے نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بڑھے گی بلکہ پورٹ ہینڈلنگ اور لاجسٹک سروسز کی مد میں قیمتی زرِ مبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
اس اقدام سے بلوچستان میں ویئر ہاسنگ، کسٹمز کلیئرنس اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
تاجر رہنماں نے امید ظاہر کی کہ اس پالیسی پر موثر عملدرآمد سے پاکستان خطے میں ایک اہم ٹرانزٹ معیشت بن کر ابھرے گا اور پاک ایران تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔