ُبیروت ،تل ابیب(انٹرنیشنل نیوز )اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے جاری ہیں جس میں مزید 13 افراد شہید ہوگئے ۔

غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطاب اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پہلی بار لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ فضائی حملہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ پر کیا گیا، جہاں حزب اللہ کا مرکز واقع ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں تصاویر میں بڑے پیمانے پر آگ اور کم از کم ایک عمارت کو شدید نقصان دکھایا گیا ہے۔

بمباری میں لبنان بھر میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے۔اس کے علاوہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر سکسکیہ پر بمباری کی جس میں 5 افراد شہید اور 15 زخمی ہوئے۔

دوسری جانب حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوں نے لبنان کے اندر داخل ہونے والی اسرائیلی افواج پر 17 حملے کیے۔

حزب اللہ کے بیان کے مطابق اسرائیلی فوجیوں اور فوجی گاڑیوں کو قنطرہ، البیاضہ، طیبہ، نقرہ، رشاف اور عیتا الشعب میں ڈرون اور راکٹ حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بیروت میں حملے کیے ہیں جن کا ہدف حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر تھے۔

نیتن یاہو کے مطابق انھوں نے وزیرِ دفاع اسرائیل کتز کے ساتھ مل کر فوج کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر بیروت میں دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر کو نشانہ بنائیں تاکہ اسے غیر موثر بنایا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں نیتن یاہو نے دعوی کیا کہ رضوان فورس اسرائیلی بستیوں پر حملوں اور اسرائیلی دفاعی افواج(آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا طویل ہاتھ ہر دشمن اور قاتل تک پہنچے گا، اور یہ بھی کہا کہ دشمن کے خلاف اسی طرح کارروائی کی جاتی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح کی جائے گی۔

دریںاثناء اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی امور کے رابطہ دفتر کے مطابق لبنان میں انسانی صورتحال جنگ بندی کے باوجود انتہائی غیر مستحکم ہے اور شہری مسلسل جنگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ فضائی حملوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *