تحریر : شیراز الطاف ( ذرا ہٹ کے)
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے 80 سال ہونے کو آئے مگر آج تک 25 کروڑ پاکستانیوں کو ایک ایسا سیاسی نظام نہیں مل سکا جس میں قائداعظم کا وژن1سماجی انصاف .2سماجی جمہوریت .3 مساوی مواقع .4 فیئر پلے کی جھلک نظر آئے۔کیا ایک عام پاکستانی کو جو کْل آبادی کا 95ـ90 فیصد پر مشتمل ہے اْس کو حکومت ِ پاکستان سے بنیادی ضروریاتِ زندگی جو اْس کا بنیادی حق ہے تعلیم، صحت ، روزگار ، تحفظ فراہم ہوتا ہے؟ جواب ہے نہیں ! کیا اس کی وجہ پاکستان کا ناکام سیاسی نظام ہے ؟ جی ہاں ! ہاں ! 1 سماجی انصاف .2 سماجی جمہوریت .3 مساوی مواقع .4 فیئر پلے کی جھلک نظر آئے۔کیا ایک عام پاکستانی کو جوکل آبادی کا 95ـ90 فیصد پر مشتمل ہے اْس کو حکومت ِ پاکستان سے بنیادی ضروریاتِ زندگی جو اْس کا بنیادی حق ہے تعلیم، صحت ، روزگار ، تحفظ فراہم ہوتا ہے؟ جواب ہے نہیں ! کیا اس کی وجہ پاکستان کا ناکام سیاسی نظام ہے ؟ جی ہاں ! ہم نے پارلیمانی جمہوریت کو بھی چلا کر دیکھ لیا اور صدارتی نظام بھی 4 بار آزما لیا مگر پاکستانی عوام کے لیے نتیجہ موزوں نہیں رہا۔یہ بات ہمارے زیادہ تر دانشوروں کے علم میں نہیں کہ پاکستان کا پارلیمانی نظام در اصل برطانیہ کے پارلیمانی نظام سے مماثلت نہیں رکھتا کیونکہ اس کی بنیاد ظالمانہ گورنمنٹ آف انڈیا 1935 ایکٹ ہے جس کو قائدِ اعظم نے ٹریٹی آف ورسائی سے تشبیح دیا تھی۔ذوالفقار علی بھٹو کے 1973 کے آئین کا موازنہ اگر آپ گورنمنٹ آف انڈیا 1935 ایکٹ سے کریں تو آپ کے سامنے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ 1935 ایکٹ بھی اشرافیہ کو تحفظ دیتا تھا اور اْن کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا تھا جو کہ انگریز نے اپنا راج برقرار رکھنے کے لیے نافز کیا تھا اور بالکل اسی طرح 1973 کا آئین بھی چند خاندان یعنی اشرافیہ کو ہی تحفظ فراہم کرتا ہے ،نہ کہ ایک عام پاکستانی کو۔آپ کو 1973 کے آئین میں تمام بنیادی حقوق لکھے نظر آئیں گے لیکن کیا فائدہ ان کے لکھے ہونے کا جب اْن پر عمل ہی نہیں ہونا ؟کیونکہ 1973 کے آئین کی بنیاد گورنمنٹ آف انڈیا 1935 ایکٹ ہے لہٰذا ہمارے آئین کا بیشتر حصہ اس ایکٹ سے مماثلت رکھتا ہے ،ہم اپنی جمہوریت کو پارلیمانی جمہوریت کہتے ہیں مگر ہماری عوام بحیثیت مجموعی اس بات سے لا علم ہیں کہ برطانوی پارلیمنٹ اور جمہوریت اور ہماری پارلیمنٹ اور جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔برطانوی حکمرانوں نے یہ گورنمنٹ آف انڈیا 1935 ایکٹ ہندوستان میں موجود عوام پر حکمرانی کے لیے مسلط کیا تھا۔مثلاًبرطانوی پارلیمنٹ کے 90 فیصد نمائندگان فیکٹری ورکرز، اساتذہ ، وکلاء ، خواتین ، لوور مڈل کلاس اور ورکِنگ کلاس عوام میں سے ہیں جبکہ ہماری پالیمنٹ کی حالت ان کے مقابلے میں ناگفتہ بہ ہے یہاں صرف سرمایہ دار، جاگیر دار، وڈیرے اور الیکٹیبلزہی پارلیمنٹ ، صوبائی اسمبلی اور سینٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ آئے دن ہماری پارلیمنٹ میں آرڈینینسز پیش کئے جاتے ہیں جبکہ برطانوی پارلیمنٹ میں آج سے قریباً 300 سال پہلے ایک آرڈینینس پیش کیا گیا جس پر عوام نے اس قدر ناراضگی کا اظہار کیا جو نا قابلِ بیان ہے۔ کرو مَل جس نے یہ آرڈینینس پیش کیا تھا اس کو قبر سے نکال کر 100 سال بعد پھانسی دی گئی۔برطانیہ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا لیڈر اسمبلی کے نمائندے کے لیے ٹکٹ نہیں دے سکتا۔ متعلقہ حلقہ میں پارٹی ایسوسی ایشن لوکل وارڈ ،محلہ لیول پر عوام سے میٹنگز (مشاورت ) کر کے فیصلہ کرتی ہے کہ امیداوار کون ہو گا۔ گورنمنٹ کے ہر منسٹر کے بالمقابل ایک شیڈو منسٹر ہوتا ہے جو گورنمنٹ کے منسٹر کے کسی بھی پراجیکٹ کی فائل منگوا کر اس کو چیک کر سکتا ہے اور اس پر اعتراض کر سکتا ہے۔پولیس اور مجسٹریسی کا نظام لوکل گورنمنٹ کے زیرِ اہتمام ہوتا ہے۔ ہر کائونٹی (تحصیل ) کی اپنی پولیس ہوتی ہے۔ ہر کائونٹی میں 9 کونسلر ، 3 مجسٹریٹ اور 5 نیک نام سماجی لوگوں کی ایک کمیٹی پولیس افسران(کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل) کی تعیناتی کرتی ہے۔ ججز کی تعیناتی کا نظام بھی بہت شفاف اور موثر ہے جس کی بنیاد” میرٹ “ہے15 رکنی جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن (5 جج اور 10 نیک نام سماجی شخصیات) امیدوار بطور جج کا امتحان لے کر اور سابقہ ریکارڈ چیک کر کے گورنمنٹ کو اس شخص کی بطورجج تعیناتی کی سفارش کرتی ہے جس کو گورنمنٹ رد نہیں کر سکتی۔

لہٰذامیری نظر میں پاکستانی پارلیمانی جمہوریت کو برطانوی پارلیمانی جمہوریت سے متشابہ ،مماثل کہنا پارلیمانی جمہوریت کی توہین ہے۔ اسی لیے ہمیں وطنِ عزیز میں موجود پارلیمانی نظام اور آئین کو Revisit اور Review کرنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک صدارتی نظام کی بات ہے کیا ہم ایوب خان کے زمانے کا صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں جس میں تمام اختیارات اْسی طرح ایوب خان کے اِرد رگِرد گھومتے تھے جس طرح فیصل آباد کی تمام سڑکیں گھنٹہ گھر کو رُخ کرتی تھیں یا پھر جنرل یحیٰی ، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی طرح کا صدارتی نظام چاہتے ہیں؟ جواب ہے نہیں۔یا پھر ہم امریکی صدارتی نظام چاہتے ہیں جہاں عوام اپنے صدر سے پریشان ہے اور آئین بے سود ہو چکا ہے جبکہ امریکی صدر ایک شتر بے محار کی طرح اپنے ہی ملک اور دنیا بھر میں آگ لگائے بیٹھا ہے ؟ جواب ہے نہیں۔ہم در اصل ایک ایسے صدارتی نظام کی بات کرتے ہیں جس میں اشخاص یعنی امیدوار برائے قومی اسمبلی،امیدوار برائے صوبائی اسمبلی اور امیدوار برائے سینٹ الیکشن نہ لڑیں بلکہ سیاسی پارٹیز الیکشن لڑیں جو کہ اپنا منشور بیان کریں اپنا پروگرام عوام کے سامنے لائیں اور عوام سے ووٹ لیں۔ اِس ضمن میں یہ 2 پہلو بہت اہم ہیں : .1 سرکاری ٹی وی چینل پر تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کو برابر موقع دیا جائے کہ وہ اپنا منشور بیان کر سکیں ، اور عوام کے سوالوں کیجواب دے سکیں، شہری ودیہاتی عوام۔ .2 ووٹنگ کا عمل صاف و شفاف ہو اور کس پارٹی نے کتنے فیصد ووٹ لیے اس کا تعین متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کیا جائے تا کہ جو پارٹی 35 فیصد ووٹ لے اْس کی نمائندگی بھی ایوان میں ہو اور جو پارٹی 5 فیصد ووٹ لے اْس کی نمائندگی بھی ایوان میں ہو۔اس متبادل سیاسی نظام ” صدارتی نظام مع متناسب نمائندگی ” کے باعث ہماری جلسوں ، بریانیوں ، ایک ایک حلقہ میں 50 کروڑ روپے خرچ ہونے سے اور سرمایہ داروں ،جاگیر داروں ، وڈیروں سے بھی جان چھوٹ جائے گی اس متبادل نظام کے تحت کیونکہ الیکشن میں سرمایہ کاری کا باب بند ہو جائے گا لہٰذا سیاست کاروبار نہیں رہے گی اور خدمت کرنے والے لوگ سیاست میں آپائیں گے
۔چیک انڈ بیلیس کا نظام بہت ضروری ہے جس کے لیے احتساب اور پولیس کے محکموں کا حکومت کے ایوانوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہ ہو گا۔ بیروکریسی کے نظام میں بھی جوہری تبدیلیاں کر کے خدمت کے جذبے سے سرشار افسران کی تعیناتی ممکن ہو پائے گی جن کا مقصد 2 کروڑ روپے کا ڈا لہ لے کر گھومنا نہیں بلکہ غریب عوام کی داد رسی ہوگا۔حیرانی کی بات ہے کہ ہمارے دانشور، مفکر ، تجزیہ نگار ایسے سیاسی نظام کو عوام کے سامنے نہیں لاتے تاکہ مزید غور و فکر کے بعد عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ایک متبادل سیاسی نظام کے ذریعے برائے نام پارلیمانی جمہوریت اور برائے نام صدارتی نظام جو کہ پچھلے 79 سال میں کئی بار آزمائے جا چکے ہیں اْن کو دفن کیا جا سکے۔بقول عوامی و انقلابی شاعر حبیب جالب:
حکمراں بن گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگینے لوگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *