کوئٹہ(جہان امروز نیوز) جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلسِ عاملہ اور پارلیمانی گروپ کا مشترکہ اور غیر معمولی اجلاس صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت جے یو آئی کے صوبائی سیکرٹریٹ جناح ٹاون کوئٹہ میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں اراکینِ صوبائی مجلسِ عاملہ، سینیٹرز، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر ذمہ دارانِ جماعت نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے درپیش حالات پر سنجیدہ، مدلل اور جامع غور و خوض کیا۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے مدارسِ دینیہ کے خلاف جاری حالیہ اقدامات،بالخصوص نوٹسز کے اجراء ، بعض مدارس کی بلاجواز تالہ بندی، اور رجسٹریشن کے نام پر عائد کی جانے والی ناروا پابندیوں—کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے دینی، آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا۔

شرکاء نے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ مدارسِ دینیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی دباؤ پر مبنی پالیسی، امتیازی سلوک یا انتظامی جبر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس نے اس امر پر اتفاق کیا کہ دینی مدارس محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اسلامی تہذیب، نظریاتی اساس اور قومی شناخت کے محافظ ہیں، لہٰذا ان کے خلاف کسی بھی اقدام کو پوری حکمت کے ساتھ روکا جائے گا۔

اجلاس میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی، ہمہ جہت اور دور رس حکمتِ عملی ترتیب دی گئی، جس میں قانونی، آئینی، سیاسی اور عوامی سطح پر بھرپور ردعمل کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ اس ضمن میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جماعت ہر فورم پر مدارس کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی اور کسی بھی دباؤ یا مصلحت کو خاطر میں لائے بغیر اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔

اجلاس میں قائدِ جمعیت کے متوقع دورہ? بلوچستان کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں استقبالیہ، تنظیمی نظم و ضبط، عوامی رابطہ مہم اور پروگرامز کی ترتیب کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا تاکہ دورہ بلوچستان کو ہر لحاظ سے کامیاب، مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔تنظیمی امور کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور جماعتی ڈھانچے کو مزید مضبوط، فعال اور متحرک بنانے کے لیے اہم اور بروقت فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جماعت کو نظریاتی، تنظیمی اور عوامی سطح پر مزید مستحکم کیا جائے گا اور کارکنان کے باہمی ربط و نظم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔مرکزی مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے واضح حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔ اجلاس نے اس امر کا اعادہ کیا کہ مرکزی قیادت کے فیصلے جماعت کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی تکمیل و تعمیل ہر سطح پر یقینی بنائی جائے گی۔

اجلاس میں صوبائی، ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی گہری نظر ڈالی گئی اور بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں جماعت کے مؤقف کو واضح، متوازن اور مؤثر انداز میں پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں کیے گئے اہم، کلیدی اور دور رس فیصلوں کو کل منعقد ہونے والے صوبائی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اراکینِ شوریٰ کی توثیق کے بعد انہیں باضابطہ طور پر پریس کانفرنس، اعلامیوں اور سرکلرز کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، تاکہ عوام کو جماعت کے مؤقف اور آئندہ کے لائحہ عمل سے مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔

اجلاس میں صوبائی نائب امیر مولانا کمال الدین، سینیٹر کامران مرتضیٰ، اپوزیشن لیڈر میر یونس زہری، مولانا سرور ندیم، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، مولانا حافظ محمد یوسف، مولانا نظر محمد حقانی، مولانا عبدالرحمن رفیق، حاجی محمد نواز خان کاکڑ، حاجی غوث اللہ اچکزئی، حاجی اصغر ترین، ایم این اے میر عثمان بادینی، حاجی منظور مینگل، میر حسن ساسولی، سید حاجی عبدالواحد آغا، حاجی شکور غیبزئی، خالد ولید سیفی، حاجی دین محمد سیگی، ایم پی اے روی پہوجہ، ایم پی اے سید ظفر آغا، ایڈوکیٹ خلیل پانیزئی سمیت دیگر اراکینِ مجلسِ عاملہ و پارلیمانی ممبران نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *